“کٹاکشا” اچھی ہے،بہت اچھی ہے مگر۔۔۔

تبصرہ : محمد یاسر۔

پاکستانی سینما پر سنجیدہ ہارر فلمز آٹے میں نمک کے برابر ہی بنی ہیں،ساٹھ کی دہائی میں ایک ہی فلم ”زندہ لاش“ ملتی ہے یاپھر 2008میں ”ذبحہ خانہ“ اور پھر بعد میں آنے والی ”سیاہ“ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں اب تک بنائی جانے والی سب سے بہترین ہارر فلم سید عاطف علی کی”پری“ ہی رہی ہے جو کہ ایک ہارر فلم کے تمام تر لوازمات رکھتے ہوئے ہارر کے مزاج اور تعریف پر پوری اترنے کے ساتھ ایک ”منطقی“ کہانی بھی رکھتی ہے اور منطق ایک ایسی چیز ہے جس سے پاکستان کا سینما خصوصیت سے اینٹ کتے والا بیر رکھتا ہے،اسی نئے فلمی منظر نامے میں ”کٹاکشا“ ہارر فلم کے نام سے پیش کی جاتی ہے جس کے شریک فلمساز،مصنف اور ہدایتکار ابو علیحہ (سید سجاد شاہ) ہیں جن کی یہ ریلیز ہونے والی پہلی فلم ہے اور اس امر کا ایڈوانٹیج اس فلم پر بات کرتے ہوئے انہیں ضرور ملنا چاہئے۔
کہانی/اسکرین پلے/مکالمے:
یہ چار مختلف مزاج،نفسیات،بیک گراؤنڈ اور سماجی اسٹیٹس رکھنے والے افراد کی کہانی ہے،جو کہ ایک نیوز چینل سے وابستہ ہیں اور چینل سے ملنے والے پروفیشنل ٹاسک کے سلسلے میں ہی ”قلعہ کٹاس“ پہنچتے ہیں،ان میں ایک ڈرائیور (سلیم معراج)،نیوز رپورٹر/ماڈل (نمرہ شاہد)،پروگرام پروڈیوسر(کرن تعبیر) اور کیمرہ مین/فوٹوگرافر (قاسم خان)شامل ہیں اور ان چاروں کی ہی آپس میں کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہے،چاروں اپنی اپنی زندگیوں میں کسی نہ کسی مسئلے کے ہاتھوں پریشان ہیں اور چاروں ہی اندر سے تلخی بھرے ہیں جو اُن کی باتوں،روئیوں اور ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ میں امنڈ امنڈ کے جھلکتی ہے،ان چاروں کی زندگی کے تلخ معاملات بھی آہستہ آہستہ پتا چلتے جاتے ہیں اور قلعہ کٹاس پہنچ کر اچانک کہانی ہارر ہوجاتی ہے اور یہیں فلم اپنے اندر سے دلچسپی کھو بیٹھتی ہے۔


ایک سنجیدہ ناظر چالیس بیالیس منٹ تک ان چار کرداروں کی زندگیوں میں اس قدرڈوب چکا ہوتا ہے کہ پھر اُسے دلچسپی اس چیز میں ہوتی ہے کہ اب وہ چاروں اپنی زندگیوں میں آگے کیا کریں گے؟،کہاں پہنچیں گے؟،کیا اُس خلاء کو پُر کرپائیں گے جس نے انہیں حال سے بے حال کررکھا ہے؟،کیا وہ حاصل کرسکیں گے جس کی چاہ نے انہیں بے چین کیا ہوا ہے؟،کیا اُن کے اندر کی وہ تلخی جو زہر بن کر انہیں چاٹ رہی ہے ختم ہوپائے گی؟،مگر اس کے بجائے انہیں کٹاس کے اندر ایک نادیدہ شیطانی آفت آکر جکڑ لیتی ہے اور پھر ایک ایک کرکے وہ اُس سے نبرد آزما ہوتے ہیں،بے شک یہ سب جسٹی فائی لگتا ہے(کیونکہ بہرحال فلم ہارر ہی ہے) مگر یہ سب اتنی دیر کے بعد فلم میں آتا ہے کہ ناظر کیلئے اب اُس اچانک ہارر کو قبول کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور یہیں سے فلم میں ناظر کی وہ دلچسپی اپنی موت آپ ہی مرجاتی ہے اور یہی اس فلم کی سب سے بڑی خامی ہے،اُس پریت آتما کی آمد اور اُن چاروں کو اپنے شکنجے میں لینے سے قبل تک فلم سائیکو تھرلر رہتی ہے مگر ہارر کے عنصر کے آتے ہی تجسس کا عنصر فلم سے نکل جاتا ہے،فلم کے آخری اٹھائیس منٹ مکمل پریڈکٹبل ہیں۔
اسکرین پلے رواں دواں اور شفاف ہے،اچانک ہی کوئی ایونٹ نہیں آجاتا،بہت اسموتھلی کہانی آگے بڑھتی ہے،ڈیڑھ گھنٹے دورانئے کی فلم میں جس قدر فاسٹ پیس ہوسکتا ہے،ٹیمپو ویسا ہی رکھا گیا ہے لیکن وہی بات کہ ہارر ایلیمنٹ اتنی دیر بعد فلم میں آتا ہے کہ فلم ڈریگ محسوس ہونے لگتی ہے۔ مکالمے اس فلم کی سب سے بڑی اور نمایاں خوبی ہے،نہایت جاندار مکالمے،جن میں کسی دوسرے مصنف کی کوئی جھلک نہیں ملتی،ہر فقرہ اور ہر لفظ خود بولتا ہے کہ وہ ”ابو علیحہ“ کے لفظ ہیں،وہی عریاں نشتر جو اُن کی تحریروں کا لازمی جزو ہیں،اس فلم کے مکالموں میں گہرائی بھی ہے،روانی بھی اور برجستگی بھی،کہیں کہیں ڈارک ہیومر بھی،ان مکالموں میں سوشل کومینٹ بھی ہے اور سارکیزم بھی،یہ خصوصیات مکالموں میں خال خال ہی ملتی ہیں،کسی ایک کردار کے ہی نہیں بلکہ پانچوں اہم کرداروں کے مکالمے بہت خوبصورت ہیں،زندگی کی حرارت لئے ہوئے۔

بیک گراؤنڈ اسکور/سینما ٹوگرافی/ایڈیٹنگ:
بیک گراؤنڈ اسکور اچھا کہا جاسکتا ہے،خاص کر فلم کے آخری پینتیس منٹ میں پس پردہ موسیقی کا بہت عمدہ استعمال کیا گیا ہے جو کہ ہارر ایلیمنٹ کو سہارا دیتا ہے،سینما ٹوگرافی فلم کی دوسری بڑی خوبی ہے،گوکہ شروع کے پندرہ منٹ میں کیمرہ ورک قطعی متاثر نہیں کرتا،سڑک پر سفر کے دوران کا پورا سیکوئنس ہی شیکی تھا مگر بعد میں کیمرہ ورک بہت اعلیٰ درجے کا رہا،اونچی نیچی سڑکوں،اکا دکا ہریالی سے بھرے کھیت اور پھر قلعہ کٹاس،اس قلعہ کی تمام تر حقیقی پُراسراریت کو بہت عمدگی سے کیمرے کے ذریعے قید کیا گیا ہے اور اسکرین پر وہ ہیبت اور جادوئی رنگ بجا طور پر محسوس ہوتی ہے،قلعے پر پہنچنے کے بعد سے فلم کے آخر تک سینما ٹوگرافی اس قدر خوبصورت ہے کہ تعریف کیلئے لفظ نہیں ملتے،رات اور تاریکی کے فلمائے ہوئے مناظر تمام تر جزئیات کے ساتھ بے حدحساسیت سے عکس بند کئے گئے ہیں۔ ایڈیٹنگ اوسط کہی جاسکتی ہے،ڈیڑھ گھنٹے کی فلم مزید ایڈٹ کرکے کتنی مختصر رہ جاتی اس کے باجود کچھ مناظر طویل محسوس ہوئے،کچھ جگہوں پر ایسالگا کہ کہانی ٹھہر گئی ہے جس کو ایڈیٹنگ کے ذریعے سنبھالا جاسکتا تھا۔

اداکاری /ہدایتکاری:

بہت عرصے کے بعد کم کرداروں والی کوئی کہانی اسکرین پر پیش کی گئی ہے،اس فلم کے چاروں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکاروں نے متاثر کیا،کرن تعبیر کی ڈائیلاگ ڈلیوری ہمیشہ متاثر کرتی ہے، (آواز بھی اگر کرن کی اپنی ہی ہوتی تو اور بھی اچھا تھا)۔ اس فلم میں بھی گوکہ اُس کے پاس مکالمے کم تھے مگر جو تھے وہ اُس نے بہت عمدگی سے ادا کئے،قاسم خان متاثر کرتا ہے،پل میں تولہ پل میں ماشہ اپنے کردار کو اُس نے اچھی طرح نبھایا البتہ مکالموں کی ادائیگی میں وہ تلفظ میں مار کھاگیا،سلیم معراج ہمیشہ کی طرح متاثر کرتے ہیں،انڈر ٹون میں جس خوبصورتی سے وہ مکالمے ادا کرتے ہیں وہ انہی کا خاصہ ہے،لاجواب ایکسپریشنز بھی انہوں نے دئیے لیکن سب سے زیادہ متاثر کیا نمرہ شاہد اور مبین گبول نے،نمرہ تیز طرار،ماڈرن عورت کی نمائندہ لڑکی کے کردار میں جا سمائی،اُس نے اپنے پیچیدہ کردار کے ڈلیما کو بخوبی اسکرین پر پیش کیا،آخری منظر میں مبین گبول نے اپنے چہرے پر جس طرح ”گُڈ ٹو ایول “تاثرات کی ٹرانزیشن پیش کی ہے اور کیمرہ نے اس منتقلی کوجس طرح محفوظ کیا ہے وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے،یقینی طور پر اداکاری کے معاملے میں یہ فلم متاثر کرتی ہے۔ ابوعلیحہ کئی سالوں سے کوئی غیر معروف نام نہیں ہے،وہ جس طرح کا لکھتے ہیں وہ بھی سب ہی جانتے ہیں،مین اسٹریم پر یہ اُن کا پہلا پروجیکٹ ہے اور یہ پہلا قدم بتارہا ہے کہ آگے سفر کیسا شاندار ہونے والا ہے،اس فلم کے مصنف بھی وہ خود ہیں اور ہدایتکاری بھی انہوں نے ہی انجام دی ہے اور یہ دوہری ذمے داری ہے جو انہوں نے اپنے پہلے (منظر عام پر آنے والے) پروجیکٹ میں اٹھائی ہے،بطور مصنف اُن کے کام پر بات کی جائے تو انہوں نے کہانی کی تھیم بہت عمدہ منتخب کی ہے ”انسان کو اپنے اندر کا ڈر ہی مارتا ہے“ کی یہ تھیم مگر کہانی کے بالکل اختتام پر واضح ہوتی ہے،چاروں پروٹیگنسٹ تلخ،کڑوے اور خود غرض تو نظر آئے مگر وہ کہیں سے بھی اپنے اندر کوئی ”خوف“ پالے بیٹھے نہیں دکھائی دئیے،چاروں کرداروں کے کومپلیکسز پر ہی اگر یہ بازی کھیلی جاتی اور اسے ہارر کے رنگ میں رنگنے کے بجائے انسانی نفسیات اور اُس کی گھمن پھیریوں پر ہی سارا فوکس رکھا جاتا تو یقینا یہ کہانی نہایت پُر اثر ہوتی مگر ہارر کا عنصر بھی بہت بعد میں فلم میں شامل ہوتا ہے اور کہانی کا ربط جیسے کہیں ٹوٹ جاتا ہے،یوں لگتا ہے جیسے یکدم کوئی دوسری کہانی شروع ہوگئی ہو۔

رہی بات ہدایتکاری کی تو یقینا یہ فلم اوورآل متاثر کرتی ہے اگر ہارر کا عنصر (یا یہ سوال کہ ہارر کیوں؟ کو) ذہن سے جھٹک کر دیکھا جائے،چاروں کرداروں کی بُنت،اُن کا اٹھنا بیٹھنا،اُن کی باتیں ریلیٹ ایبل ہیں،وہ اسی دھرتی پر بسنے اور جینے والے حقیقی کردار لگتے ہیں،اُن کی زندگی کے مسائل اور ٹرموائلز بھی حقیقی ہیں،ابو علیحہ نے فلم کا ٹریٹمنٹ بھی حقیقی رکھا،فلم میں “احساس” ہے،بے جان نہیں لگتی،تمام اداکاروں سے بھی انہوں نے اچھا کام لیا،محدود بجٹ میں آج کے دور میں فلم بنانا کچھ اتنا آسان بھی نہیں ہے اس کے باجود اس بات کی داد ضرور بنتی ہے کہ ابو علیحہ نے ایک مختلف کہانی اور مختلف طرز کی فلم ناظرین کو دینے کی کوشش تو کی جس میں وہ کسی قدر کامیاب بھی رہے۔

حرف آخر:

فلم بنانا اتنا آسان نہیں ہے جتنا اپنی اپنی نشست پر بیٹھ کر یہ کہنا کہ ”یہ کیا بنا ڈالا؟،ایسے نہیں ویسے بنانی چاہئے تھی“،اچھی بات ہے کہ کم از کم افراد جوش و جذبے سے اپنی اپنی کپسٹی میں پاکستانی سینما کو پھر سے اسٹیبلش کرنے کیلئے کوششیں کررہے ہیں،کبھی اچھی،کبھی بہت اچھی اور کبھی توقعات سے تھوڑی کم،مگر خوش آئند ہے کہ اب موضوعات اور ٹریٹمنٹ کے لحاظ سے مختلف طرز کی فلمیں بننے تو لگی ہیں،”کٹاکشا“ بھی ایسی ہی ایک کوشش ہے،جو کچھ کو بہت اچھی اور کچھ کو یقینا بہت بُری لگے گی،بہر حال فلم میں کچھ خامیوں کے ساتھ بہت کچھ اچھا بھی ہے جو دیکھا اور پسند کیا جاسکتا ہے اور بھی بہت اچھا ہوجاتا جو یہ فلم ”ہارر“ کا بہروپ نہ بھرتی ۔

I would give 2.5 stars.