کلمہ سنا کر یقین دلانا پڑا کیونکہ رواداری کو کٹر پن کھا گیا تھا

“بنتِ ارسلان”

“میں شاکڈ حالت میں بیٹھی اُسے دیکھ رہی تھی وہ اپنے عقیدے بارے کیا کیا بتاتی رہی مجھے کوئی آوازسنائی نہیں دے رہی تھی بس میرا ذہن یہی سوچ رہاتھا کہ آگاہی عذاب ہوتی ہے”

“میں جب اپوا کالج میں تھرڈ اٸیر کی اسٹوڈنٹ بن کر گئی تو کالج میں جس پہلی لڑکی سے میری ملاقات ہوئی اُس کا نام فرحت تھا۔ پتلی دبلی سانولی رنگت کی۔ وہ فرسٹ ائیر سے ویہیں تھی۔ چونکہ میں لیٹ قمر ایڈمیشن تھی تو فرسٹ ڈے ریگنگ سے بچ گئی تھی۔ فرحت میری ریگنگ کرنا چاہتی تھی مگر اُس نے ارداہ ملتوی کیا اور مجھے میرے سیکشن تک رہنمائی کی۔ میری اُس سے سلام دعا ہو گئی۔ کالج میں تقریباً چار سےپانچ لڑکیوں کا گروپ ہوتا تھا۔ میرےسیکشن میں بھی یہی حال تھا۔ کچھ دن بعد میں نے نوٹ کیا کہ لڑکیاں مجھ سے دور دور رہتی ہیں پہلے پہل مجھے لگا کہ میرےچہرے پر نکلے ہوے دانوں کی وجہ سے ایسا ہے حتٰی کہ کالج وین میں بھی لڑکیاں تھوڑا فاصلے پر ہو جاتی تھی مجھے دیکھ کر۔ یہ وہ دور تھا جب اِن دانوں کی وجہ سے میں شدید قسم کا نقاب کیا کرتی تھی کہ بس میری آنکھیں ہی نظر آتی تھیں۔ اِس لئے میں الگ تھلگ رہتی تھی ایسے میں فرحت کہیں سے نکل آتی اور میرے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی۔ کبھی ہم کینٹین جا کر کچھ کھالیتے۔ایک اور لڑکی تھی ”صوبیہ“ نام تھا اُس کا۔ راہدری سے گذرتے آتے جاتے وہ مجھے اور فرحت کو ہیلو ہاۓ کر لیتی تھی وہ بھی میرے سیکشن کی نہیں تھی اس کے سبجیکٹ بھی بہت ہیوی تھے۔ میتھ۔ اکنامکس۔ اُس کی دو بیسٹ فرینڈز جو سگی بہنیں تھیں میرے ہی سیکشن میں تھیں اُن کے والد ہمارے علاقے کی ایک مشہور مسجد میں زکوة عُشر کمیٹی کے رکن تھے۔
کٹر مذہبی رجحان والے(جہاں اپنے علاوہ سب کافر فرقے شمار ہوتے۔ اور غیر مسلم تو ویسے ہی کافر)
وہ دونوں سب سے اگلی نشستوں پر بیٹھا کرتی تھیں۔دونوں بہنوں میں دس یا گیارہ ماہ کا فرق تھا اِس لئے ایک ہی کلاس میں تھیں اُن کا ایک مذہبی سا گروپ تھا.
ایسے ہی الگ تھلگ چھ ماہ گذر گئے۔ ایک دن ہماری اسلامیات کی پروفیسر جو مجھ سے پتا نہیں کیوں خار کھاتی تھیں مجھ سے پوچھا کہ میں اسلامیات کیوں پڑھتی ہوں؟ جس کا جواب میں نے دیا کہ ” الحمدللہ میں مسلمان ہوں اِس لیے“۔
کیا؟ تم مسلمان ہو؟ ”
“جی”
“اپنا پورا نام بتاؤ؟”
“سیّدہ عروج انساء”
اُن کا خار والا لہجہ لمحے میں کے ہزارویں حصے میں نرم پڑا تھا۔ اٹینڈس لسٹ میں میرا نام صرف عروج لکھا ہوا تھا۔
میں نے دیکھا کہ پروفیسر سمیت تمام کلاس مجھے حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔ کیونکہ میں بیک بینچر تھی اِس لئے سب کا پلٹ کر میری طرف دیکھنا مجھے حیران کرگیا۔۔۔۔
(مجھے لگا تھا کہ شاید میں کالج میں کسی بھی گروپ کا حصہ نہیں ہوں اور کالج میں سب کا خیال تھا کہ میں فرحت کے گروپ سے ہوں. جبکے میں نے فرحت کو کبھی کسی کے ساتھ بیٹھے نہیں دیکھا تھا)۔
اُس دن وہ دونوں بہنیں، صوبیہ اورایک لڑکی کے ساتھ میرے پاس خود آئیں اور پوچھا کہ میں سیّد زادی ہو کر ایسا کیسے کر سکتی ہوں …
میں حیران تھی کہ میں نے ایسا کیا کردیا ہے؟
اُنہوں نے مجھے کہا کہ میں فرحت کے ساتھ کیوں اُٹھتی بیٹھتی ہوں۔ جبکے وہ اُس کے ہاتھ لگاۓ برتن کو بھی استعمال نا کریں چہ جائیکہ میں ساتھ بیٹھ کر کھاتی رہی ہوں۔
میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ لوگ کہنا کیا چاہ رہی ہیں۔۔۔۔
تو اُن کے گروپ کی دوسری لڑکی جو شرقپور سے تھی. بہت تضحیک آمیز انداز میں کہنے لگی۔
”تم تو ایسے انجان بن رہی ہو جیسے تمہیں پتا نہیں کہ وہ”چوڑے“ ہیں“ ۔۔۔۔۔۔
میں: چوڑے مطلب؟
وہ: لو ۔ اِنہیں چوڑے کا مطلب نہیں پتا۔۔۔۔وہ عیسائی ہے۔۔۔۔ کافر ہے۔۔۔تمہیں تو کلمہ پڑھنا پڑےگا۔ “
اور اُس روز مجھے پتا لگا کہ کلاس میں سب مجھے فرحت کے ساتھ بیٹھنے کی وجہ سے کرسچن سمجھتے تھے.
میرا پورا نام جان کراُنہیں مزید شدید جھٹکا لگاتھا. کہ ایک سیّد زادی ہو کر ایک عیسائی کے ساتھ کیسے دوستی کر لی.
فرحت میری دوست نہیں تھی لیکن اُس کے لئے میری اِن لوگوں سے خوب بحث ہوئی کیونکہ میرے نزدیک دوستی کاتعلق رواداری سے ہے۔ اور رواداری کسی بھی مسلک کسی بھی فرقے سے بالاتر ہوتی ہے جب تک وہ اپنی حدود میں رہے .
مگر وہ لوگ کچھ سننے کے لئے تیار ہی نہیں تھے، اِس سارے وقت میں صوبیہ مجھے دیکھتی ہی رہی بولی کچھ نہیں پھر اُن لوگوں نے پوراکلمہ سُن کر میرے مسلمان ہونے پرمہر لگائی اور میرے لیے یہ بات واقعی شاکنگ تھی کہ اپنے ہی لوگوں کوقائل کرنے کے لئے مجھے کلمہ سنا کر یقین دلانا پڑا تھا۔

میں نے فرحت سے پوچھا کہ ”تم نے کبھی بتایا کیوں نہیں؟“۔ اُس نےکہا کہ” تم نے بھی کبھی مذہب پر بات ہی نہیں کی اور مجھے لگا کہ تمہیں پتا ہوگا“۔۔۔۔۔ تب مجھے احساس ہوا کہ چھ ماہ تک ہم ایک دوسرے سے بہت سی باتیں کر چکے تھے سوا فرقے اور مذہب کے۔۔۔۔
اُس دن کےبعدفرحت خوبخود دور ہونےلگی۔ میں ہی بات کرتی لیکن پھر یہ بات صرف ہیلو ہائے تک محدود رہ گئی.
رواداری کو کٹر پن کھا گیا تھا….
فورتھ ائیر کے سٹارٹ میں کالج میں میلاد ہوا تھا۔ میلاد سے دو دن پہلے جب میں نے کالج سے آف لیا تھا توصوبیہ اپنے گھر سے بریانی اور میٹھا بنا کر لائی تھی۔جو وہ ہر ہفتے ہی لاتی تھی مگر تب میں اُن کے گروپ کا حصہ نہیں تھی اور وہ کھانا اُن دونوں بہنوں کے ساتھ گھر بھی جاتاتھا کیونکہ صوبیہ اُن کے بچپن کی سہیلی بھی تھی. اورمیلاد والے دن ریٹرن میں‌اُن دونوں کے گھر سے بھی اُنہیں برتنوں میں کھانا آیا تھا.
میں ایڈمن روم سے نکل کرمیلاد کے لئے ہال کی طرف جانے لگی تو اُلٹے ہاتھ راہدری میں انگلش لیٹریچر والے کمرے سے صوبیہ نے آواز دے کر مجھے بُلا لیا۔ وہ وہاں اندھیرے میں بیٹھی تھی۔ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ ”تم میلاد میں اندر نہیں گئیں“۔ تواُس نے کہا کہ اُس کی طبعیت ٹھیک نہیں۔
ہم لوگ باتیں کرنے لگے. اِدھر اُدھر کی. فیوچر کی، فیملیز کی۔۔۔۔۔ اُسنے اپنی فیملی بارے میں بتایا کہ وہ پنجاب یونیورسٹی کے سامنے مشہور لیب کے ساتھ ایک کالونی میں رہتی ہے۔اُس کی بڑی بہن زولوجی میں ماسڑز کر رہی تھی۔ اُس کا اپناارادہ پی ایچ ڈی کاتھا۔ والد کسی بڑی پوسٹ پر تھے۔ اُس نے بتایا کہ اُس کے ابو کو اُن کی جوانی میں رشتے داروں نے عقیدہ بدلنے پر گاٶں سےمار کر نکال دیا تھا اور جب وہ اونچی پوسٹ پر آگئے ہیں تووہی رشتے دار اُس کے ابو سے مدد مانگنے کے لئے دروازے پر کھڑے رہتے ہیں لیکن اُسے اپنے دوغلے رشتے دار بالکل پسند نہیں تھے لیکن اُس کے ابو گاٶں والوں کی کھلے ہاتھوں سے ہر طرح مدد کرتے تھے۔ مدد لینے کے باوجود وہ لوگ اُس کے ابو کو اُن کے عقیدے کی وجہ سے نا پسند ہی کرتے تھے۔ مگر مدد لینا برا نہیں جانتے تھے۔
میرے سادہ سےدماغ میں سوال کُھد بد کرنے لگےکہ ایسا کونسا عقیدہ چُنا کہ گاٶں سےنکال بھی دیا گیا اوربُرا جانتے ہوئے بھی مدد لینے میں کوئی عار نہیں جانتے۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ “عقیدہ کیا ہے تمہارا؟ وہ چُپ ہو گئی اور کچھ لمحے مجھے دیکھنے لگی پھر اُس نے مجھے کہا کہ ” میں نے آج تک یہ بات کسی کو نہیں بتائی نا بتاو گی لیکن پتا نہیں میرا دل کہہ رہا ہے کہ میں تمہیں بتا کر اپنے دل کا بوجھ کم کر لوں”۔
” مجھے ہی کیوں؟”
” کیونکہ تم نے جس طرح ایک کرسچن لڑکی کے لئے وکالت کی اُس دن مجھے احساس ہوا کہ تم دوست بنانے کے لئے عقیدہ نہیں دیکھتیں”….
اور یہ ہی حقیقت بھی ہے میں آج بھی ایسی ہی ہوں میری ہر ذات، مسلک ، فرقے اور مذاہب کے لوگوں میں اُٹھنا بیٹھنا ہے کیونکہ میرا اپنا ایمان مضبوط ہے الحمد للہ ۔۔۔۔۔ اور میں دوستی میں رواداری کی قائل ہوں”
پھراُس نے یہ یقین دھیانی لی کہ میں اُس کی دونوں دوستوں کو کچھ نہیں بتاٶں گی کیونکہ وہ بچپن کی دوستی کو ختم نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اُس نے کبھی بھی اُن دونوں کو اپنے عقاید کے بارے نہیں بتایا تھا کیونکہ وہ اُن دونوں کے کٹر مذہبی رجحان کے بارے اچھے سے جانتی تھی۔
پھر اُس نے مجھ سے میرا عقیدہ پوچھا۔۔۔۔
میں نے کہا کہ میں امی کی طرف سے اہلِ حدیث ہوں اور ابو کی طرف سے اہلِ سنت اورخود کیا ہوں ابھی نہیں پتا۔۔۔۔
اُس نے پھر مجھ سے مختلف عقائد اور فرقوں کا پوچھا۔
مجھے جو جو پتا تھے اُسے بتا دئیے۔
پھر اُس نے اپنے بارے بتایا کہ وہ ”احمدی“ ہے۔
اُس کے دل کا بوجھ تو ہلکا ہوا پتا نہیں مگر میرا دماغ کھل گیا تھا
”میں شاکڈ حالت میں بیٹھی اُسے دیکھ رہی تھی وہ اپنے عقیدے بارے کیا کیا بتاتی رہی مجھے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی بس میرا ذہن یہی سوچ رہاتھا کہ جس کی بچپن کی دوستوں نے مجھے ایک اہلِ کتاب کے ساتھ کھانے پر کلمہ پڑھوا دیا تھا وہ ایک احمدی کے بنے کھانے اپنے گھر والوں تک کو کھلاتی رہیں ایسی بے خبر کیسے رہ گئیں تھیں کے اتنا بڑا سچ اُن کے ساتھ پلا بڑھا تھا اور وہ مطمئن تھیں ۔۔۔۔۔۔ شاید اِس لئے کہ آگاہی عذاب ہوتی ہے اور وہ آگاہ نہیں تھیں۔۔۔….“
بنتِ ارسلان