ڈرامہ ریویو : “غیرت” دکھانے کی ابتداء اچھی ہوئی.

تحریر و تبصرہ : محمد یاسر.
What A Roller Coaster Ride
بے حد اعلی شروعات بلکہ بھرپور شروعات,”غیرت” کے حوالے سے واقعات و حوادث جس طرح رپورٹ کئے جاتے ہیں مزےدار بات یہ ہوئی کہ “غیرت”کی پہلی قسط میں اُن تمام حقائق کی عکاسی ڈھن ڈھن ڈھن ڈھش ڈھش ڈھش کے بغیر,بناء کسی ملمع کاری و مسالہ انگیزی کے بڑی عمدگی سے پیش ہوئی اور ایک بڑی حماقت سے دانشمندانہ اجتناب برتا گیا کہ یہ ایک خوش و خرم خاندان کی کہانی ہے.

پہلا منظر ہی علامتی تھا,درخت کا کاٹے جانا,کسی زمانے میں عقیدہ ہوا کرتا تھا کہ درختوں کا کاٹنا رحمت و کُشادگی کا دروازہ خود پر بند کرنے کے مترادف ہے (خیر کراچی کی موجودہ حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ کچھ اتنا غلط بھی نہ تھا),درخت کی شاخوں پر جھولنے والی چڑیائوں کا بسیرا اجاڑ دیا جائے تو چڑیائیں مُرجھا جاتی ہیں جیسے صباء,جبکہ دوسری چڑیا یعنی اقراء جس پر بھوت پریت کا سایہ ہے اور علاج کے طور پر درخت کاٹا جارہا ہے,ویسے یہ بھی بڑا ہی دلچسپ امر ہے ہمارے معاشرے کا,اپنی ماں بہن بیوی بیٹی پر باپ بھائی محبوب اور شوہر کی حیثیت سے خود بھوت بن کر چمٹے ہوتے ہیں اور اُس نادیدہ بھوت جن کو تلاش کرکے بھگانے کی سعی کرنے لگتے ہیں جو عورت کے وجود میں رد عمل کے طور پر انکار بن کر سرائیت کرچکا ہوتا ہے,

قربان جائیے عامل بابا پر جو اس قدر ایمانداری سے خوف خدا سے مجبور ہوکر بہن بیٹی کا علاج تو کرنا چاہتا ہے مگر اپنے سامنے بہو بیٹی کو پٹتا دیکھ کر مرد کی پیٹھ تھپتھپاتا ہے کہ بھئی واہ!کیا مردانگی کا ثبوت دیا ہے.

ایک ماں بیٹے کے عشق میں کس حد تک اندھی ہوسکتی ہے پہلی قسط میں یہ بھی بخوبی دکھایا گیا,بات بات پر بیٹیوں کو بیٹے کے غصے سے ڈرانے والی ماں کا کیا انجام ہونا چاہیئے یہ بھی قابل غور بات ہے, اللہ نے ماں کو بڑے اختیارات دیئے ہیں مگر جب وہ یہ کہتی ہے کہ “تمہیں پتا نہیں ہے اپنے بھائی کے غصے کا” یا “اندر جائو بھائی دیکھ لے گا تو قیامت آجائے گی” تو وہ اپنے اختیارات و طاقت کو زنگ لگے ہتھیاروں کی طرح زمین پر پھینک دیتی ہے,کیا ماں بھی اللہ کی دی ہوئی طاقت کسی پلید کی طرح ٹھکرا سکتی ہے?

لیکن ایسی مائیں اپنی بہو کے کھل کر رام لیلی رچنے پر سخت کبیدہ ہوتی ہیں اور یہ بھول جاتی ہیں کہ شگفتہ جیسی عورتوں کے شوہر جب عثمان جیسے ہوں جو اپنی بہن اور بیوی دونوں ہی کو عزت نہ دیتے ہوں,عزت نہ رکھتے ہوں تو اپنے شوہروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ بھی شوہر کی بہنوں کا ناطقہ بند کردیتی ہیں اور یہ انتقام بھی ہوتا ہے,

شگفتہ صباء کیلئے اپنے دو نمبر عیاش بھائی بابر کو مناسب ترین بر سمجھ رہی ہے مگر راستے کی رُکاوٹ ہے بڑی بہن اقراء, جس کی شادی ہی نہیں ہورہی کیونکہ وہ خود یہ شادی نہیں کرنا چاہتی وجہ ابھی ظاہر ہونا باقی ہے.

زوہیب اور صباء کی پیاری سی معصومیت بھری محبت بے حد بھلی لگی, کم از کم آج کل جس قدر شاطر محبت حقیقت میں اور ڈراماز میں دیکھنے کو ملتی ہے مانو محبت پہ چار حُرف بھیجنے کو دل کرتا ہے.
ایڈیسن نے چھوٹے چھوٹے فقروں میں بڑی بامعنی سی گفتگو پیش کی جو بہت اچھی لگی جیسے کہ “شادی ہوتی ہے کیا اس گھر میں,شادی دل کی خوشی کا نام ہے,شادی کا مطلب ایک پنجرے سے نکل کر دوسرے پنجرے میں قید ہوجانا نہیں ہے”.

اس کے علاوہ سکرپٹ کی سب سے بڑی خوبی علامتوں کے ذریعے کہانی و کرداروں کی سوچ کو بیان کرنا ہے,درخت,صباء و اقراء کے کمرے میں پرندوں کا پنجرہ,صباء کے پاس سیل فون کا نہ ہونا جبکہ شگفتہ (بھابھی) کے پاس ہونا اور غم و غصے کی علامت کے طور پر شیشہ توڑنا بہت بھلے لگے,ایڈیسن کی مشاقی اور حساسیت ایک ایک منظر سے جھلکتی ہے.

ثمینہ احمد کو سالوں بعد ایک مضبوط کردار میں دیکھ کر اچھا لگا,جبران نے ایک بار پھر محسوس کروانے میں کامیاب رہتے ہیں,ندا ممتاز اور منیب اچھے لگے,اقراء کی کردار نگاری میں معصومیت و برجستگی کی بھرپور تال میل بہت اعلی رہی,ثمن انصاری اچھی رہیں مگر یہ پہلی قسط بہر طور سندس طارق کے نام رہی خاموش رہ کر آنکھوں کے تاثرات سے انہوں نے اعلی کام پیش کیا,شیشہ توڑتے ہوئے وہ بھرپور جارحانہ انداز دکھا سکیں.

احمد بھٹی کی ہدایت کاری میں حساسیت بجا طور نظر آئی جو اس کہانی کی روح کو پیش کرنے کیلئے کافی ضروری بھی ہے.
اقراء پر جس جن کا سایہ ہے وہ اُس کیلئے آیا کوئی انتہائی قدم اٹھائے گی,صباء بہن کا ساتھ دے گی یا وہ اُسے مرنے کیلئے چھوڑ دے گی,زوہیب کے ساتھ اُس کی معصوم محبت عثمان اور عدنان پر بجلی بن کر کیسے گرے گی اور ماں کیا اپنی بیٹیوں کا تباہ ہونے دے گی,یہ سب تو “غیرت” کی دوسری قسط میں ہی پتا چلے گا لیکن ایک بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر پاکستانی ڈرامے کی بقاء اُس کے Content میں پوشیدہ ہے تو “غیرت” اس سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہے جو وقت کی شدید ضرورت ہے.