ڈرامہ ریویو “دھند” : مرینہ خان کی شاندار واپسی.

تحریر و تبصرہ : محمد یاسر.
آخاہ!مرینہ خان,کون ہے جو اردو ڈرامہ سے شغف رکھتا ہو اور سنیعہ احمد,زویا علی خان,روشن آراء کے سِحر سے بچ سکا ہو,وہ جب جب جس جس کردار میں بھی آئیں نقش دل و دماغ پر چھوڑ گئیں, شرارتی انداز,نٹ کھٹ لب و لہجہ,بچوں کی سی معصومیت اور دل دہلادینے والی سنجیدگی ,مرینہ خان وہ ستارہ جو طلوع ہوا تو آج سالہا سال گزرنے کے بعد بھی درجن بھر سے زائد نئے چہروں کے آجانے کے باوجود کوئی ایک ایسا چہرہ نہیں جو مرینہ نامی ستارے کو گہنا سکے اور یہ کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ اس ستارے کیلئے سالوں سے کوئی کردار ہی تخلیق نہ ہوا,بالوں میں چاندی آجانے سے کیا فنکار کے فن کو بھی گُھن لگ جاتا ہے؟.

سر محمد احمد اور ٹیم دھند کا شکریہ کے وہ اس درخشاں ستارے کو دوبارہ سکرین پر لائے اور کیا خوب لائے۔
حمیرا آنٹی (مرینہ خان) ماریہ (ماریہ واسطی) کی پھوپھی ہیں اور وہ گھر تبدیل کرنے سے پہلے ماریہ سے باقاعدہ تصدیق کرواتی ہیں کہ اُن کے علاوہ اُس گھر میں کوئی نہیں رہتا،مگر بُرا ہو اُس سو سالہ پُرانی کُرسی کا.

جو اٹھارہ سال قبل فوت ہوجانے والے بیرسٹر حشمت علی خان (عابد واڈیا) کے استعمال میں تھی اور اب وہ کُرسی اُن کی روح  کا جزو بن چکی ہے,حمیرا آنٹی اُس کُرسی کو خرید کر گھر لے آتی ہیں اور اُس کے بعد. وہ سب خاصے کی چیز ہے,دیکھنے سے تعلق رکھنے والے مناظر.

دوسری جانب ماریہ کے بیٹے کی بازیابی کے سلسلے میں انسپیکٹر عذیر نے کافی پیش رفت کرلی ہے اور فواد کس جگہ پر ہے,زندہ ہے یا

…یہ عذیر پتا لگا چکا ہے.
سر محمد احمد نے ایک اور کمال کی قسط لکھی ,اس قسط میں کرداروں کی خاص کر روحوں اور اُن کی دنیا کے ساتھ تعلق کی وہ توجیہہ نہیں پیش کی گئی جیسی عموما کی جاتی ہے,مزید مسٹری میں خوف کے عنصر کے علاوہ برجستگی اور مزاح (Dark Comedy) کے رنگ بھی بھرے جا سکتے ہیں جو بے حد خوبصورت بھی ہوں اور کہانی کے بنیادی Structure کو ہلانے جُلانے کے بجائے اُسے Compliment کریں اور سر نے یہ کام بخوبی کر دکھایا ہے.

چھوٹے چھوٹے فقروں میں بڑی بات کہنا آسان نہیں ہوتا مگر “دھند”کی کہانی جیسا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں  بہت عمدگی سے سوال اٹھاتی جاتی ہے اور خود ہی جواب دیتی جاتی ہے,بیرسٹر حشمت زندہ تھے تو تنہائی کا شکار تھے اور مرنے کے بعد بھی اُن کی روح اس عفریت سے لپٹی ہوئی ہے, مر جانے والوں کے بارے میں ہم یہی سوچتے ہیں نا کہ اُن کا تعلق ہم سے ختم,لیکن کیا پتا وہ کبھی سوچتے ہوں کہ ہم انہیں یاد تک نہیں کرتے ,کسی خوشی غمی کے موقع پر اُن کا خیال تک نہیں آتا, ماسوائے وصیت کے تحت مل جانے والے ترکے اور حصے کے.

سب سے بڑی خوبی اس قسط کی یہ رہی کہ روحیں اکثر عاشق ہوجاتی ہیں اس Myth کو فلمز اور ڈراماز میں نہایت ہی بھونڈے انداز میں ڈر پیدا کرنے کیلئے پیش کیا جاتا ہے جو دھند میں صد شکر نہیں تھا,یار ایک روح پریشان کرنے کے بجائے مزےدار قسم کی صورت حال بھی تو پیدا کرسکتی ہے اور ہمارے بگڑے ہوئے روزمرہ کے اوقات کار کو سُدھار بھی سکتی ہے.😁

کردار نگاری میں ماریہ غضب کے تاثرات دے رہی ہیں, مکالموں کی ادئیگی اور لب و لہجے کا اتار چڑھائو ایک مزے دار جگل بندی کا منظر رچاتی ہے,حسن احمد اس قسط میں اچھے رہے,عابد واڈیا روح کے جاہ و جلال اور شرارت آہنگ کو عمدگی سے پیش کرگئے,زاہدہ بتول ہمیشہ کی طرح کمال رہیں, نانا سید کی کمی محسوس ہوئی اور کوئن آف ہارٹ ز مرینہ خان کے بارے میں کیا کہا جائے,ایک ایک منظر اُن کی فنی بلندی کا گواہ ہے.

اچانک کُرسی کے ہلنے جلنے کو محسوس کر جانے پر مرینہ کا چونک جانا,ماریہ کو فون پر اپنے گھر بلاتے ہوئے خوف کے مارے ماتھے کی رگ کا ابھر آنا,کُرسی کو منہ چڑھاتے ہوئے جانا.

,شاپ میں خوفزدہ ہوکر ماری کو کال ملانا, حشمت علی خان کے بارے میں جان کر بیہوش ہوجانا,

مرینہ ….مرینہ میم,مرینہ میم ہیں… جن کی معصومیت, تاثرات,باڈی لینگوئج ,مکالموں کی برجستہ ادائیگی کہ وہ گفتگو ہی لگے وقت نے کسی چیز پر بھی گرد نہیں ڈالی لگا کہ اتنا وقت بناء چھوئے ہی گزر گیا.
سیٹ لائٹنگ کیمرہ ورک بغیر مخصوص VFX effects کے استعمال کے اس قدر عمدہ ہیں کہ ناظر صرف مبہوت ہی رہ جاتا ہے,Artistic اور خوبصورت.

فیض کی ہدایات ہر قسط میں یکساں معیاری ہے کوئی ایک منظر ایسا نہیں ملتا کہ جو یہ تاثر دے کہ کام لپیٹا گیا ہے. “دھند” یقینا یقینا چھٹے ہفتے میں آکر مزید دلچسپ اور پُر اثر ہوتا جارہا ہے اور اس بہادرانہ کاوش کیلئے ایک سیلیوٹ تو ناگزیر ہے.