ڈرامہ ریویوو: ”اس معاشرے کے بکھرے موتیوں کے نام“۔۔بکھرے موتی از محمد یاسر۔

”اولاد“عجیب شے ہے،خدا کی رحمت،نعمت،معجزہ،انمول اور آزمائش۔
ہمارے ملک میں خدا کی رحمت پر ازحد یقین کیا جاتا ہے،ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے البتہ خدا کی رحمتوں کے ساتھ جو ہم سلوک کرتے ہیں اس پر ہم بات اس لئے بھی نہیں کرتے کہ یہ بڑے ظرف کا کام ہے اور پاکستان میں کم ظرف تو ہر گھر ہر گلی ہرچوک پر ہیں۔
ایڈیسن ادریس مسیح کا سیریل ”بکھرے موتی“ اس بات کا ہی آغاز ہے،ایک ایسے معاشرے کے بچوں کیلئے اٹھائی جانے والی آواز کہ جہاں گولی،گالی،بھوک،افلاس،غربت،مشقت اور جنسی استحصال سے ہی ”پھول“ پتی پتی بکھیرے جاتے بلکہ کتے کے کاٹنے سے کتے کی موت بھی بچے ”مارے“ جاتے ہیں اور ہم اسے ”اللہ“کی رضا کہہ کر خدا کے قہر کو آوازیں دئیے جاتے ہیں۔
”بکھرے موتی“ کی پہلی قسط تعارفی ہونے کے باوجود بہت ساری گرہیں کھول گئی ہے،یہ ایڈیسن کا انداز ہے کہ وہ کہانی شروع ہی وہاں سے کرتا ہے کہ جو کہانی کا ”Mid“کہلاتا ہے اور یہی انداز ناظر کو Hookکرلیتا ہے،فائزہ (نوشین شاہ)سے کہانی کا آغاز کئے جانا اور صرف چار سینز میں ہی اُس جہنم کامکمل عکس دکھا دینا جو فائزہ اور اُس کے بچوں کی زندگی ہے اور جو زلفی(یاسرنواز) سے زیادہ باپ (وسیم عباس) کی مردانہ جہالت اور شمسہ (شائستہ جبیں) کی بے بسی کی مرہون منت ہے،فائزہ جو ذہین بھی تھی اور نازک محبت والی بھی اب ماریں کھاکھاکر تلخی کا مسخ شدہ مجسمہ بن چکی ہے تو دوسری جانب عائزہ ہے جو اینٹ کا جواب دیوار گرا کر دینے پر یقین رکھتی ہے،اُس کی زندگی میں عبد الاحد(وہاج علی) بھی ہے،صحیح اور غلط کا فرق بھی،عزت نفس بھی اور اس پر ضرب لگانے والے کا ہاتھ روک کر منہ توڑنے کی ہمت بھی اور دوبہنوں کا یہ Contrastاچھا لگتا ہے۔
کیمرہ ورک لاجواب تھا،سینز کی ٹیکنگ اور فریمنگ بہت عمدگی سے ہوئی ہے بالکل ویسے ہی جس طرح حرف بہ حرف اسکرپٹ میں لکھی ہوئی تھی اور یہ کسی بھی رائٹر کی فی زمانہ سب سے بڑی خوش بختی ہے،نیلم منیر،یاسر نواز،ثمینہ احمد،وسیم عباس نے بہت عمدہ اداکاری کا مظاہرہ کیا،وہاج علی نے ایک بار پھر اپنے Wooden actorہونے کی لاج نبھائی،شائستہ جبیں ہرگز متاثر نہ کرسکیں،اپنی روئی کی طرح دھنکی ہوئی اولاد کو ہزارویں بار بھی زخم زخم دیکھ کر بھی ماں کبھی ”عادی“ نہیں ہوسکتی،وہ ویسے ہی تڑپ کر،بلک کر اولاد کو لپٹاتی ہے جب پہلی بار اپنی اولاد کو لہو زدہ دیکھتی ہے اور شائستہ ماں کی وہ تڑپ اور اذیت دکھانے میں قطعی ناکام رہیں۔
پہلی قسط ہر لحاظ سے نوشین شاہ کے نام رہی،اذیت اٹھا اٹھاکر اپنی آنکھیں ویران اور زبان پر کانٹے اگالینے والی لڑکی کو نوشین نے جیسے اوڑھ لیا ہے،تلخی سے نوشین نے جس خوبصورتی سے ”ہاں صبح ناشتہ کیا تھا اور دن میں مار کھائی تھی“ ادا کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی،امکان ہے کہ فائزہ کا کردار آگے جا کر مر جائے گا لیکن نوشین کی اتنی بھرپور اداکاری دیکھ کر دل چاہ رہا ہے کہ فائزہ زندہ رہے۔
کاٹ دار مکالمے اس قسط میں خاصے کی چیز تھے مگر ابھی تو ”بسم اللہ“ ہے،یہ اندازہ بخوبی ہوچکا ہے۔
ڈراما رائٹر کا میڈیم ہے یہ بہت عرصے کے بعد ”بکھرے موتی“ سے ثابت ہوچکا ہے اور جب رائٹر کو”سوچنے“ اور ”لکھنے“ کی آزادی ہو اور یہ حق وہ اعتماد سے نبھائے تو پھر بہت تکنیکی اعتبار سے مضبوط اور Thought provokingسیریل ضرور ملتا ہے۔
فائزہ کا کیا ہوگا؟،زلفی پر بیوی کی حالت کا کوئی اثر ہوگا؟،جن اولادوں کو وہ دنیا میں لانے کا ذمے دار ہے کیا اپنی اولادوں کا یوں بے دردی سے ٹوٹنا اور بکھرنا زلفی پر کوئی اثر ڈالے گا؟،عائزہ اور عبد الاحد کی محبت کیا کوئی انجام دیکھے گی یا پھر ادھورا موڑ دے کر ہی اسے چھوڑنا پڑے گا؟ یہ جاننے کیلئے ”بکھرے موتی“ کی دوسری قسط کا انتظار ہے۔