افسانچہ :” کنجوسی کا سگھڑاپا” از شاہدہ محمود۔

پہلے دن چکن پہ تکہ مسالہ لگا کے بنایا، اس میں سے بچ گیا تو نیکسٹ ڈے اس میں کڑاہی مسالہ ڈال کے کڑاہی بنا لی، تیسرے دن اسے کوئلے کی دھونی دے کے باربی کیو کڑاہی بنا لی، اب بھی جو بچ گیا وہ فریزر کی زینت۔۔
انشاللہ تعالیٰ جس دن مٹر چاول بنائے اس دن پلاؤ میں فلیور بڑھ جائے گا
یہ ہیں میری چھوٹی چھوٹی بچتیں جنہیں نندیں کنجوسی اور بہنیں سگھڑاپے کا نام دیتی ہیں،
حالانکہ میری نندیں جب بھی گھر آ تی ہیں میں خاطر تواضع میں کوئ کمی نہیں رکھتی، ہمیشہ لذیذ دال بنا کے کھلائی ہے اور کبھی خالی چائے نہیں پلاتی، ساتھ میں پاپے یا پوپ کارن ضرور رکھتی ہوں، بچوں کے پیٹ بھی بھر جاتے ہیں۔۔۔
اب شڈو جی یہ بچت نہ کرتی تو مریم نواز کی طرح غریب ہی رہتی جو روہانسی آ واز میں کہہ رہی ہوتی ہے کہ
“میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئ جائداد نہیں”
بے چاری کو اس کسمپرسی کے حال میں دیکھ کے سخت رونا آ تا ہے، تو تبھی سے میں نے نصیحت پکڑی کہ پیسے بچاؤ اور جائداد بناؤ۔۔۔
فی الحال تو دو کمروں کا ایک فلیٹ لیا ہے، 10 سال کے عرصے میں ملک ریاض کے ہم پلہ تو ہو جاؤں گی۔۔۔
تب تک میرے گھر والوں کی حیران کن آ وازیں میں سنبھالتی رہوں گی، جنہیں بریانی میں بیف اور چکن دونوں نظر آ جاتے ہیں ، یا میٹھے میں بادام کی جگہ مونگ پھلی مل جاتی ہے
اور فروٹ میں ہمارے گھر خربوزہ ضرور آ تا ہے جو اگر داغی سستا مل رہا ہو تو میں وہ حصہ کاٹ کے اور چینی چھڑک کے سامنے رکھ دیتی ہوں، بچے اگر کھا لیں تو بہت شاندار صحت بن جائے لیکن معلوم نہیں کیوں وہ منہ بنا کے سائیڈ ہوجاتے ہیں