ہمت کرے کوئی

::بنت ارسلان::
images (2)!!!ہمت کرے کوئی

کالج اور یونیورسٹیز کی پڑھائی کے بعد ھم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ باہر کی دنیا کو اب ھم سے بہترکوئی نہیں چلا سکتا،نظام بدلنے کی خواہش، معاشرے کی بے حسی اور حکومت کو الزام دینابہت آسان لگتا ہے۔پندرہ سولہ سال کی پڑھائی سے فارغت کے پہلے ہی خواب بہت اُونچے بُن لئے جاتے ہیں کہ بس اب تعلیم مکمل تو سب کچھ قدموں میں۔
تعلیم مکمل ہونے کے فوراً بعدملازمت یا کاروبار ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا، مگر اس کا ہرگزمطلب نہیں کہ ہمت ہار دی جائے یا بُرا بھلا کہا جائے، یا پھر غلط راہ اپنائی جائے، کبھی بھی کوئی کام شروع میں ہی کامیاب نہیں ہوجاتا، اُس کے لیے توانتھک محنت کی ضرورت ہوتی ہے یا پھر باپ دادا کی دولت۔
اور باپ دادا کی دولت سب کے پا س نہیں ہوتی،اس لئے محنت زیادہ ضرور ی ہے، اگر انسانی تاریخ کی طرف دیکھا جائے تو محنت کا سلسلہ تو حضرت آدم علیہا سلام سے شروع ہوتا ہے اور آخری محبوب رسول صل اللہ وعلیہ وآلہ وسلمتک پھر اصحاب رسول سے چلتا ہوا بر گزیدہ ہستیوں تک پہنچتا ہے اور پھر ہم تک۔
کہتے ہیں کہ اللہ جس کو عزت اور مرتبہ دینا چاہتا ہے اُسے اُتنی محنت و مشقت میں مبتلا کر کے آزماتے ہیں،کچھ لوگ اللہ کی آزمائش پہ پورا اترتے ہیں اور کچھ ناکام ہو جاتے ہیں،مگر وہ کبھی بھی کسی کو اُس کی بساط سے بڑھ کے ا ٓزمائش میں نہیں ڈالتا۔
طلبا وطالبات کی آجکل کی پڑھائی تو ویسے ہی محنت و مشقت سے بھری پڑی ہوتی ہے مزید محنت میں تو اُنہیں عار ہی نہیں ہونا چاہیے، مگر اُن کے اُونچے خواب اُنہیں کسی چھوٹے کام سے شروعات کے لیئے شرمندگی کاباعث لگتے ہیں ِ۔
کہیں بہت بچپن میں ایک واقعہ سُنا تھا کہ ایک بچہ سخت گرمیوں میں سکول سے واپسی پہ اپنے گھر داخل ہوا،بھوک اور پیاس کی نقاہت اُس بچے کے چہرے سے صاف نظر آرہی تھی، کھانا مانگنے پہ پتہ چلا کہ گھر میں کچھ نہیں، اُس کا باپ ایک دہاڑی دار مزدور تھا، بچہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر ہمت کر کے اُس نے اپنی ماں سے پوچھا کہ کیا اُسے 25 پیسے مل سکتے ہیں، ماں نے جانے کہاں سے تلاش کر کے بچے کو 25پیسے دیئے، وہ بچہ بھوک اور نقاہت کے باوجود اُٹھا گھر سے بالٹی میں پانی اور دو گلاس لے کے قریبی برف خانے سے 25 پیسے کی برف خریدکر پانی والی بالٹی میں ڈالی اور نزدیکی بس سٹاپ پُہنچ گیا، سخت گرمیوں کی وجہ سے اُس کا پانی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گیا۔
وہ جو گھر سے25 پیسے لے کے نکلا تھا واپسی پر اُس کے ہاتھ میں 25روپے تھے،اُس کے گھر کے حالات اس سے پہلے اُس محاورے کے مطابق تھے کہ
کام ملا تو روزی نہ ملا تو روزہ“
مگر اُس دن کے بعدروز روزی ملنے لگی اور گھر والوں کو سہارابھی، صُبح وہ اسکول جاتا اور دوپہر کوٹھنڈا پانی بیچتا، کئی سال اُس نے ایسے ہی محنت کی اور ساتھ میں اپنی پڑھائی کے اخراجات بھی اُٹھائے اور حالات کا مقابلہ کیا، اُس نے محنت کی کوشش کی مگر ہمت نہیں ہاری۔
سفر 25 پیسے سے ہو اور حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ تو کوئی بھی آپکی کامیابی کو روک نہیں سکتا۔ محنت کریں اور کامیابی من جانب اللہ چھوڑ دیں تو سب قدم منزل کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
قدم بڑھانے کے لئے قدم اُٹھانا ضروری ہوتا ہے،اگر یہی سوچ کے قدم پیچھے ہٹا لیا جائے کہ ”ہمارے پاس کچھ نہیں، ہمارے باپ دادا نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا یا ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑا“ تو ترقی ممکن نہیں۔
بڑی جمپ لگانے کے لیے خود کو تھوڑا پیچھے کرنا پڑتا ہے تاکہ ٹارگٹ عبور کیا جا سکے، کامیابی کی راہ میں اُٹھا ہر قدم آپ کو مزید آگے کی طرف گامزن کرتا ہے اور اگر آپ کو محنت کا صلہ فوراً نہیں مل رہا تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کی ہمت ہار دی جائے۔

بھلا ہمت بھی کوئی ہارنے کی چیز ہوتی ہے۔