گزشتہ سالوں کے دس بہترین ڈرامے از محمد یاسر۔

”ایک اچھا ڈرامہ کیا ہوتا ہے؟“
”جس کی کہانی نئی ہو“۔
”اور یہ نئی کہانی کیا ہوتی ہے؟“۔
ام م م۔۔۔سوچنے دو۔۔۔نئی کہانی سے مراد کوئی ایسی بات جو پہلے کبھی نہ کہی گئی ہو،ایسے کردار جو پہلے نہ دیکھے ہوئے ہوں،ایسی اداکاری جو پہلے نہ کی گئی ہو“۔
”یعنی۔۔ایسی کہانی جو مریخ پر بسنے والی مخلوقات کے بارے میں ہو،وہاں کے حالات زندگی (اگر تو وہاں واقعی زندگی کے اثرات ہیں) کو بیان کرے؟۔۔۔۔اور نئے کردار۔۔یعنی منہ کے بجائے آنکھوں سے نوالے چبانے والے اور دماغ کے بجائے پیروں کی انگلیوں سے سوچنے والے اور کانوں کے بجائے گردوں سے سننے والے۔۔یہ ہوتے ہیں نئے کردار“۔
”اف بھائی!کہنا کیا چاہتے ہو“۔
”صرف اتنا کہ دنیا میں سات ہی کہانیاں ہیں تو پھر ہم آخر آٹھویں کونسی کہانی سننا،دیکھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں؟“۔
”اسے چھوڑو یہ بتاؤ کہ برا ڈراما کونسا ہوتا ہے“۔
”جو حقیقت سے دور ہو،جس میں کرداروں سے ہر وہ چیز کروائی جائے جو حقیقت میں وہ نہ کرتے ہوں مثال کے طور پر ایک گھٹیا ترین مرد بھی اپنی بہن کیلئے ”اماں اسے لگام ڈال کر رکھو ورنہ کسی دن پیٹ پھلا کر آجائے گی“ نہیں کہتا۔۔مگر ایک بُرے ڈرامے میں ایسا کہتا دکھایا گیا ہے حال ہی میں“۔
”اور اچھے ڈراموں کی کوئی مثال ہے؟“۔
”بہت سی ہیں بلکہ زیادہ دور کیوں جائیں پچھلے پندرہ سولہا سالوں میں ایسے کئی ڈرامے بنے ہیں جو بہت زیادہ مقبول تو نہیں ہوئے مگر ان کا Content بہت شاندار تھا“۔
”ہوں۔۔تو کوئی دس گنواؤ“۔
۱۔اکبری اصغری۔
اردو ادب کے پہلے ڈرامے ”مراۃ العروس“ کی صرف لائن پر ”اکبری اصغری“ 28مئی2011کو ہم ٹی وی پر نشر ہوا،سکس سگما اور ایم ڈی کی اس جوائنٹ پروڈکشن کو لکھا فائزہ افتخار نے تھا جبکہ ہدایات ہائصم حسین کی تھیں،صنم بلوچ اور حمائمہ ملک نے ٹائٹل (اکبری،اصغری) پلے کئے،پنجاب اور لندن کے بیک گراؤنڈ میں سیٹ یہ ایک عمدہ طربیہ اور ایموشنل سیریل تھا جس کی کل 25اقساط تھیں۔
کہانی دو بھائیوں حاطم (ریحان شیخ) اور لقمان (اشرف خان) کی تھی،حاطم اپنی بیوی کلثوم (اسماء عباس) کے ساتھ لندن میں رہتا ہے اور اُس کی دو بیٹیاں اکبری (صنم بلوچ) اور اصغری (حمائمہ ملک) ہیں،حاطم لندن میں ٹیکسی چلاتا ہے اور کلثوم چاٹ کا ڈھابہ جبکہ پاکستان میں اپنی اپنی فیملیز کے آگے انہوں نے اپنے اسٹیٹس،امارت اور دولت کے بارے میں جھوٹوں کے انبار لگائے ہوتے ہیں،لقمان اور اُس کی بیوی شاہین(نرگس رشید) کے دو بیٹے ہیں اکبر چوہدری (عمران عباس) اور اصغر چوہدری (فواد خان)،حاطم اور لقمان کی اکلوتی بہن بتول(حمیرا چوہدری) سیالکوٹ بیاہی ہوئی ہے اور اول درجے کی شوہدی ہے جسے انگریزی بولنے کا مرض ہے،دونوں بھائیوں نے اپنی اپنی اولادوں کے رشتے آپس میں طے کررکھے ہیں،اکبر چوہدری ایک مولوی ہے،اصغر چوہدری اول درجے کا لچا ہے جبکہ اکبری منافق اور میسنی ہے اور اصغری سچی اور کھری۔۔۔
بظاہر اس عام سی کہانی میں فائزہ نے پاکستانی معاشرے میں پائے جانے والی منافقتوں کو جنہیں ہم سترپچھتر سالوں سے اپنی عزیز از جان روائیتیں سمجھ کر سینے سے لگائے بیٹھے ہیں پر نہایت کاری ضربیں لگائی ہیں،مذہبی معاملات میں خدا کی واحدانیت میں ”شرک“ کرتی ہوئی عقیدت،مذہب کے بارے میں لبرلز کی جنون کی ہر حد کو پھلانگتی ہوئی انتہا پسندی،ریت و رواج کے نام پر مرد و زن کو صدیوں سے زندہ درگور ہونا،فائزہ نے یہ سب بہت خوبصورتی سے کہانی کا حصہ بنایا ہے اور کسی بھی طرح سے یہ ڈراما ڈپٹی نذیر احمد کے ڈرامے کا ماخذ نہیں رہتا،چھوٹے چھوٹے چٹکلے،برجستہ فقرے اس سیریل کی خوبی ہیں،زندگی کی تمام تر حرارت لئے کردار جو زمینی اور پاکستانی ہیں بہت عمدہ لگتے ہیں اور حیرت کی بات ہے تمام تر خوبیوں کے باوجود یہ سیریل ریٹنگ لانے میں ناکام رہااور حیرت کی بات یہ بھی ہے Youtubeپر اس سیریل کی صرف تعریفیں ہیں۔

۲۔ملال۔
ایم ڈی پروڈکشن ز(مومنہ درید) کا امریکہ میں فلمایا ہوا ایک مہنگا پروجیکٹ ”ملال“ عمیرہ احمد اور مہرین جبار کا دوسرا مشترکہ سیریل تھا،”دوراہا“ کی بے حد پذیرائی کے بعد امید تھی یہ کہ سیریل بھی بے انتہا کامیاب ہوگا مگر ایسا ہوا نہیں اور کیوں؟،سچ بتاؤں تو قریباً چار بار یہ سیریل دیکھ چکا ہوں اور ابھی تک وجہ سمجھ نہ آئی،کُل 15یعنی محض پندرہ اقساط پر مبنی یہ خوبصورت سیریل 9اکتوبر2009کو ہم ٹی وی سے نشر ہوا۔
”ملال“ بنیادی طور پر ایک میچیور لو (Love) اسٹوری ہے جس میں بظاہر بہت ہی معمولی مگر در حقیقت نہایت اہم اشوز کو کہانی کا حصہ بنایا گیا جس میں سر فہرست شادی اور محبت میں ایج فیکٹر ہے۔
زینیا(دپتی گپتا) اور دانش (فیصل الرحمان) لیٹ تھرٹیز میں ہیں اورامریکہ میں رہتے ہوئے دس سالوں سے بہترین دوست ہیں،زینیا کو امید ہے کہ دانش اُسے پسند کرتا ہے اور جب بھی وہ شادی کیلئے ذہنی طور پر آمادہ ہوگا تو یقینا اُسی سے شادی کرے گا مگر دانش کی ماں اُس کی شادی سترہ برس چھوٹی ماہی (ثروت گیلانی) سے کردیتی ہے،زینیا اس صدمے کو جھیل لیتی ہے اور دانش سے دوری اختیار کرلیتی ہے،ماہی کا کزن جواد (عمران عباس) زینیا سے عمر میں آٹھ برس چھوٹا ہے اور اس فرق کے باوجود زینیا کو پسند کرتا ہے،سیفی (عدیل احمد) زینیا کی بیسٹ فرینڈ لِلی (تانیہ قاضی) کا بھائی ہے جس کے ساتھ ماہی شادی سے قبل انٹرنیٹ پر چیٹنگ کرتی تھی اور اُس کے نزدیک یہ محض دوستی ہی تھی لیکن سیفی ماہی کے بارے میں سیرئیس تھا اور اُس سے شادی کرنا چاہتا تھا،دانش اور ماہی کے درمیان مینٹل کمپے ٹبلٹی پیدا نہیں ہوپاتی اورسیفی کی وجہ سے مزید مشکلات ہوجاتی ہیں،زینیا اور جواد کے درمیان انڈرسٹینڈنگ میں ایج سے کوئی

رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی۔
اس مختصر سی کہانی کا لب لباب یہ ہے کہ رشتوں میں ایج کاؤنٹ نہیں ہوتی صرف احساس،اخلاص اور لحاظ کاوئنٹ ہوتا ہے،انسان کو کسی خود غرض انسان کے پیچھے چاہے اُس سے کتنی ہی محبت کیوں نہ ہو اپنے آپ کو خوار کرنے سے روکنا چاہئے۔2015میں یہ سیریل زی زندگی پر نشر کیا جاچکا ہے اس کے علاوہ MBC(مڈل ایسٹ براڈکاسٹنگ سینٹر) سے بھی اس سیریل کو عربی میں ڈب کرکے نشر کیا جاچکا ہے۔
اگر آپ میچیور Content،حساس اداکاری،عمدہ مکالمے اور بہترین ہدایتکاری دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ سیریل آپ کیلئے ہے۔

۳۔دھڑکن۔
فہیم برنی اور ایم ڈی پروڈکشن ز کا “دھڑکن” جون 2016سے نشر ہواجسے لکھا ایڈیسن ادریس مسیح نے اور ڈائریکٹ کیا فہیم برنی نے،یہ ایک ہلکی پھلکی سوئیٹ سی لو اسٹوری ہے جس میں انسانوں کے درمیان تعلقات وروابط میں دراڑیں ڈالنے والے چند اہم ایشوز کو موضوع بنایا گیا تھا،زارا نور عباس کا یہ debutسیریل تھا۔
آرین (زارا نور عباس)ایک ہنستی کھیلتی زندگی سے بھرپور لڑکی ہے جسے موسیقی سے عشق ہے،وہ

نفیس (وسیم عباس) اور حاجرہ (بینا چوہدری) کی اکلوتی لاڈلی بیٹی ہے،اپنے خالہ زاد دانیال (عمر فاروق) اورعز از جان سہیلی عیشاء (غانا علی) کی آنکھوں کا تارہ ہے اور وہ ایک عجیب بیماری میں مبتلا ہے اوراُس کی عمر تھوڑی ہے،آرین کی زندگی میں زاران (عدیل چوہدری) آتا ہے جو امیر کبیر ماں باپ (انجم حبیبی،جاوید شیخ) کا اکلوتا بیٹا ہے اور شہربانو (شامین خان) کا منگیتر ہے،آرین اور زاران کے درمیان نوک جھونک،دوستی جلد ہی محبت میں بدل جاتی ہے،آرین زاران کی فلرٹ طبیعت کو بدل دیتی ہے اور وہ اُسے حقیقت میں چاہنے لگتا ہے لیکن آرین اُس سے اپنی بیماری کو چھپا کر رکھتی ہے۔
عام سی اس لو اسٹوری کی خاص بات کرداروں کی بنت،مزے دار اور زندگی سے بھرپور مکالمے اور اداکاروں کی عمدہ اداکاری ہے،اس پورے سیریل میں آپ کو ایک بھی منفی کردار،سازشیں کرتا،چالیں چلتا،دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتا ہوا کوئی شیطان صفت انسان نہیں ملے گا جو بطور ناظر آپ انجوائے کرسکتے ہیں۔

۴۔دل محلے کی حویلی۔
اپنے نام کی طرح یہ کہانی بھی بہت مختلف اور مزے دار تھی،چھبیس اقساط پر مبنی A&Bکا یہ سیریل لکھا آمنہ مفتی نے اور ڈائریکٹ کیا امین اقبال نے،مئی 2013سے نشر ہونے والے اس سیریل کو ابتداء میں خاصی پذیرائی ملی مگر بعد ازاں یہ سیریل ریٹنگ بیرومیٹر پر کہیں بہت پیچھے ہی رہ گیا۔
بی اماں (ثمینہ احمد) لاہور کے قدیم علاقے کرشن نگر کی باسی ہیں اور قیام پاکستان کے بعد وہ دلی (دہلی) سے پاکستان چلی آئی تھیں اور ساری عمر یہاں گزانے کے باوجود انہیں اپنی ثقافت،رہن سہن سے عشق ہے اور جسے انہوں نے ہرگز نہیں چھوڑا مگر جو چیز اُن کا Obsessionہے وہ ہے اپنے (دلی) کے روائتی کھانے اور ذائقے جس میں وہ رتی بھر بھی سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں،اماں بی کے تین بیٹے ہیں،فہیم (نور الحسن)،عظیم (سرمد کھوسٹ) اور سعد (سمیع خان) جو کہ عمر ہوجانے کے باوجود کنوارے ہیں کیونکہ اماں بی ایسی بہوئیں لانا چاہتی ہیں جو اُن کی حویلی کی روایات و اقدار کی پاسداری بھی کرسکیں اور ان کے ہاتھوں میں دلی کے کھانوں کی لذت بھی ہو۔

یمنیٰ زیدی، سمیع خان،ثمینہ احمد اور سرمد کھوسٹ کی اداکاری،ڈارک کامیڈی،سسپنس تھرلر کا ایلیمنٹ اس سیریل کی ہائی لائٹ ہے،2015میں یہ سیریل زی زندگی سے ”میری تلاش“ کے نام سے نشر ہوا جہاں اسے بھرپور پسندیدگی حاصل ہوئی،ہر لحاظ سے ایک منفرد اور مزے دار سیریل۔

۵۔یاد تو آئیں گے۔
خلیل الرحمان قمر کا لکھا ہوا ”یاد تو آئیں گے“ کئی حوالوں سے ایک یاد گار سیریل تھا،جیو پر نشر ہونے والا یہ پہلا سیریل تھا جو کہ مئی 2004میں ایئر ہوا،پاکستان کی ڈراما ہسٹری میں یہ پہلا اور اب تک کا آخری سیریل ہے جو دو بار نئے سرے سے پوری کاسٹ تبدیل کر کے ساتھ شوٹ ہوا اور سب سے اہم یہ اداکارہ ریما کا پہلا اور آخری سیریل تھا اور اسی نقطے نے اس سیریل کو Talk of the town بنایا تھا،پہلے ورژن میں ریحان شیخ،شبیر جان،زیب چوہدری،طاہرہ واسطی،رضوان واسطی اور یاسرنواز تھے اور فائنل ورژن میں ہمایوں سعید،ساجد حسن،تانیہ شفیع،زیبا شہناز،شکیل اور میکال ذولفقار تھے(میکال ذولفقار کا بھی پہلا سیریل یہی ہے) جبکہ ریما دونوں بار مستقل رہی،یہ ان دنوں میں نشر ہوا جب پاکستانی چینلز پر ریٹنگ نام کی تلوار نہیں لٹکا کرتی تھی۔
ہمیشہ کی طرح خلیل صاحب کی یہ کہانی بھی وفا داری و بے وفائی کے تانے بانے سے بنی ہے مگر مزے کی بات یہ ہے کہ چودہ اقساط جی ہاں چودہ اقساط پر مشتمل اس سیریل میں غالبا ً پہلی بار محبت میں بے وفائی سہہ کر بدلہ لینے والی ”ہیروئین“ کو پاکستانی ڈرامے میں پیش کیا گیا۔

مہرو (ریما) مسٹر اینڈ مسز احمد حسن (زیبا شہناز،شکیل) کی اکلوتی و لاڈلی بیٹی ہے جو فیملی فرینڈ کے بیٹے زاویار (ہمایوں سعید) سے محبت کرتی ہے اور اُس سے منسوب ہے،شادی میں کچھ ہی عرصہ رہ گیا ہے اور وہ بہت خوشی خوشی اپنی شادی کی تیاریاں کررہی ہے،جواد (میکال ذولفقار) اُس کا ماموں زاد ہے اور ایک ناکام عاشق ہے،زاویار پاکستان آتا ہے تو ساتھ ہی اپنی بیوی ماہم (تانیہ شفیع) بھی لاتا ہے،یہ شادی مکمل بزنس میریج تھی مگر مہرو کے دل کی دنیا اس شادی نے اجاڑ ڈالی تھی،زاویار کی اس حرکت پر بڑا بھائی شہوار (ساجد حسن) بھی بہت غصے میں ہے،وہ مہرو سے شادی کیلئے ہاتھ مانگ لیتا ہے،مہرو کے ماں باپ اُسے بے عزت کرکے نکال دیتے ہیں مگر مہرو شہوار سے شادی کرنے کیلئے رضامندی دیتی ہے اور ماں باپ سے ضد کرتی ہے کہ یہ رشتہ قبول کرلیا جائے اور یوں مہرو زاویار کی متروکہ منگیتر سے زاویار کی بڑی بھابھی بن کر اُس گھر میں داخل ہوتی ہے۔
جیو کی اُس دور میں محدود ویور شپ کا نقصان اس سیریل کو ہوا اور اسے بڑی تعداد میں نہ دیکھا جا سکا لیکن اسے بہر حال ایک کامیاب سیریل مانا گیا،ریما کو اس سیریل میں اپنی چونکادینے والی اداکاری پر بہترین اداکارہ (ڈراما) کا لکس اسٹائل ایوراڈ بھی دیا گیا۔

۶۔ملاقات۔
زیبا بختیار کی پروڈکشن ”ملاقات“ ہم ٹی وی پر اپریل2009سے نشر ہوا،جسے ظفر معراج نے لکھا اور زیبا بختیار نے ڈائریکٹ کیا،اپنی کہانی اور Contentکے لحاظ سے یہ ایک میچیور لو اسٹوری تھی،18اقساط پر مبنی اس سیریل کو اُس وقت ٹھیک ٹھاک تنقید کا نشانہ بنایا گیا،اداکارہ می را کا یہ دوسرا بڑ ا سیریل تھا۔
کہانی ہے قیوم الدین (عدنان صدیقی)کی جو کہ فیوڈل سسٹم سے تعلق رکھتا ہے اور آغا جان (شبیر جان اور مسز شبیر) کا اکلوتا بیٹا ہے،قیوم شاعری کرتاہے اور ”گلزار“ تخلص کرتا ہے،ریڈیو پر پریزینٹر ہے،سعیدہ (عائشہ خان) اور اپنے دو چھوٹے بچوں کے ساتھ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزاررہا ہے مگردل کے ایک کونے میں رامین (می را) آج بھی موجود ہے،جس سے دس سال پہلے قیوم شادی کرنا چاہتا تھا اور عین وقت پر وہ قیوم کو چھوڑ کر چلی گئی تھی،رامین ایک رات ریڈیو پر گلزار کا پروگرام سنتی ہے اور

اُس سے رابطہ کرتی ہے اور یوں گلزار کی زندگی ایک عجیب کشمکش کا شکار ہوجاتی ہے۔
بظاہر اس عام سی کہانی میں ظفر معراج نے پاکستانی ڈڑامے کی حد تک پہلی بار محبت میں بے وفائی کو ایک الگ نظریئے سے پیش کیا،نفسیاتی گرہوں اور الجھنوں کو بہت تفصیل سے پیش کیا،ایک مرد کی دو عورتوں کے درمیان بٹنے کی کشمکش کو اس سیریل میں بناء judgmentalہوئے عمدگی سے پیش کیا گیا،اُس دور میں ریٹنگ کے پیمانے پر یہ سیریل کوئی چمتکار نہیں دکھا سکا پلس ہونے والی بے جا تنقید نے بھی اپنا کردار ادا کیا،اچھی شاعری،عمدہ مکالموں،فاسٹ پیس اور حساس اداکاری دیکھنی ہے تو ”ملاقات“ ایک پرفیکٹ چوائس ہے۔

۷۔مورا پیا۔
نبیل قریشی اور فضاء علی مرزا کی پروڈکشن (The Filmwala productions) کے بینر تلے سیریل ”موراپیا“ یقینا یقینا خاصے کی چیز ہے،جسے لکھا محسن علی نے اور ڈائریکٹ کیا انجم شہزاد نے،پی ٹی وی کے دور یعنی پاکستانی ڈرامے کے حقیقی سنہرے دور کی یاد تازہ کرتا ہوا یہ سیریل بھی بنیادی طور پر ایک لو اسٹوری تھا مگر۔۔۔اس کی کہ صرف کہانی چونکادینے والی ہے بلکہ ٹریٹمنٹ،ایگزیکیوشن میں بھی ایسا بہت کچھ ہے جو بہت عمدہ ہے۔
اجالا (آمنہ شیخ) اور فیصل (عدیل حسین) ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے ہیں اور جلد ہی دونوں کی شادی ہونے والی ہے،فیصل Investigativeجرنلسٹ ہے جبکہ اجالا ایک آرٹسٹ ہے اور دونوں زندگی سے بھرپور ہیں،فیصل لینڈ مافیا کے خلاف کام کررہا ہے اور اسی وجہ سے وہ لوگ اُس کے دشمن بنے ہوئے ہیں،شادی کی رات فیصل کو ایک کال موصول ہوتی ہے اور اُسے بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی،دوست کیمرہ مین کی زندگی بچانا چاہتا ہے تو مخصوص جگہ پر پہنچے،فیصل بناء سوچے سمجھے وہاں جانے لگتا ہے مگر اجالا اُسے تنہا جانے نہیں دیتی اور یوں وہ دونوں گھر میں کسی کو بتائے بغیر چلے جاتے ہیں مگر فیصل اور اجالا دشمنوں کے بچھائے جال میں پھنس جاتے ہیں،فیصل کے سامنے اُس کی اجالا کو شادی کی رات ریپ کیا جاتا ہے،فیصل بے بسی سے چیختا رہ جاتا ہے،فیصل اور اجالا ایک دوسرے سے نظریں چرائے خود کو ایک دوسرے کی اذیت کا ذمے دار ٹھہراتے ہیں تاوقتیہ اجالا امید سے ہوجاتی ہے،ابتداء میں وہ دونوں اس بچے سے جان چھڑاناچاہتے ہیں مگر پھر اجالا بچے کو پیدا کرنے کا فیصلہ کرتی ہے اور یوں زادان اُن کی زندگی میں آتا ہے جسے فیصل قبول نہیں کرپاتا اور پھر چار سال فیصل اور اجالا ایک دوسرے کیلئے آزمائش بنے رہتے ہیں۔

انتہائی لاجواب انداز میں لکھے ہوئے اس اسکرپٹ کو انجم شہزاد نے اتنی ہی حساسیت اور سمجھداری سے فلمایا ہے،آمنہ شیخ اور عدیل حسین کا یہ (دام کے بعد) دوسرا سیریل تھا جسے Dueریسپانس نہ مل سکا،2015میں یہ سیریل زی زندگی سے ”پیا۔۔رے“ کے نام سے نشر ہوا اور ٹاپ فائیو ریٹنگ بسٹرز میں رہا۔

۸۔بڑی آپا۔
ایم ڈی پروڈکشن ز کا ”بڑی آپا“ستمبر2012میں نشر ہوا،بائیس اقساط پر مبنی اس سیریل کا ٹائٹل سویرا ندیم نے کمال مہارت سے ادا کیا،اسے لکھا سمیرا فضل نے تھا اور ہدایات سیفِ حسن کی تھی،بظاہر سادہ سی اس سیریل کی کہانی میں بہت عمدگی اور برجستگی سے انتہاپسندی اور تسلط پسندی کو موضوع بنایا گیا،انسانی رشتوں کے درمیان دم گھونٹتی ہوئی محبت کو بطور ingredientاستعمال کیا گیا۔
زبیدہ (سویراندیم) ایک باوقار و رکھ رکھاؤ والی اصول پسند خاتون ہیں،شوہرفرمان (نعمان اعجاز) اور بیٹی شرمین (سارہ خان) سمیت ماں (ساجدہ سید)،اکلوتا بھائی شکیل(سید جبران)،چھوٹی بہن فردوس (ارجمند رحیم)،بھابھی رفعت (مدیحہ رضوی) ہر ایک پر زبیدہ کا رعب و دبدبہ ہر ایک پر ہے سوائے بہنوئی غضنفر (وقاص خان) کے،زبیدہ کی تسلط پسندفطرت سے سب تنگ ہیں لیکن کسی کی مجال نہیں ہے کہ اُس کے منہ پر کچھ کہہ سکے،زبیدہ کو رام اگر کوئی کرسکتا ہے تو وہ صرف غضنفر ہے جو جوانی کے دنوں میں زبیدہ سے منسوب تھا مگر کچھ وجوہات کی بناء پر زبیدہ کی زبردستی شادی امیر کبیر فرمان سے کردی جاتی ہے لیکن زبیدہ آج بھی غضنفر سے محبت کرتی ہے،نیلم (عائشہ خان) فرمان کے دوست کی اکلوتی بہن ہے جس سے دوست کے انتقال کے بعد فرمان مدد کی غرض سے شادی کرلیتا ہے،عیسیٰ نیلم کا کزن ہے جس سے شرمین محبت کرتی ہے اور خالہ کا بیٹا عدیل بھی شرمین میں دلچسپی رکھتا ہے مگر فردوس کسی بھی قیمت پر

بھانجی کے ساتھ بیٹے کی شادی نہیں کرنا چاہتی،زبیدہ کے علم میں آجاتا ہے کہ شرمین عیسیٰ میں انٹرسٹڈ ہے تو وہ قیامت مچا دیتی ہے لیکن جب اُسے یہ پتا چلتا ہے کہ عیسیٰ کی کزن سے فرمان چوری چھپے شادی کرچکا ہے اور ان کا تین سال کا بیٹا بھی ہے تو زبیدہ زمین آسمان ایک کردیتی ہے،زبیدہ کو آخری وقت پر جا کر یہ احساس ہوتا ہے کہ اُس کے ماں جائے،ماں اور شوہر ہی نہیں بلکہ بیٹی بھی اُس سے خائف ہے تو اس کی وجہ وہ خود ہے۔
سمیرا فضل کے زندگی سے بھرپور برجستہ مکالمے،سویرا ندیم کی شاندار اداکاری اس سیریل کی نمایاں خوبی ہیں،وہ ناظرین جن کو گھریلو سیاستوں،سازشوں اور لگائی بجھائی ٹائپ کہانیاں اور ڈرامے پسند ہیں یہ ڈراما اُن کی اولین چوائس بن سکتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام تر لوازمات اس سیریل میں منطق کے ساتھ شامل کئے گئے ہیں۔

۹۔آشتی۔
مہرزو کریم پرڈوکشن ز کا ”آشتی“ مارچ2009میں ہم ٹی وی سے نشر ہوا جسے سیما غزل نے لکھا اور عدنان وائے قریشی نے ہدایات دیں،پاکستان میں بنگالیوں کے حالات زندگی اور خاص طور پر 1971؁کے بعد سے پاکستان میں بنگالی کمیونٹی کو جس طرح کے Identity crisesکا سامنا آج تک کرنا پڑرہا ہے اُسے بہت عمدگی سے اس سیریل کا حصہ بنایاگیا،27اقساط پر مبنی اس سیریل کا ٹائٹل ریشم نے ادا کیا جبکہ ایک لمبی چوڑی کاسٹ بھی سیریل میں شامل تھی۔
آشتی (ریشم) کراچی کی بنگالی بستی میں اپنے خاندان والوں کے ساتھ آباد ہے،ماں (سلمیٰ ظفر) لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے،آشتی بچپن سے ہی نذر السلام (فیصل قریشی) سے منسوب ہے مگر وہ دل ہی دل میں ابراش (ہمایوں سعید) کو چاہتی ہے جس کے یہاں وہ ملازمہ ہے،ابراش کے گھر ملازموں کے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کیا جاتا ہے،ابراش بھی آشتی کی معصومانہ باتوں پر خوش ہوتا ہے اور اُسے تعلیم مکمل کرنے کیلئے Motivateکرتا رہتا ہے،ابراش کی زندگی میں زرنش (انجلین ملک) ہے جو اُس کے ساتھ لندن میں پڑھتی تھی،زرنش نسل پرستی اور تصبی فطرت رکھتی ہے اورشادی کے بعد ابراش کے گھر آنے پر وہ آشتی سے خواہ مخواہ کا بیر پال لیتی ہے،ابراش آشتی کا ساتھ دیتا ہے جس پر زرنش ان دونوں کے درمیان تعلقات کا الزام لگاتی ہے اور لندن واپس چلی جاتی ہے،تب آشتی ابراش سے اپنی محبت کا اقرار کرلیتی ہے لیکن ابراش زرنش کو منانے لندن چلاجاتا ہے،آشتی پر اپنے گھر والوں کی جانب سے بھی مسلسل شادی کا دباؤ ہے اور تب وہ علی عالم (ساجد حسن) سے شادی کرلیتی ہے۔


اس سیریل کی کہانی بنگالیوں کے حالات کی عکاسی اور پاکستانی معاشرے میں موجود تعصب اس سیریل میں بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا،تمام تر اداکار خصوصاً سلمی ظفر،پروین اکبر،فہد مصطفی،مدیحہ افتخار،سہیل اصغر اور فیصل قریشی جنہوں نے بنگالیوں کے کردار ادا کئے بہترین اداکاری کا مظاہرہ کیا مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ صرف اور صرف ریشم کا سیریل ہے،فیصل آباد بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والی ریشم جو ٹھیٹھ پنجابی بولتی ہے نے نہ صرف چہرے مہرے اور باڈی لینگوئیج بنگالی اپنائی بلکہ بول چال اور تلفظ ایسا پرفیکٹ بنگالی پکڑا کہ یقین نہیں آتا کہ آشتی کا کردار ادا کرنے والی ریشم بنگالی نہیں ہے۔لاجواب ترین سیریل۔

۰۱۔جیکسن ہائیٹس۔
سکس سگما پلس کا امریکہ میں مقیم پاکستانیوں اور بھارتیوں کی زندگی پر مبنی کھیل ”جیکسن ہائیٹس“ستمبر2014میں ایکسپریس انٹرٹینمنٹ پر نشر ہوا جسے لکھا واسع چوہدری نے اور ڈائریکٹ کیا مہرین جبار نے،بہت سالوں کے بعد یہ ایک واحد ایسا سیریل تھا جس کی کہانی چھے مختلف انسانوں کی Individualاسٹوریز سے مل کر بنی تھی،کسی حد تک یہ ایک تجرباتی سیریل بھی کہا جاسکتا ہے۔
سلمیٰ (آمنہ شیخ) پاکستانی ہے جو جیکس ہائیٹس میں حسینہ بیوٹی پارلر پر کام کرتی ہے،اُس کے گھر میں اُس کی ظالم ساس اور سوتیلی بیٹی ایمان بھی رہتی ہے جبکہ اُس کا شوہر سکندر (علی کاظمی) سال کے بیشتر مہینے مار پیٹ،چھوٹے موٹے کرائمز کی وجہ سے جیل میں گزارتا ہے،صائمہ سکندر کے ساتھ ایک Abusive marriageمیں رہ رہی ہے،سلمیٰ کی ملاقات عمران بھٹی (نعمان اعجاز) سے ہوتی ہے،بھٹی پندرہ سال قبل پاکستان سے امریکہ ٹیورسٹ ویزے پر آیا تھا مگر واپس نہیں جا سکا کیونکہ اُس کا ویزہ الیگل تھا اور وہ اتنے ہی سالوں سے امریکہ میں Cab driverکے طور پر کام کررہا تھا لیکن پیچھے پاکستان میں بھٹی سب کو یہی بتاتا ہے کہ وہ امریکہ میں Cab کمپنی کا مالک ہے،بھٹی نے ایک امریکن عورت کیتھی سے شہریت کی ڈیل کے طور پر شادی کررکھی ہے،کیتھی اور اُس کی بیٹی ازابیل کا رویہ بھٹی کے ساتھ بے حد خراب ہے مگر کیتھی کا بیٹامارک بھٹی سے کلوز ہے،بھٹی صاحب کی اپنی ہی الگ ٹور ہے،بے حد

باتونی،حاضر جواب اور شوخ طبیعت کا ہے جس سے سلمیٰ کو ابتداء میں شدید چڑ محسوس ہوتی ہے مگر دھیرے دھیرے ان کے درمیان دوستی ہوجاتی ہے مگر سلمیٰ اُسے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی،جمشید (عدیل حسین) بھٹی کا بھتیجا ہے جسے ماں (نغمہ) کے زور دینے پر بھٹی امریکہ بلوالیتا ہے،جمشید کی پاکستان میں ایک گرل فرینڈ ہے جس سے شادی کیلئے وہ امریکہ کام کرنے آیا ہے،جمشید مشیل (مرینہ خان) کے ریسٹورنٹ میں کام کرنے لگتا ہے،مشیل ایک کولڈ ہارٹڈ پاکستانی کرسچین ہے جسے ایک بھارتی مسلم بینکر (رضوان جعفر)محبت کا جھانسہ دے کر رکھے ہوئے ہے۔
یہ چھے مختلف کہانیاں آپس میں کس طرح ملتی ہیں اور پھر ان کا انجام کیا ہوتا ہے اس کیلئے تو آپ کو سیریل دیکھنا پڑے گا لیکن ایک چیز وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ان تمام تر الجھی ہوئی کہانیوں میں زندگی کی تمام تر حرارت موجود ہے،یہ سب کردار ہنستے ہیں،روتے ہیں،گرتے ہیں،سنبھلنے کی کوشش میں پھر منہ کے بل گرتے ہیں لیکن بالآخر سنبھل کر چلنا سیکھ لیتے ہیں،عمدہ مکالمے،برجستگی اور ڈارک کامیڈی اس سیریل کی اضافی خوبیاں ہیں۔

اب ان میں سے تم کون سا سیریل پہلے دیکھو گےَ؟ اور اگر دیکھ چکے ہو تو تمہاری کیا رائے ہے ضرور بتائو۔