“ڈرامہ ریویو : چالیس دن تک روح کا دنیا میں قیام…. حقیقت یا خام خیالی” دھند” قسط نمبر2

تحریر و تبصرہ : محمد یاسر.
کیا مزے دار اور بھرپور قسط رہی یہ,کم و بیش چالیس منٹ کی ایک قسط میں اتنے سارے چھوٹے بڑے معاملات کو اٹھانا ,اُن پر مختصر فقروں میں مدلل روشنی ڈالنا اور ناظر کے ذہن میں بنتی بگڑتی گرہیں کھولنا بلاشبہ یہ آسان نہیں ہے.

اس قسط میں ماریہ عمران کے شوہر اور بیٹے کی گمشدگی کے معاملے میں پیش رفت ہوئی,پہلی قسط میں ماریہ اور عمران کے فلیش بیک میں ماریہ عمران سے جس لال ربن والی بچی کے بارے میں اپنے وژن کا ذکر کرتی ہے اور جس کو سُن کر عمران کافی غصے سے چھری پلیٹ میں پٹختا ہے وہ بچی نینی اور اُس کی ماں ارجمند اس قسط میں ظاہر ہوئے,نینی نانا سید سے بات نہیں کرتی صرف ماریہ سے مخاطب ہوکر اُس سے ناراضی کا اظہار کرتی ہے کہ وہ جس طرح اپنے بچے (فواد) کیلئے تڑپ رہی ہے ٹھیک اُسی طرح وہ اور اُس کی ماں بھی,نانا سید اُسے سمجھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ جو کچھ ہوا اُس میں ماریہ کا کوئی قصور نہیں تھا,نینی اسے تسلیم نہیں کرتی.

کیا وقاص کی طرح نینی بھی ماریہ کی عدم توجہی اور اُس کی مدد نہ کرنے کے باعث بے قصور ماری گئی؟ اور ارجمند…ارجمند کا عمران سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟, جس سے ملنے کیلئے وہ ماہ میں دو تین بار لاہور جاتا رہتا تھا اور جس سے ماریہ انجان تھی,کہیں یہ ایکسٹرا میریٹل افیئر تو نہیں تھا؟

دوسرا نقطہ جس پر ماریہ کا ٹریک مزید مبہم اور مزےدار ہوگیا ہے وہ ماریہ کا عذیر سے تفتیش ختم کرلینے کی استدعا ہے جس پر عذیر کافی حیران ہوتا ہے,ماریہ نانا سید کے سمجھانے کے باوجود اس کیس کو آگے بڑھانا نہیں چاہتی “جن باتوں پر پردہ ہے بہتر ہے اُن پر پردہ ہی پڑا رہے” .

یعنی ماریہ اس بات کا بخوبی احساس رکھتی ہے کہ عمران اور اُس کے ماضی میں کچھ ایسا لازمی ہے جس کے عیاں ہوجانے سے اُس کے بیٹے فواد کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے,ماریہ اور عمران کی ازدواجی زندگی نارمل نہیں تھی خود عمران کا رویہ بھی گمشدگی سے پہلے بے حد ابتر تھا جس کا ذکر ثانیہ سعید نے انسپیکٹر عذیر سے کیا.(ماریہ کے ٹریک کے ساتھ اس قسط کی کہانی کو بے حد خوبصورتی سے لنک کیا گیا ہے).

ثانیہ عمران کی کولیگ تھی اور اُسی کے ذریعے اُسے نوکری ملتی ہے,ثانیہ کے شوہر کا کچھ ہی دنوں پہلے انتقال ہوا ہے جس کا گہرا صدمہ اُس کی بیٹی ہانیہ کی ذہنی حالت پر پڑا ہے ,ہانیہ ماں سے زیادہ باپ کے قریب تھی کیونکہ وہی اُس کے ساتھ گھر میں ہوتا تھا,ماں تو ایک ورکنگ وومن ہے,ہانیہ ماں سے اس بات پر بھی سخت برگشتہ ہے کہ اُس نے باپ کو ہمیشہ کم کمانے کا طعنہ دیا.

وہ بے لاگ الفاظ میں ماں کو Feelingless کہتی ہے,وہ ماں اور اپنی دوست سے اس بات کا ذکر کرتی ہے کہ وہ اپنے باپ کی موجودگی کو محسوس کرتی ہے.

یہاں اُس مذہبی عقیدے کو کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے کہ مرنے کے چالیس دن تک روح دنیا میں ہی رہتی ہے ,پاکستان میں خصوصیت سے اس عقیدے کا احترام کیا جاتا ہے, مرنے والے کے کمرے میں چالیس دن تک اندھیرا نہ رکھنا,اُس کی پسند کے کھانے بنا کر مسجدوں میں بھیجنا,یتیموں اور حاجت مندوں میں اُس کی استعمال شدہ اشیاء کی تقسیم وغیرہ وغیرہ ہمارے معاشرے کی عام روایات ہیں,ثانیہ بھی یہی سب کررہی ہے لیکن وہ بیٹی کو سمجھاتی ہے کہ روح اس طرح کسی سے بھی بات کرنے کی کوشش نہیں کرتی, مگر ہانیہ بات نہیں سمجھتی بلکہ بدتمیزی کا مظاہرہ کرتی ہے,یہاں Wind Chimes کو, باپ کا ہانیہ سے مخاطب ہونا یا اپنی موجودگی کا احساس دلانا ,علامتی طور پر استعمال کیا گیا ہے.

مزید برآں روحوں کی حقیقت یا صرف خام خیالی جیسا معاملہ جو سالہا سال سے” عقیدے اور سائنسی تحقیق”کی روشنی میں مباحثے کا اہم موضوع بنا ہوا ہے اور جس کے بارے میں “منطق اور روحانیت” مسلسل ہارتی ہی آرہی ہے کو بھی مختصر مگر مدلل انداز میں چھیڑا گیا ہے.

یہ معاملہ پیچیدہ بھی ہے اور بعید از عقل بھی,یہیں ایک منطقی نقطہ اٹھاگیا ہے اور یہ وہ فیکٹر ہے جسے ہمارے معاشرے میں جانے انجانے میں نظر انداز کردیا جاتا ہے,ہانیہ اپنی دوست سے فلم The Conjuring  کا حوالہ دیتے ہوئے کہتی ہے کہ “مجھے اس فلم کا ایک ایک سین یاد ہے”, فلم The Conjuring  بنیادی طور پر Paranormal Activities کے حوالے سے ایک ہارر فلم ہے اور ہانیہ کا اُس پر اس حد تک اثر ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے کہ باپ جا چکا ہے.

یعنی فلمز,میڈیا اور سوشل میڈیا کا ایک انسان کے دماغ پر کس قدر اثر و رسوخ ہے اس کا اندازہ بالکل لگایا جاسکتا ہے کیونکہ ہم سب کی ہی زندگی کا دارومدار آج انہی چیزوں پر ہے مگر پھر بھی احتیاط اور متوازی رویہ ذہن اور نفسیات کو متاثر ہونے سے بچا سکتا ہے,بہر حال.

دوسری جانب ماریہ ہانیہ کے باپ کو دیکھ لیتی ہے اور اُسے سمجھاتی ہے کہ بے شک وہ اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتا ہے لیکن وہ اب جا چکا ہے اس طرح وہ اپنی بیٹی کی زندگی میں زہر گھول رہا ہے,ثانیہ اور ہانیہ کے درمیان کافی تُو تکار چلتی ہے,ثانیہ خود بھی اپنے مر حوم شوہر کی موجودگی محسوس کرلیتی ہے لیکن اُسے اپنی بیٹی کو زندگی کی جانب واپس لانا ہے.

یہاں اس الجھے ہوئے معاملے کا یہ مبہم سرا پکڑا گیا ہے کہ آیا واقعی روح چالیس دن تک دنیا میں ہی رہتی ہے یا یہ بس انسانی ذہن کی اختراع ہے, بعض چیزوں کا علم خصوصیت سے صرف اللہ کے پاس ہے اور اُس کا کُلی اختیار اللہ کے پاس ہی رہنا چاہیئے یہ جو انسان اپنے تجسس کے ہاتھوں خدائی وصف میں دخیل ہونے کی کوشش کرتا ہے بے شک وہ بے اندازہ نقصان اٹھاتا ہے.

ثانیہ بیٹی کے وہ سارے خطوط اٹھاکر پڑھتی ہے جو اُس نے باپ کی روح کیلئے لکھ کر تکئیے کے نیچے چھوڑے اور ثانیہ انہیں اٹھا کر ایک ڈبے میں رکھتی جاتی ہے,ہانیہ اُس دن زندگی کی جانب لوٹ آتی ہے جب اُسے باپ کی روح کے جانب سے خط اپنے تکئیے کے نیچے ملتا ہے,ثانیہ اُس خط کو کھول کر دیکھتی ہے مگر ہانیہ کی طرح وہ اُس خط کو پڑھ نہیں سکتی کیونکہ وہ کاغذ بالکل سادہ ہے,اسی طرح ساحل پر اچانک نیلے غباروں کا ہانیہ کے ہاتھ میں آجانا بظاہر یہ بے حد معمولی سی بات ہے,مگر,یہ اُس مبہم اور چھپی ہوئی حقیقت کا بے حد واضح اور کھلا اظہار ہے جس کا علم صرف خدا تعالی کی ذات اقدس کے پاس ہے.

سر احمد کمال کرنے پر آئے ہیں تو بس کمالات ہی دکھائے جارہے ہیں, میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ” دھند” ایک ایسی کہانی ہے جو خود ہی سوال اٹھا رہی ہے اور خود ہی جواب چھری کانٹے سے علیحدہ کرتے ہوئے بے حد واضح انداز میں دیتی جارہی ہے ,مکالموں کے علاوہ خاموش اور لفظوں کی بیساکھی تھامے بغیر احمد سر معاشرے میں رائج عقیدوں اور انسانی روئیوں,سوچوں سمیت معاشرتی مسائل پر Comment کر رہے ہیں.
اس ایک چالیس منٹ کی قسط میں بہت چھوٹے چھوٹے جملوں اور محسوس ہونے والے تاثرات کے ذریعے احمد سر نے کئی اہم مسائل پر نقطہ اٹھایا,Bravo Bravo Bravo Sir. 

یہی نہیں “دھند”کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ کردار چلتے پھرتے کام کرتے دکھائی دیتے ہیں صرف ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر مکالمے نہیں دہرادیتے ,یہ ایک ایسا سقم ہے جو موجودہ چلنے والے تقریبا ہر سیریل میں دکھائی دیتا ہے جو ڈرامے کی روح کو مار دیتا ہے(ویسے جس طرح ڈرامے کو بے دردی سے مارا گیا ہے ڈرامے کی روح کا حق بنتا ہے کہ وہ پروڈکشن ہائوسز سمیت Content Heads کا جینا حرام کردے اور چُن چُن کر گن گن کر بدلے لے).
ثانیہ سعید کی کردار نگاری کے بارے میں بات کرنے والا منہ بہت چھوٹا ہے اور لفظ یقینی بے حد کم,ہر ہر منظر میں ثانیہ نے انمٹ نقش چھوڑا,چاہے وہ شوہر کی شرٹ آنکھوں سے لگائے رونا ہو, بیٹی کی ذہنی حالت پر تکلیف یا اُس کی بدتمیزی پر کڑھنا,ثانیہ نے لاج نبھائی,ستہ اصغر (ہانیہ) نے اپنے مشکل اور پیچیدہ کردارکو عمدگی سے ادا کیا, خوشی ہوئی کہ نوجوان ہونے کے باوجود ستہ کا اردو لب و لہجہ کافی صاف اور ستھرا ہے,ماریہ واسطی نے ایک بار پھر متاثر کیا,حسن احمد کی جگہ کوئی اور ہوتا تو بہت اچھا ہوجاتا,بناء تاثرات اور احساسات کے وہ خدا جانے مکالمے کیسے بول لیتے ہیں,زاہدہ بتول (نوکرانی) نے مزیدار کردار نگاری پیش کی,احمد سر دو ہی مناظر میں آئے اور چھاپ چھوڑ گئے.

ہدایات فیض کی ہیں اور اُن کی مشاقی ایک ایک فریم سے ظاہر ہوتی ہے ،لائٹنگ،سیٹ سے ڈائریکٹر کا Asthetic Sense عیاں ہے,ایڈیٹنگ بھی کمال درجے کی ہے اور یہ سب صرف تب ہی ممکن ہے جب ہدایت کار کو اپنی جاب کا بخوبی اندازہ ہو اور سکرپٹ کی روح تک مکمل رسائی ہو.

ارجمند ماریہ سے ملنے آئی ہے,ماریہ جو گرد جھاڑنا نہیں چاہتی ہے اُسے اب مدفون بے گور و کفن ماضی سے کیا ملنے والا ہے؟، نینی کے ساتھ کیا ہوا تھا؟,کہیں عمران نے نینی کے ساتھ کچھ….جس کا خمیازہ ماریہ کا بیٹا بھگت رہا ہے, اور وقاص…کیا اُس کی روح ماریہ کے مسائل بڑھا پائے گی؟,ماریہ کے ہاتھوں اب اور کون زک اٹھائے گا یا ماریہ اب لوگوں اور روحوں کی مدد کرنے لگے گی؟ اور ارجمند…وہ آخر ہے کون؟..یہ سب تو آنے والی اقساط میں ہی پتا چلے گا لیکن Social Issues پر مبنی “دھند” جو کسی سیٹ ایجنڈا کی عکاسی کرنے کے بجائے ہر ایک زاوئیے سے معاملات کو دیکھتے ہوئے بات کرتا ہے یقینا یقینا خاصے کی چیز ہے.