ڈرامہ ریویو : “انسانی المیئے کی عکاس” دھند کی تیسری قسط

تحریر و تبصرہ : محمد یاسر.
انڈوپاک کی انسانی تاریخ جن انسانیت سوز روئیوں اور جنونیت کے ہاتھوں احساس کے چیتھڑے اڑاتے واقعات سے اٹی ہوئی ہے اسی راکھ میں دبی ہوئی چنگاری کی ایک جھلک اس قسط میں موجود تھی, سوگھندا اور محمود سے شروع ہونے والا یہ درد کا سفر سکینہ اور احمد جو بعدازاں ردا اور زین تک دراز ہوا اور تاحال سلسلہ ٹوٹا نہیں درد سے زنجیر کا.

پارٹیشن سے قبل سوگھندا اور محمود کی محبت جو ستر سال بعد بھی تکمیل کے بجائے روحوں کی صورت بھٹک رہی ہے,جنہیں ہندو اور مسلم ہونے کی سزا دی گئی تھی ستر سال بعد بھی اس بات پر حیران ہیں کہ پاکستان میں ہندو مسلم کے بجائے یہ قتل و غارت شیعہ سنی کی بنیاد پر ہورہا ہے,سکینہ اور احمد کے گھر سے فرار ہوجانے پر ردا اور زین جن کا آپس میں سوائے انسان ہونے کے کوئی دوسرا ناطہ کوئی تیسرا تعلق اور کوئی چوتھا محبت کا رشتہ نہیں ہے اور جو فرقہ پرستی کے جوش اور خود کو ایمان کے اونچے درجے پر فائز ہونے کی خوش فہمی کی بھینٹ چڑھ گئے.

حدیث مبارکہ ہے کہ جو مسلمان کسی کلمہ گو کو کافر کہے اُسے ازسر نو خود اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیئے تو اس حدیث کی رُو سے ملک عزیز میں بلی چڑھ جانے والے انسان کسی مسلمان کے نہیں بلکہ کافر کے ہاتھوں جان گنواتے ہیں.

المیہ سا المیہ ہے کہ ہمارے یہاں ان حساس معاملات کو “حساس “ہی کہہ کر گول کردیا جاتا ہے,دبا دیا جاتا ہے تاوقتیہ کوئی اور تصادم کچھ اور جانیں نہ کھا جائے اور تب بھی یہ امر تسلیم کرنے کی ہمت خود میں پیدا نہ ہوسکے کہ جی ہاں جان لیوا نادیدہ سفید ہاتھی ڈرائنگ روم میں بیٹھا ہے اور مزید جانیں نگلنے کا منتظر ہے.

صد شکر کہ سر احمد نے بے حد خوبصورتی اور حساسیت کے ساتھ اس اہم قاتل معاملے کو لکھا اور چینل نے اسے پیش کرنے کی جرائت کی. خصوصیت سے جو چیز مجھے بہت اچھی لگی وہ اس ایک اہم نقطے کو اٹھاتے ہوئے ہمارے معاشرتی روئیے کی جانب اشارہ ہے جو ایسے کسی بھی قتل پر یہ فیصلہ صادر کرتا ہے کہ مرد و زن یقینا آپس میں غیر اخلاقی تعلق میں بندھے ہوں گے جبکہ حقیقت میں ردا اور زین جیسے انسان “انسانی ستم ظریفی” کا لقمہ بن جاتے ہیں .

دوسری جانب ماریہ عمران (ماریہ واسطی)  کی زندگی میں ارجمند (انجلین ملک )کی آمد ہوچکی ہے جو کہ ماریہ کے شوہر عمران کی پہلی بیوی ہے اور جو مُصر ہے کہ عمران مر چکا ہے اور فواد بھی یہی نہیں وہ واضح طور یہ بات بھی کہہ دیتی ہے کہ ماریہ کو فواد نہیں مل سکتا کیونکہ عمران نے اُس کی بیٹی نینی کے ساتھ جو سلوک کیا یہ اُس کی سزا ہے.

ماریہ کے پاس نانا سید کے ہمراہ وہ بھٹکی ہوئی ارواح اکھٹی ہوکر اُسے ہمت دلاتی ہیں کہ وہ ہاتھ کھڑے نہ کرے بلکہ استقامت سے جو بچ گئے ہیں انہیں بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے.

ایک اور بات بھی قابل تذکرہ ہے کہ ماریہ کے انسپیکٹر عذیر کو ہونے والے قتل کے بارے میں آگاہ کردینے کے باوجود وہ وقوعہ پر چند منٹ تاخیر سے پہنچے یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے.

سر احمد نے جیسا کہ میں نے کہا اس قسط میں ایک قاتل معاملے کو بناء کسی پر فرد جرم عائد کئے کسی آئینے کی طرح اٹھا کر سامنے رکھ دیا ہے,شائد انسانی المیئے کو اس سے بہتر بیان کیا ہی نہیں جاسکتا,”دھند” کے بارے میں میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ یہ کہانی خود ہی سوال اٹھاتی جاتی ہے اور خود ہی جواب بھی دیتی جاتی ہے اب چاہے تو ناظر سوچ کا دھارا بدل لے یا پھر چینل.
مکالمے بہت معنی خیز تھے ملاحظہ ہو.
“محمود : دیکھ لے اپنے جیسا ہی حال ہے ان دونوں کا.”
” سوگھندا : لیکن یہ دونوں تو مسلے (مسلمان) ہیں.”
“محمود : پر مانتے نہیں کافر بولتے ہیں ایک دوسرے کو لیکن تُو واپس کیوں چلی آئی چھلا اتار کر بھاگی تھی نا.”
” سوگھندا: پریم کی زنجیر جیادہ(زیادہ) مجبوت (مضبوط) ہوتی ہے سالی ٹوٹتی ہی نہیں تُو روتا رہ اپنے دھرم کو میں روتی رہوں گی اپنی تقدیر کو لیکن ان دونوں کا کیا ہوگا”.
” محمود : مارے جائیں گے اور کیا.”
” سوگھندا : مومی کہتا ہے کہ وہ دونوں مارے جائیں گے اور میں کہتی ہوں انہیں مرنے نہیں دوں گی”. “ماریہ : کون دونوں” .
” سوگھندا : وہی جو مسلے (مسلمان) ہیں بھی اور نہیں بھی”.

کچھ بہت چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسا کہ ریڈیو پاکستان سے ریل کے مسافروں کے بارے میں بُلیٹن,سوگھندا اور محمود کی نٹ کھٹ بات چیت جو بار بار خون آگہیں ہوجاتی ہے آنکھیں بھگو گئیں.
البتہ مسٹری کا عنصر اس قسط میں قدرے کم رہا جو کسی حد تک موضوع کی ڈیمانڈ گردانا جا سکتا ہے اور ہر قسط کو یکسانیت کا شکار بھی کرسکتا ہے مگر چونکہ بنیادی طور پر یہ ایک مسٹری تھرلر ہے لہذا اس کی کمی بہرحال محسوس ہوئی,کیمرہ ورک کے ساتھ ساتھ لوکیشن اور Ambiance کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی,پرانا گھر جہاں سوگھندا اور محمود کی روحیں قیام پذیر ہیں Delight Camera گھر رہا.

ماریہ اور انجلین ملک نے کمال چہرے کے تاثرات دئیے, البتہ ردا,زین اور محمود کے کردار ادا کرنے والے اداکار کافی سے زیادہ کمزور رہے,گُمان گزرا کہ صرف مکالمے دہرارہے ہیں اور بس بناء کسی جذبات کے کسی روبوٹ کی طرح,حالانکہ جس قسم کے چبھتے ہوئے نوکیلے خنجر ان کو دئیے گئے تھے وہ مکالمے معاشرے کا منافق چہرہ تار تار کرسکتے تھے,البتہ کرسٹین اس قسط کی ملکہ رہیں, شُدھ ہندی لب و لہجے کے ساتھ سوگھندا کو انہوں نے اوڑھ لیا,سر احمد ایک ہی منظر میں آئے اور باوقار نظر آئے رہیں زاہدہ بتول تو اُن کا کردار نسرین آپا میرا بہت فیورٹ بنتا جارہا ہے اور جس قدر معصومیت سے زاہدہ یہ کردار کررہی ہیں وہ بہت ہی خوب ہے

فیض کی ہدائتکاری کو مذکورہ قسط کے لحاظ سے اضافی مارکس اس لئے ملنے چاہیئیں کہ سلگھتے انگارے کو خوشنما پھول کی صورت پیش کرنے میں وہ بہرطور کامیاب رہے بس اُن تین نئے اداکاروں کا انتخاب کچھ ٹھیک نہیں رہا مگر دلچسپی کا عنصر برقرار رہا. ماریہ اپنے بیٹے کے حصول کیلئے کن کن مراحل سے گزرے گی اور اس سلسلے میں کون کون سے پینڈورا باکسز کھلیں گے یہ تو آنے والی اقساط میں ہی پتا چلے گا.