ڈرامہ ریویو : دھند – بے حسی اور منافقت کی دھند کیسے چھٹے گی؟۔

تبصرہ : محمد یاسر.
پاکستانی معاشرہ ہو اور اپنی اپنی بانُسری اپنا اپنا راگ نہ ہو یہ کیسے مُمکن ہے، احساس، مروت، اخلاص اور انسانیت وہ اجزاء ہیں جن کے معیار اس معاشر ے کے افراد دوہرے ہی رکھتے ہیں،غیرت تو خیر ایک ایسا لفظ ہے جو کافر کے بعد سب سے زیادہ استعمال ہونے لگا ہے،اس کی حیثیت بالکل وہی بن گئی ہے جو کسی زمانے میں خونی رشتوں کی ہوا کرتی تھی یعنی زبان سے ادا ہونے والا، ٹوٹا پھوٹا،لڑکھڑاتا،تُتلاتا ہوا پہلا لفظ کسی خونی رشتے کا ہی ہوتا تھا،اسی طرح آج کل دو الفاظ کافر اور بے غیرت فتوے کی طرح زبان سے نکلنے لگے ہیں واضح و واشگاف اور یہ کیا کیا توڑ ڈالتے ہیں،کون کون سی شے لڑکھڑا جاتی ہے اس کی فکر کسے ہے؟۔

رقص کتابوں میں اعضاء کی شاعری اور ہمارے یہاں حقیقت میں غیرت کا جنازہ ہے،اب چاہے اس جنازے کو دھوم دھام سے نکالنے کیلئے کوئی نیٹ پر اپنی راتیں کالی کرتا پھرے یا ہزاروں روپے کا ٹکٹ خرید کر Front Seat پر نظارہ لے, یا کوئی شادی تیل مہندی رقص کے بغیر ادھوری ہو لیکن رقص گندا ہی ہے.

صلہ ایک کتھک رقاصہ ہے اور اُس کی ماں نے اُسے باقاعدہ رقص کی تعلیم دلوائی ہے,ماں کو اپنے دوسرے شوہر کی نیت کا اندازہ ہے چنانچہ مرتے ہوئے وہ اپنی تمام جائیداد اور فلیٹ صلہ کے نام کرجاتی ہے,صلہ کے سوتیلے باپ اور بھائی کی غیرت صلہ کے رقص اور آرٹ کو گوارا نہیں کرتی اس لیئے وہ صلہ کو آدھی رات گھر سے نکال کر غیرت مند ہونے کا ثبوت دیتے ہیں نتیجتا انہیں صلہ کی جانب سے فلیٹ چھوڑ دینے کا نوٹس مل جاتا ہے,اس اثناء میں باپ ایک نادیدہ قوت کے زیر اثر دنیا چھوڑ دیتا ہے اور بیٹا ایک کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کرلیتا ہے تاکہ اپنی لالچ,غرض اور بے غیرتی پر غیرت کا پردہ ڈال سکے.

سر احمد نے بہت خوبصورتی سے اس معاشرے کے دوغلے پن کو موضوع بناتے ہوئے ایک اہم نقطہ اٹھایا, ناچ گانا,مصوری آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی وقت کا زیاں, اخلاقی تباہی اور میراثی پن گردانا جاتا ہے بلکہ حد تو یہ ہے کہ لٹریچر تک کی کوئی حیثیت نہیں ادیب تک کو آج بھی شعبدہ باز اور جھوٹی کہانیاں گھڑنے والا سمجھا جاتا ہے.

غیرت کے نام پر قتل پچھلے کچھ سالوں میں تیزی سے ترقی کرنے والا فعل ہے جس پر جتنی بھی بات ہو کم ہے,شرم کا کیا ہے وہ تو آتی دکھائی نہیں دیتی البتہ غیرت ایسی نازک شے ہے جو ہر عمل سے خطرے میں گھِر گھِر جاتی ہے اور جو اگر افراد کے ایک ہاتھ میں گالی اور دوسرے میں گولی ہو اور ان دوں کے بے دریغ استعمال پر کوئی پوچھنے والا, کوئی ٹوکنے والا اور کوئی منصفی کرنے والا نہ ہو تو بس پھر اللہ دے اور بندہ لے والا معاملہ ہے.

لالچ,قبضہ,دھوکہ جرم نہیں ہے,جان لے لینا ظلم نہیں ہے جرم اور ظلم ہے تو رقص, تحریر, مصوری.
احمد سر نے مجرے اور شُدھ رقص میں فرق کو بھی بہت عمدگی سے سمجھانے کی کوشش کی,کرداروں کی بُنت اور اُن کی سائیکی بہت تفصیل سے بہت چھوٹی چھوٹی باتوں سے واضح کی جو آج کل ڈراماز میں عنقاء ہے,منطق کے بغیر کوئی بھی کردار منہ اٹھا کر کچھ بھی کر گزرتا ہے.

دوسری جانب نسرین کی جان نکالنا نانا سید نے نہیں چھوڑا. مکالمے سادہ اور پُر اثر رہے,نسرین اور دوسرے ملازم کے درمیان مکالمے چٹخارے دار بھی تھے اور برجستہ بھی.
الماس فدائی نے بہت خوبصورتی سے اپنا کردار ادا کیا,اُن کی مکالموں کی ادائیگی ایسی رہی جیسے لفظ شاعری کررہے ہوں,بناوٹ سے پاک جیسے کوئی روزمرہ میں بات چیت کرتا ہے,رقص والے مناظر میں بھی وہ ایک ماہر رقاصہ دکھائی دیں,

ارسلان فیصل اور آغا شاہد بھی اچھے رہے, ماریہ اور حسن احمد ایک ایک منظر میں ہی آئے اور اچھے رہے,نانا سید بھوت نہیں ہیں وہ واقعی بڑے ہی Cute نظر آئے (ویسے نانا سید جیسا Cute کردار ہونا چاہیئے ہر گھر میں 😁). نسرین کے روپ میں زاہدہ بتول ہمیشہ کی طرح چھائی ہوئی رہیں گلاب جامنوں کی خالی پلیٹ دیکھ کر اُن کی آنکھوں کا ابل آنا اور حیرت سے “ہیں” کہنا واہ واہ.

 فیض کی ہدایت کاری فُل مارکس کی متقاضی ہے, Ambiance کو اس قدر خوبصورتی سے شوٹ کرنا,فنکاروں سے عمدہ کام لینا اور سب سے اہم لائٹنگ اور سیٹ کی جزئیات کو جادوئی انداز میں پیش کرنا. سیٹ ڈیزائن اس سیریز کی نمایاں خصوصیت ہے,سادہ,پُر اثر اور آرٹسٹک.

صلہ کا قتل کس طرح اُس کے بھائی کو بھاری پڑے گا اور ماریہ اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کرسکے گی یہ تو اس کہانی کے اگلے حصے میں ہی پتا چلے گا لیکن ایک بات تو یقینی ہے کہ سلگھتے معاشرے کے انگاروں کو ایسی ہی دھند کی اشد ضرورت ہے.