مقالہ خصوصی “پاکستانی سینما پر ایک نئی جہت کی کھوج “جیون ہاتھی”.” از محمد یاسر۔

مقالہ خصوصی.
تحریر : محمد یاسر.
پاکستانی سینما پر چھایا ہوا جمود مسلسل پروڈکشنز اور تسلسل سے فلم ریلیزز سے کسی حد تک چھٹتا جارہا ہے لیکن موضوعات اور پیشکش کے انداز میں اب بھی وہ جدت مفقود ہے جس کی کمی پاکستانی سینما کے پچھلے دور میں بھی محسوس ہوتی تھی ۔
مینو – فرجاد کی “جیون ہاتھی” کے خالق فصیح باری خان ہیں اور نمایاں کاسٹ میں حنا دلپزیر،سیف حسن،سمیعہ ممتاز،فواد خان،کرن تعبیر،عدنان جعفر اور نصیر الدین شاہ شامل ہیں.
“جیون ہاتھی”پاکستانی معاشرے کی کہانی ہے،اس کے کردار و واقعات کسی دوسرے سیارے کی مخلوق نہیں لگتے،اس حوالے سے مصنف فصیح باری خان کا کہنا ہے کہ “فلم کا تعلق عوام سے ہے،تھیٹر کے تاریک ہال میں بیٹھ کر عوام کو تفریح دینا ایک سب سے اہم جزو ہے لیکن اس کے ساتھ ہی فلم کے کرداروں کے ساتھ اُن کا ربط قائم ہونا بھی بہت ضروری ہے،میں امید کرتا ہوں کہ فلم کی واقعات اور کردار ایک جانب فلم بینوں کو محضوظ کریں گے دوسری جانب وہ سکرین پر اپنی اپنی زندگی کا بھی عکس دیکھ سکیں گے”.
“جیون ہاتھی”اپنے موضوع کے لحاظ سے پاکستانی سینما کیلئے ایک خاصی اچھوتی فلم ہے،پاکستان میں میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ کچھ سالوں سے ہر فورم،ڈرائنگ روم اور ڈنر ٹیبلز کا پسندیدہ موضوع بن چکا ہے،سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر آئے دن کسی نہ کسی ویڈیو یا خبر پر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے،”جیون ہاتھی”اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھاتی ہے. ،فلم کی کہانی اور موضوع کے حوالے سے مصنف فصیح باری خان کہتے ہیں کہ”جیون ہاتھی صرف میڈیا کے معاشرے اور فرد پر پڑنے والے اثرات پر ہی بیس نہیں کرتی،کہانی یہاں سے شروع ضرور ہوتی ہے لیکن کہانی آگے جاکر کئی رنگ بدلتی ہے،میڈیا اس فلم کی کہانی کا “جزو”ہے،یہ پوری کہانی کا مرکز نہیں ہے. ”
یعنی کہ ہم سب کے گھروں میں موجود” ایڈیٹ باکس” اور اُس کے آگے بیٹھے ایڈیٹس کے ہجوم کی کہانی؟،اس پر فصیح باری خان ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ “مجموعی طور پر اس فلم میں یہی دکھایا گیا ہے کہ زندگی کی جس ڈور کو انسان نے خود تھام کر رکھنا ہوتا ہے وہ نامحسوس انداز میں ایک ایڈیٹ باکس کے ہتھے چڑھ گئی ہے اور پھر کس طرح انسانوں کے درمیان خون کے،انسانیت کے اور محبت کے رشتے متاثر ہوتے ہیں اور تالی دونوں ہاتھوں سے ہی بجتی ہے لہذا صرف ایک عنصر کو الزام دینا یا ذمے دار ٹھہرانا کس حد تک درست یا غلط ہے”.
“جیون ہاتھی”اپنے موضوع کے لحاظ سے ایک سنجیدہ فلم لگتی ہے لیکن پرومو اور ٹریلر اس خیال کی نفی کرتے ہیں،پاکستان میں یا تو المیہ،طربیہ،رومانوی فلمز بنی ہیں یا پھر قتل و غارت سے بھرپور اور حقائق کی تلخ ترین تصویر پیش کرتی ہوئی جبکہ “جیون ہاتھی”اس حوالے سے انفرادیت لیئے ہوئے ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی”ڈارک کامیڈی”فلم ہے،اس حوالے سے فصیح باری خان نے بتایا کہ “ہاں!پاکستان میں اس سے قبل ڈارک کامیڈی فلم نہیں بنی اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ پاکستان میں اس طرح کی فلم کا میں بنیادی حصہ ہوں،پاکستانی عوام خاص کر آج کا فلم بین میچیور ہے،دنیا بھر کا کانٹینٹ اُس کی فنگر ٹپس پر ہے پھر ایک مصنف،اداکار،ہدایت کار اور پروڈکشن ادارے کو یہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے ناظر کو بیوقوف سمجھنا چھوڑ کر نئی جہتیں تلاش کرنی ہی ہوں گی،”جیون ہاتھی”کئی حوالوں سے تجربہ ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ تجربہ عوامی پسندیدگی حاصل کرے گا،اس فلم میں عوامی تفریح کا بھی خیال رکھا گیا ہے مگر اس بات پر بھی خصوصی توجہ دی ہے کہ فلم کی کہانی کا انٹلیکچوئل فیکٹر نظر انداز نہ ہو,ڈارک کامیڈی کا یہ تجربہ کامیاب رہتا ہے تو پاکستانی سینما پر ناظرین کیلئے ایک نئے فلیور کا اضافہ ہوجائے گا”.
فلم کی موسیقی کا شعبہ ساحر علی بگا کے پاس ہے اور انہوں نے ایک بار پھر بے حد کمال درجے کی موسیقی دی ہے۔
“جیون ہاتھی”زیل زندگی کی پروڈکشن ہے جو پاکستان سے تعلق رکھنے والے کئی مصنفین،اداکار اور ہدایتکاروں کے ساتھ مل کر فلمز بناچکے ہیں جن کی نمائش مختلف فیسٹولز میں ہوچکی ہے،”جیون ہاتھی”پاکستان سے قبل لندن میں ایشیائی فلم فیسٹول میں پیش کی جا چکی ہے جہاں فلم ناقدین اور شائقین کی جانب سے اسے بھرپور پذیرائی ملی،موجودہ پاک بھارت صورتحال اور پھر جیون ہاتھی کے ساتھ تعلق پر مصنف فصیح باری خان کہتے ہیں کہ”بے شک کہنے کی حد تک یہ اُن کی پروڈکشن ہے لیکن کانٹینٹ سے لیکر ڈی او پی اور فلم ایڈیٹر اور سائونڈ تک ہر شعبے میں صرف پاکستانی ٹیلنٹ سے استفادہ کیا گیا ہے،لہذا یہ ہر حوالے سے ایک پاکستانی پروڈکٹ ہے،خوش آئند بات یہ ہے کہ اس طرح پاکستان کے نہ صرف وہ ٹیلنٹڈ افراد مزید ابھر کر سامنے آئے ہیں جو مختلف کام کرنے کے ساتھ ساتھ معیاری کام کو اولیت دیتے ہیں دوسرا اس طرح کے تجربے سے پاکستانی مارکیٹ کو مزید بڑھنے کا موقع بھی مل رہا ہے”.
فلم کا مرکزی کردار حنا دلپزیر نے ادا کیا ہے جو اپنے ٹی وی شو “جیون ہاتھی” کو سب سے کامیاب شو بنانے کیلئے ہر حربہ استعمال کرتی ہیں اورپھر دوسر انسانوں کے “جیون” میں یہ”ہاتھی”(شو) کیا اودھم مچاتا ہے یہ دیکھنے کیلئے کچھ انتظار کرنا ہوگا۔
فلم 4 نومبر 2016 کو عام نمائش کیلئے پیش کی جارہی ہے اگر ہم سب یہ خواہش رکھتے ہیں کہ پاکستانی سینما نہ صرف ترقی کرے،نئے جہانوں کو تسخیر کرے اور انڈین فلمز کی پاکستان میں عام نمائش پر ہی جو”پاکستانیت”ہمارے اندر جاگتی ہے تو پھر اتنی ہمت ہمیں کرنی ہوگی کہ جیون ہاتھی جیسی فلمز کو گھر کے اندر بیٹھ کر واہ واہ نہ کریں بلکہ گھر سے نکل کر ایک بار تھیٹر میں ضرور دیکھیں ۔