ڈرامہ ریویو : بے حد عُمدگی سے ذہن پر چھائے سوالات کی دھند کو صاف کرتی ہوئی “دھند” پہلی قسط از محمد یاسر.

تحریر و تبصرہ : محمد یاسر.
“بعض چیزیں کچھ اس انداز سے دل و دماغ پر اپنا نقش ثبت کرتی ہیں کہ انسان کچھ دیر کیلئے اُن کے اثر سے باہر نہ آنے کی خواہش کرنے لگتا ہے اور یہ ایک فطری رد عمل کے طور پر ہوتا ہے,کچھ ایسی ہی مبہوت زدہ کیا “دُھند” نے. پاکستان میں سالوں بعد ایک بار پھر پُر تجسس اور پُر اسرار کہانی کا ایک سلسلہ “دھُند” کے ذریعے شروع کیا گیا ہے لیکن قابل ذکر اور تحسین امر یہ ہے کہ “دُھند” کی کہانی کا تانا بانا اسی زمین, جس کے ہم باسی ہیں,سے جڑا ہوا ہے,مافوق الفطرت کرداروں اور اُن کی غیر فطری حرکات و سکنات ,بیک گرائونڈ میوزک اور چہروں کے بناوٹی خوفزدہ تاثرات سے مکمل اجتناب برتتے ہوئے کہانی اور اُس کی جزئیات پر بھرپور توجہ دی گئی ہے . 
ماریہ عمران (ماریہ واسطی) انٹریئر ڈیزائنر ہے جس کا شوہر عمران اور بیٹا فواد بارہ سال سے لاپتا ہیں,پولیس کوئی سراغ لگانے میں ناکام ہوکر معاملہ یہ تصور کرکے ختم کرچکی ہے کہ وہ دونوں زندہ نہیں ہیں مگر ماریہ اس بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور نانا سید (محمد احمد) اُن دونوں کے زندہ سلامت ہونے کی یقین دہانی ماریہ کو کرواتے رہتے ہیں,نانا سید خود مُردہ ہیں اور صرف ماریہ سے ہی ہم کلام ہوسکتے ہیں.کیا کیوں کیسے یہ فی الحال بھید ہے.


  ماریہ کو نہ صرف وژن ز آتے ہیں بلکہ وہ مردہ انسانوں کو دیکھ اور سُن بھی سکتی ہے لیکن خدا کی جانب سے ودیعت کردہ اس صلاحیت سے وہ خوفزدہ بھی ہے اور شکوہ کناں بھی اور نہ ہی وہ اس سے کسی قسم کا دنیاوی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے,سپیشل انویسٹیگیشن برانچ کے عذیر(حسن احمد) کو ماریہ کی اس صلاحیت کے بارے میں علم ہوتا ہے تو وہ ماریہ سے کچھ کیسز میں مدد لینے کیلئے ایک ڈیل ماریہ کے سامنے رکھتا ہے کہ ماریہ اگر اُس کی مدد کرے تو وہ اُس کے شوہر اور بچے کا پتا ہر ممکن طور پر لگائے گا,جہاں آراء ماریہ سے ہمکلام ہوتی ہے اور کسی کی زندگی بچانے کیلئے زور دیتی ہے مگر ماریہ اُس مردے کے بجائے عذیر کی بات مانتی ہے.

وقاص (اسد صدیقی) ایک ڈرامہ ایڈیٹر ہے اور ایک مسٹری سیریل کی ایڈیٹنگ کے دوران وہ بھوت پریت اور بھٹکی روحوں کا مذاق اڑاتا ہے,ایڈیٹنگ کرتے ہوئے وہ ڈرامے کے ایک کردار (ثناء عسکری) کے مکالمے پر ٹھٹکتا ہے,رات اپنے کمرے میں وہ سکون سے سو نہیں پاتا,
وہ کھوج کے ہاتھوں مجبور ہوکر اشاروں کا پیچھا کرتے ہوئے اُس قبرستان بھی جاتا ہے جہاں ایک قبر پر خود اُس کا کُتبہ تاریخ وفات کے ساتھ لگا ہوتا ہے,
رونق آراء (ثناء عسکری) مجسم حالت میں اُس کے سامنے آن کھڑا ہوتی ہے اور اپنے بارے میں اُسے بتاتی ہے کہ ڈیڑھ سو سال سے وہ بھٹک رہی ہے (یہاں بھٹکتی روحوں کے حوالے سے عمومی انسانی رویہ او ر اقدام خودکشی کرنے والوں کے المیئےکو کہانی میں اجاگر کرکے ایک انتہائی اہم نقطے کو زیر نگاہ لایا گیا ہے),
آخر کار وقاص کی موت واقع ہوجاتی ہے اور پھر وقاص کی روح ماریہ کو دکھائی دیتی ہے جو ماریہ سے مخاطب ہوکر اُسے چیلنج دیتی ہے.

پہلی قسط ہی بے حد بھرپور ثابت ہوئی,جیسا کہ میں نے کہا کہ تجسس اور اسرار کو پیدا کرنے کیلئے کسی قسم کا مصنوعی ایفیکٹ شامل نہیں کیا گیا بلکہ یہ کہانی ہے جو ہر منظر کے دوران متجسس ہوتی جاتی ہے اور ہر منظر کے اختتام تک ناظر کو پلکیں جھپکنے نہیں دیتی.

سر محمد احمد ایک کُہنہ مشق نام ہیں,سکرپٹ اور کہانی کے استاد,جس مشاقی اور مہارت سے انہوں نے کہانی بُنی اور جس حقیقی انداز میں انہوں نے پہلے ہی سین کے پہلے ہی مُکالمے سے پانسا پھینکا ہے اور پانسہ پلٹا ہے اس پر مجھے ہرگز حیرت نہیں ہوئی,سر سے توقع ہمیشہ بہترین سکرپٹ کی ہوتی ہے اور وہ عادی ہیں توقعات پوری کرنے کے. مُکالمے بے حد اثر انگیز,آسان و شُستہ مگر بے حد معنویت لئے ہوئے ہیں.
“نانا سید : مجھے زندہ لوگ نظر نہیں آتے سوائے تمہارے”.
“ماریہ :  میں کونسی زندہ ہوں.”
” رونق آراء :  موت نظر آتی ہے نہ خوشبو بس محسوس ہوتی ہے جیسے تمہیں محسوس ہوئی”.
” ماریہ : میرے ہزبینڈ زندہ ہیں میں اچھی طرح جانتی ہوں.”
” عذیر : آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں”.
” ماریہ :  اگر وہ زندہ نہ ہوتے تو مجھے دکھائی ضرور دیتے.”
“وقاص : میری ماں بھی مجھے ڈھونڈے گی جیسے آپ اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہی ہیں لیکن وہ بھی آپ کو نہیں ملے گا کیونکہ آپ بھی یہاں ہیں اور میں بھی”.
سالوں بعد ایک ایسی کہانی دیکھنے کو ملی ہے جس میں کہانی ازخود سوال اٹھارہی ہے اور خود ہی جواب بھی دے رہی ہے بے حد صفائی,بے حد خوبصورتی سے بناء کسی تقریر اور فلسفے کے جیسا کہ یہ منظر,
“رونق آراء : کس بات سے ڈر رہے ہو موت سے یا یقین سے “.
” وقاص : موت برحق ہے اور موت کے بعد انسان صرف قیامت کے روز ہی زندہ ہوگا .”
“رونق آراء : اور وہ لوگ جو مجبوری میں جان دے بیٹھے جن کی نہ نماز ہوئی نہ دعا نہ فاتحہ.”
“وقاص : خود کشی کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے”.
“رونق آراء : چاہے خودکشی اپنی عزت پامال ہونے سے بچانے کیلئے کی جائے ,چاہے کسی کی زندگی بچانے کیلئے کی جائے ,چاہے اسی میں بہتری ہو.” “وقاص : چاہتی کیا ہو تم.”
“رونق آراء : اک نماز,اک دعا,اک فاتحہ.”
یہ ذہن میں رہے کہ ڈیڑھ سو سال قبل 1857 میں انگریزوں کے خلاف ہندوستان میں ہوئی جنگ میں ہزارہا عورتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا تھا,رونق آراء اُسی گزرے ہوئے “ماضی” کا ایک تکلیف دہ” حال” ہے اور ساتھ ہی یہ مکالمے سوچ کی ایک نئی کھڑکی بھی کھولتے ہیں کہ ان بھٹکی ہوئی روحوں سے بچائو کیلئے پیر فقیر کے بجائے ہم اہتمام فاتحہ کرلیں تو شائد ان بھٹکی روحوں کو کہیں قرار میسر آجائے.

بات لائٹنگ کی ہو تو کہنے میں کوئی عار نہیں کہ محدود وسائل میں اتنا عمدہ کام کرنا مشکل ہے,ڈارک اور بلیو شیڈز کہانی کی اثرانگیزی کو بڑھاتے ہیں تو Ambiance جس طرح کا متقاضی تھا اُس نے دوآتشا کا کام کیا اور سونے پہ سُہاگہ ڈی او پی,خلیل احمد,نعمان,احمد علی چاند اور ماجد کی اعلی ترین کارکردگی کو نہ سراہنا بڑی زیادتی ہوگی.

ماریہ واسطی نے سالوں بعد پھر کمال کردکھایا,آواز و لہجے کا زیر و بم,چہرے کے تاثرات کے ساتھ ساتھ آنکھوں اور ہاتھوں کا استعمال ماریہ نے میدان مارنے کیلئے بخوبی کیا خاص کر وہ منظر جب ایک جانب سے جہاں آراء کی آواز سنائی دیتی ہے اور وہ آواز کے منبع کی جانب دیکھتی ہیں ماریہ نے بہت بہت بہت عمدہ ایکسپریشنز دیئے,حسن احمد ٹھیک رہے,ثناء عسکری اور اسد صدیقی نے ایک بار پھر میلہ لوٹ لیا,ثناء نے ایک پیچیدہ کردار کو خوبصورتی سے اوڑھا اور اسد بھی اپنے سنجیدہ کردار میں خوب رہے,احمد صاحب نے دو مناظر میں چھب دکھلائی اور چھاپ چھوڑ گئے.

وقاص ایک بھٹکی روح بن کر ماریہ کیلئے کیا مشکلات کھڑی کرے گا,ماریہ کو شوہر اور بیٹے کا سُراغ مل سکے گا, جہاں آراء کون ہے نانا, سید ماریہ کی کس حد تک مدد کرسکیں گے اور کیا پولیس اور عذیر ماریہ کیلئے کچھ کرسکیں گے مزید ماریہ روحوں اور زندہ انسانوں کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتے ہوئے اور کن کن چیلنجز کا سامنے کرے گی ان سمیت کئی اور اہم سوالات آنے والی اقساط میں اٹھیں گے جس کیلئے انتظار کرنا ہوگا, اگر آپ ایک سٹیریو ٹیپیکل اور میلوڈرامیٹک سے ہٹ کر کچھ بہت مختلف بہت مکمل سا اور بہت دل چھولینے والا دیکھنا چاہتے ہیں تو “دُھند” ایک لاجواب انتخاب ہے.