افسانچہ : “یار کو ہم نے جا بہ جا دیکھا”.

تحریر : شمسہ فیصل.
“وصل یار” زندگی سے زندگی تک کا سفر اور “فراق یار” فنائی سے موت کے بعد تک کی اذیت،،
“کیا ہے یہ محبت؟”،لبوں پہ اُترے تو شیرینی اور اندر تک جائے تو زہر..
“آہ! محبت کو زہر کہہ دیا…یہ کیا کیا..؟…گناہ کردیا”،دل کُرلایا..
“جانے دے اے دل!محبت عشق بن کر رگوں میں اُتر جائے تو کب یہ زندہ رہنے دیتا ہے..سانسوں میں اٹک اٹک جاتا ہے..تجھے بھی تو..اے دل! تجھے بھی تو یہ چھلنی کرتا رہتا ہے..پھر بھی تو اس عشق کی حمایت میں مجھے گنہگار کہہ رہا ہے..حالانکہ محبت کی دیمک مجھے چاٹے جارہی ہے…اے دل! تُو کب تک مجھے شہر خموشاں کی جانب سفر کرنے سے روکے گا؟،اب تو اُس کے آنے کی آس بھی دم توڑنے لگی ہے…اُسے ایک بار..بس ایک آخری بار دیکھ لینے کی سسکتی خواہش اب میری رگوں کو کاٹنے لگی ہے..تُو تو جانتا ہے کیسی قیامت ہے جو میرے وجود پر گزر رہی ہے…تُو تو جانتا ہے..تُو تو سب کچھ جانتا ہے..
کتنے ہی سال بیت گئے ہیں مجھے اُس کے انتظار کے صحرا میں سفر کرتے ہوئے..اتنی بار میں نے محبوب کو “گُماں” کی صورت میں دیکھا ہے کہ اب حقیقت میں اُسے دیکھوں گی تو..پتا نہیں دیکھ بھی سکوں گی یا نہیں..وہ کبھی خون بن کے میری رگوں میں دوڑتا ہے تو کبھی سانس بن کر میرے وجود میں پھرتا ہے….محب سے محبوب تک کا سفر میری ہر گھٹتی ہوئی سانس کو نئی زندگی دیتا ہے….
اے دل!تُو ہی اُسے سمجھا..وہ میرا نہیں ہو سکتا…نہ بنے..بس اک نظر التفات…وہی محبت کی نظر جسے میں نے بےدردی سے دھتکار دیا تھا….وہ پھر سے مجھ پر ڈال دے..مجھے یہ آرزو نہیں کہ میرے ساتھ کوئی رشتہ استوار کرے….نہ ہی سفر زیست میں اُس کی ہمسفری کی خواہش ہے…بس…وہ احساس بن کر میرے آس پاس رہے..خوشبو بن کر..گُمان بن کر…”.
“مجھے تم پر اب رحم آتا ہے..اس موئے عشق نے تجھے کیا سے کیا بنا دیا..فٹے منہ ایسی محبت کا کہ جس نے تیرے موتیوں جیسے وجود کو اُس حبشی مرد کیلئے رول دیا”،دل جیسے رو ہی تو پڑا تھا اُس کی حالت زار پر،
“خاموش اے نادان دل!تیری اتنی مجال کہ تُو میرے محبوب کی ایسی توہین کرے…وہ کم صورت ہے تو کیا..میری نظر سے پوچھ جنہوں نے اُسے دیکھ لیا اور اب کچھ اور دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہیں…تُو کیا جانے خون کے بے حس لوتھڑے….وہ کیا ہے میرے لئے…میری دنیا..میری پوری دنیا ہے وہ..آہ!…
بس اے دل!،،وہ محبت نہیں ہے…کہتا ہے میں جھوٹ بولتی ہوں..میں جو صحرا بہ صحرا…قریہ بہ قریہ..اُس کیلئے مجنوں ہوگئی ہوں…اور اُسے میری محبت پر ہی اعتبار نہیں…..
اے میرے محبوب..! دیکھ میری ان آنکھوں کو..کبھی اعتبار کی دہلیز پر آنا ہو تو جھانکو میری نظروں میں..جنہیں ساری دنیا میں صرف ایک ہی شخص دکھائی دیتا ہے..،.اور وہ تم ہو..صرف تم..کبھی ظاہر..کبھی چھپ کر..کبھی سر پردہ کبھی پس پردہ…کبھی میرے سامنے بیٹھے…کبھی میرے خیالوں پر حکمرانی کرتے…ہائے دل…
ہائے دل…میں اس عشق میں فنا ہی تو ہوگئی ہوں..”
××××××××
“وہ عشق ہی کیا جو لاحاصل رہے..اور مجھے تو اس لاحاصل عشق میں زندگی گزارنی ہے،وہ عشق تک آئی تھی…آہ!”تھی”،کتنا تکلیف دہ ہے اُس کیلئے “تھی” کا لفظ کہنا،وہ عشق میں فنا ہوگئی اور میں اُس کے جنوں میں پاگل…
اُس سے دوری میری مجبوری اور…کب یہ پتا تھا کہ یہی دوری اُس کیلئے فنا بن جائے گی…میں تو اُس کی ہر اذیت میں اُس کا ہمسفر رہا..جس وجود کو وہ گمان سمجھتی تھی وہ حقیقت ہی تو تھا…جس خون کے لوتھڑے سے وہ باتیں کرتی تھی اُس کی دھڑکنوں کی بازگشت میں راتوں کو سنا کرتا تھا،ہر لفظ میں چھپی اُس کی اذیت کسی انی کی طرح میں نے اپنے سینے پر جھیلی ہے…وہ تو عشق کے زہر کے ہاتھوں مر گئی…اور میں…میں تو اُس کے جنوں کی کندھ چھری کے ہاتھوں روز ذبح ہوتا رہا ہوں…
کاش وہ جان پاتی کہ وقت رخصت اُس کا ہاتھ “گماں” کے ہاتھ میں نہیں تھا…میں مجسم حقیقت اُس کے پاس تھا…اور وہ جاتے جاتے اپنا عشق مجھے دے گئی…اور میرے جنوں اور اُس کے عشق نے مل کر کیا رنگ رچا کہ میں جوگی ہوگیا..
اُسے ڈھونڈتے،تلاش کرتے،گمان سے حقیقت کے بین بین اُسے چاہتے…ایک دن فنا ہوجائوں گا…
اور تب ….تب وہ اُس “گھر” میں میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے گی..
یہ اُس کے عشق سے آگے کی منزل ہے…میرے جنون کی حد…کہ میں “میں” نہیں رہا “وہ” ہوگیا ہوں..”

ختم شُد.