منٹونستان : یوم کشمیر کیلئے ’’ٹیٹوال کا کُتا‘‘

تحریر : سعادت حسن منٹو.

کئی دن سے طرفین اپنے اپنے مورچے پر جمے ہوئے تھے۔دن ادِھر اور اُدھر سے دس بارہ فائر ہوجاتے ،جن کی آواز کے ساتھ کوئی انسانی چیخ بلند نہیں ہوتی تھی۔ہوا خُردرَو پھولوں کی مہک میں بسی ہوئی تھی۔پہاڑیوں کی اونچائیوں اور ڈھلوانوں پر جنگ سے بے خبر قدرت اپنے مقررہ اشغال میں مصروف تھی۔پرندے اسی طرح چہچہاتے تھے۔پھول اسی طرح کھل رہے تھے اور شہد کی رست رو مکھیاں اُسی پرانے ڈھنگ سے اُن پر اونگھ اونگھ کر رس چوستی تھیں۔
جب پہاڑیوں میں کسی فائر کی آواز گونجتی تو چہچہاتے پرندے چونک کر اڑنے لگتے،جیسے کسی کا ہاتھ سازکے غلط تار سے جا ٹکرایا ہو اور اُن کی سماعت کو صدمہ پہنچانے کا موجب بنا ہو۔ستمبر کا انجام اکتوبر کے آغاز سے بڑے گلابی انداز میں بغل گیر ہورہا تھا۔ایسا لگتا تھا کہ موسم سرما اور گرما میں صلح صفائی ہورہی ہو۔نیلے نیلے آسمان پر دھنکی ہوئی روئی ایسے پتلے پتلے اور ہلکے ہلکے بادل یوں تیرتے تھے جیسے اپنے سفید بجروں میں تفریح کررہے ہیں۔
پہاڑی پورچوں میں دونوں طرف کے سپاہی کئی دن سے بڑی کوفت محسوس کررہے تھے کہ کوئی فیصلہ کُن بات وقوع پذیر نہیں ہوتی۔اُکتا کر اُن کا جی چاہتا تھا کہ موقع بے موقع ایک دوسرے کو شعر سنائیں۔کوئی نہ سُنے تو ایسے ہی گُنگناتے رہیں۔پتھریلی زمین پر اوندھے سیدھے لیٹے رہتے تھے اور جب حُکم ملتا تھا ایک دو فائر کردیتے تھے۔
دونوں کے مورچے بڑی محفوظ جگہ تھے،گولیاں پوری رفتار سے آتی تھیں اور پتھروں کی ڈھال سے ٹکرا کر وہیں چِت ہوجاتی تھیں۔دونوں پہاڑیاں جن پر یہ مورچے تھے،قریب قریب ایک قد کی تھیں۔درمیان میں چھوٹی سی سبز پوش وادی تھی جس کے سینے پر ایک نالہ سانپ کی طرح لوٹتا رہتا تھا۔
ہوائی جہازوں کا کوئی خطرہ نہیں تھا،توپیں اُن کے پاس تھیں نہ اِن کے پاس،اس لئے دونوں طرف بے خوف و خطر آگ جلائی جاتی تھی۔اُن سے دھوئیں اٹھتے اور ہواؤں میں گُھل مل جاتے۔رات کو چونکہ بالکل خاموشی ہوتی تھی اس لئے کبھی کبھی دونوں مورچوں کے سپاہیوں کو ایک دوسرے کے کسی بات پر لگائے جانے والے قہقہے سنائی دے جاتے تھے۔کبھی کوئی لہر میں آکر گانے لگتا تو اُس کی آواز رات کے سناٹے کو جگادیتی۔ایک کے پیچھے ایک صدائے بازگشت گونجتیں تو ایسا لگتا کہ پہاڑیاں آموختہ دہرارہی ہیں۔
چائے کا دور ختم ہوچکا تھا۔پتھروں کے چولہے میں چیڑ کے ہلکے پھلکے کوئلے قریب قریب سرد ہوچکے تھے۔آسمان صاف تھا ،موسم میں خنکی تھی،ہواؤں میں پھولوں کی مہک نہیں تھی جیسے رات کو انہوں نے اپنے عطر دانے بند کردئیے تھے،البتہ چیڑ کے پسینے یعنی پروڑ کی بُو تھی مگر یہ بھی کُچھ ایسی ناگوار نہیں تھی۔سب کمبل اوڑھے سورہے تھے۔مگر کُچھ اس طرح کہ ہلکے سے اشارے پر اٹھ کر لڑنے مرنے کیلئے تیار ہوسکتے تھے۔صوبیدار ہرنام سنگھ خود پہرے پر تھا۔اُس کی راسکوپ گھڑی میں دو بجے تو اُس نے گنڈاسنگھ کو جگایا اور پہرے پر متعین کردیا۔اُس کا جی چاہتا تھا کہ سوجائے،پر جب لیٹا تو آنکھوں سے نیند کو اتنا دُور پایا جتنا کہ آسمان کے ستارے تھے۔صوبیدار ہرنام سنگھ چِت لیٹا اُن ستاروں کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔۔اور گُنگنانے لگا۔
’’جتی لینی آں ستاریاں والی۔۔۔ستاریاں والی۔۔
وے ہرنام سنگھا ہو یار۔۔۔بھاویں تیری مہیں وِک جائے۔۔‘‘
اور ہرنام سنگھ کو آسمان پر ہر طرف ستاروں والے جوتے بکھرے نظر آئے،جو جھلمل جھلمل کررہے تھے۔
’’جتی لے دوں ستاریاں والی۔۔۔ستاریاں والی۔۔۔
نی ہرنام کورے ہو نارے۔۔۔۔بھاویں میری مہیں وِک جائے۔۔‘‘
یہ گا کر وہ مُسکرایا،پھر یہ سوچ کر کہ نیند نہیں آئے گی۔اُس نے اٹھ کر سب کو جگایا،نار کے ذکر نے اُس کے دماغ میں ہلچل پیدا کردی تھی۔وہ چاہتا تھا کہ اوٹ پٹانگ گفتگو ہو،جس سے اُس کی بولی کی ہرنام کوری کیفیت پیدا ہوجائے۔چنانچہ باتیں شروع ہوئیں مگر اکھڑی اکھڑی رہیں۔بنتا سنگھ جو اُن سے میں کم عمر اور خوش آواز تھا،ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گیا،باقی اپنی بظاہر پُرلطف باتیں کرتے اور جمائیاں لیتے رہے۔تھوڑی دیر بعد بنتا سنکھ نے ایک دم اپنی پُرسوز آواز میں ’’ہیر‘‘ گانا شروع کردی۔
’’ہیر آکھیا جوگیاجوٹھ بولیں،کون روٹھڑے یار مناؤندائی۔
ایسا کوئی نہ ملیا میں ڈونڈ تھی، جہیڑا گیاں نور موڑ لے آوندائی ۔
اک باز تو کانگ نے کونج کھوئی دیکھاں چپ ہے کہ کُرلاؤندائی
دُکھاں والیاں نوں کلاں سکھدیاں نی قصے جوڑ جہان سناؤندائی۔‘‘
پھر تھوڑے وقفے کے بعد اُس نے ہیر کی ان باتوں کا جواب رانجھے کی زبان میں گایا۔
’’جیہڑے باز توں کانگ نے کونج کھوئی صبرشکر کر باز فنا ہویا۔
اینویں حال ہے اس فقیر دا نی دھن مال گیا تے تباہ ہویا۔
کریں صدق تے کم معلوم ہووے تیرا رب رسول گواہ ہویا۔
دنیا چھڈاُداسیاں پہن لیاں،سید وارثوں ہُن وارث شاہ ہویا‘‘
بنتا سنگھ نے جس طرح یک دم گانا شروع کیا تھا،اسی طرح وہ یکدم خاموش ہوگیا۔ایسا معلوم ہوتا تھاکہ خاکستری پہاڑیوں نے بھی اداسیاں پہن لی ہیں۔صوبیدارار ہر نام سنگھ نے تھوڑی دیر کے بعد کسی غیر مرئی چیز کو موٹی سی گالی دی اور لیٹ گیا۔دفعتاً رات کے آخری پہر کی اس اُداس فِضاء میں کُتے کے بھونکنے کی آواز گونجی۔سب چونک پڑے۔آواز قریب سے آئی تھی۔صوبیدار ہرنام سنگھ نے بیٹھ کر کہا ’’یہ کہاں سے آگیا بھونکو؟‘‘۔
کُتا پھر بھونکا،اب کے آواز اور بھی نزدیک سے آئی تھی۔چند لمحات کے بعد دُور جھاڑیوں میں آہٹ ہوئی۔بنتا سنگھ اٹھا اور اُن کی طرف بڑھا۔جب واپس آیا تو اُس کے ساتھ ایک آوارہ کُتا تھا جس کی دُم ہل رہی تھی۔وہ مُسکرایا۔۔
’’صوبیدار صاحب،یہ ہے چپڑ جھن جھن‘‘۔
سب ہنسنے لگے۔صوبیدار ہرنام سنگھ نے کُتے کو پکارا’’ادھر آچپڑ جھن جھن‘‘۔
کُتا دُم ہلاتا ہرنام سنگھ کے پاس چلاگیا اور یہ سمجھ کر کہ شائد کوئی کھانے کی چیز پھینکی گئی ہے،زمین کے پتھر سونگھنے لگا۔صوبیدار ہرنام سنگھ نے ایک تھیلا کھول کر ایک بسکٹ نکالا اور اُس کی طرف پھینکا۔کُتے نے اُسے سونگھ کر منہ کھولا،لیکن ہرنام سنگھ نے لپک کر بسکٹ اٹھالیا’’ٹھہر۔۔۔کہیں پاکستانی تو نہیں؟‘‘۔
سب ہنسنے لگے،سردار بنتا سنگھ نے آگے بڑھ کر کُتے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور صوبیدار ہرنام سنگھ سے کہا ’’نہیں۔۔صوبیدار صاحب۔۔چپڑ جھن جھن ہندوستانی ہے‘‘۔
صوبیدار ہرنام سنگھ ہنسا اور کُتے سے مخاطب ہوا’’نشانی واکھا وے‘‘۔
کُتا دُم ہلانے لگا۔
ہرنام سنگھ ذرا کُھل کر ہنسا’’یہ کوئی نشانی نہیں۔دُم تو سارے کُتے ہلاتے ہیں‘‘۔
بنتا سنگھ نے کُتے کی لرزتی ہوئی دُم پکڑ لی’’شرنارتھی ہے بچارہ‘‘۔
ہرنام سنگھ نے بسکت پھینکا،کُتے نے فوراً دبوچ لیا۔ایک جوان نے اپنے بوٹ کی ایڑھی سے زمین کھودتے ہوئے کہا’’اب کُتوں کو بھی یا تو ہندوستانی ہونا پڑے گا یا پاکستانی‘‘۔
صوبیدار نے اپنے تھیلے سے ایک اور بسکٹ نکالااور پھینکا’’پاکستانیوں کی طرح پاکستانی کُتے بھی گولی سے اُڑادیئے جائیں گے‘‘
ایک سپاہی نے زور سے نعرہ بلند کیا ’’ہندوستان زندہ باد‘‘۔
کُتا جو بسکٹ اٹھانے کیلئے آگے بڑھا تھا،ڈر کے پیچھے ہٹ گیا،اُس کی دُم ٹانگوں کے اندر گُھس گئی۔ہرنام سنگھ ہنسا’’اپنے نعرے سے تُو کیوں ڈرتا ہے چپڑ جھن جھن۔۔کھا۔۔کھالے ۔۔لے ایک اور لے‘‘ اُس نے تھیلے سے ایک اور بسکٹ نکال کر اُس کی طرف اچھالا۔
باتوں باتوں میں صبح ہوگئی۔سورج ابھی نکلنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ چار سُو اجالاہوگیا۔جس طرح بٹن دباتے ہی ایک دم سے بجلی روشن ہوجاتی ہے۔اسی طرح سے سورج کی شعاعیں دیکھتے ہی دیکھتے اُس پہاڑی علاقے میں پھیل گئیں۔جس کا نام ’’ٹیٹوال ‘‘ تھا۔
اُس علاقے میں کافی دنوں سے لڑائی جاری تھی۔ایک ایک پہاڑی کیلئے درجنوں جوانوں کی جان جاتی تھی،پھر بھی قبضہ غیر یقینی ہی تھا۔آج یہ پہاڑی اُن کے پاس ہے،کل دُشمن کے پاس،پرسوں پھر قبضہ اُن کے ہاتھ میں،اُس سے دوسرے روز وہ پھر دُشمنوں کے پاس چلی جاتی تھی۔
صوبیدار ہرنام سنگھ نے دوربین لگا کر آس پاس کا جائزہ لیا ۔سامنے پہاڑی سے دھواں اٹھ رہا تھا،اس کا مطلب تھا کہ وہاں چائے وغیرہ تیار ہورہی ہے۔چونکہ ادِھر بھی ناشتے کی فکر ہورہی تھی۔،آگ سلگائی جارہی تھی۔ادُھر والوں کو بھی یقیناًاِدھر سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔
ناشتے پر سب جوانوں نے تھوڑا تھوڑا کُتے کو بھی دیا جو اُس نے پیٹ بھر کے کھایا۔سب اُس سے دلچسپی لے رہے تھے۔جیسے وہ اُس کو اپنا دوست بنانا چاہتے ہیں۔اُس کے آنے سے کافی چہل پہل ہوگئی تھی۔ہر ایک اُس کو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد پچکارکر’’چپڑ جھن جھن‘‘کے نام سے پکارتااور اُسے پیار کرتا۔
شام کے قریب دوسری طرف پاکستانی مورچے میں صوبیدار ہمت خان اپنی بڑی بڑی مونچھوں کو جن سے بے شمار کہانیاں وابستہ تھیں،مروڑے دے کر ٹیٹوال کے نقشے کا بغور مطالعہ کررہا تھا،اس کے ساتھ ہی وائر لیس آپریٹربیٹھا تھا اور صوبیدار ہمت خان کیلئے پلاٹون کمانڈر سے ہدایات وصول کررہا تھا۔کُچھ دُور ایک پتھر سے ٹیک لگائے اور اپنی بندوق لئے بشیر ہولے ہولے گُنگنا رہا تھا۔
’’چن کتھے گوائی آئی رات وے۔۔۔۔چن کتھے گوائی آئی۔۔۔
بشیر نے مزے میں آکر آواز ذرا اونچی کی تو صوبیدار ہمت خان کی کڑک آواز بلند ہوئی’’اوئے کہاں رہا ہے تُو رات بھر؟‘‘
بشیر نے سوالیہ نظروں سے ہمت خان کو دیکھنا شروع کیا۔۔جو بشیر کے بجائے کسی اور سے مخاطب تھا۔۔’’بتا اوئے‘‘۔
بشیر نے دیکھا ،کُچھ فاصلے پر وہ آوارہ کُتا بیٹھا تھا جو خپچھ دن ہوئے اُن کے مورچے میں بن بُلائے مہمان کی طرح آیا تھا اور وہیں ٹک گیا تھا۔بشیر مُسکرایا اور کتے سے مخاطب ہوکر بولا۔
’’چن کتھے گوائی آئی رات وے۔۔۔چن کتھے گوائی آئی۔۔؟‘‘
کُتے نے زور سے دُم ہلانا شروع کی،جس سے پتھریلی زمین پر جھاڑو سی پھرنے لگی۔
صوبیدار ہمت خان نے ایک کنکر اٹھا کر کُتے کی طرف پھینکا’’سالے کو دُم ہلانے کے سوا اور کُچھ نہیں آتا‘‘۔
بشیر نے یکدم کُتے کو بہت غور سے دیکھا ’’اس کی گردن میں کیا ہے؟‘‘۔یہ کہہ کر وہ اٹھا ،مگر اُس سے پہلے ایک اور جوان نے کُتے کو پکڑ کر اُس کی گردن میں بندھی ہوئی رسی اُتاری ۔اُس میں گتے کا ایک ٹکڑا پرویا ہوا تھا۔جس پر کُچھ لکھا تھا۔
صوبیدار ہمت خان نے وہ ٹکڑا لیا اور اپنے جوانوں سے پوچھا’’جانتا ہے تم میں سے کوئی پڑھنا؟‘‘
بشیر نے وہ ٹکرا لیا ’’ہاں۔۔کُچھ کُچھ پڑھ لیتاہوں‘‘۔اور اُس نے بڑی مشکل سے حرف حرف جوڑ کر یہ پڑھا ’’چپ۔۔۔چپڑ۔۔۔جھن۔۔۔۔جھن۔۔۔چپڑ جھن جھن۔۔یہ کیا ہوا؟‘‘۔
صوبیدار ہمت خان نے اپنی بڑی بڑی تاریخی مونچھوں کو زبردست مروڑا’’کوڈ ورڈ ہوگا کوئی‘‘۔پھر اُس نے بشیر سے پوچھا’’کُچھ اور لکھا ہے بشیرے؟‘‘۔
بشیر نے جو حروف شناسی میں مشغول تھا،جواب دیا۔’’جی ہاں۔۔۔یہ۔۔۔یہ ۔۔۔ہند۔۔۔ہند۔۔ہندوستانی ہے۔۔۔یہ ہندوستانی کُتا ہے‘‘۔
صوبیدار ہمت خان نے بھی سوچنا شروع کیا’’مطلب کیا ہوا اس کا؟،کیا پڑھا تھا تم نے؟۔چپڑ؟۔۔۔‘‘
بشیر نے جواب دیا’’چپڑ جھن جھن‘‘۔
ایک جوان نے بڑے عاقلانہ انداز میں کہا’’جو بات ہے اسی میں ہے۔‘‘
صوبیدار ہمت خان کو یہ بات معقول معلوم ہوئی’’ہاں کُچھ ایسا ہی لگتا ہے۔‘‘
بشیر نے ٹکڑے پر لکھی عبارت ایک بار پھر پوری پڑھی’’چپڑ جھن جھن۔۔۔یہ ہندوستانی کُتا ہے‘‘
صوبیدار ہمت خان نے وائر لیس سیٹ لیا اور کانوں پر ہیڈ فون جما کر پلاٹون کمانڈر سے خود اُس کُتے کے بارے میں بات چیت کی۔وہ کیسے آتا تھا؟۔کس طرح اُن کے پاس کئی دن پڑا رہتا،پھر ایکا ایکی غائب ہوجاتا۔۔پھر رات بھر غائب رہتا۔اب واپس آیا ہے تو اُس کے گلے رسی نظر آئی جس میں گتے کاایک ٹکڑا تھا۔اُس پر جو عبارت تھی اور اُس نے تین چار مرتبہ دہرا کر پلاٹون کمانڈر کو ساری بات بتائی مگر کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہوسکتا۔
بشیر الگ کُتے کے پاس بیٹھ کراُسے کبھی پچکارتا،کبھی ذرا دھمکا کر پوچھتا رہا کہ ’’وہ رات بھر کہاں رہا۔۔اور اُس کے گلے میں وہ رسی اور گتے کا ٹکڑاکس نے پہنایا تھا۔مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملا۔وہ جو سوال کرتا ،اُس کے جواب میں کُتا اپنی دُم ہلادیتا ۔آخر غصے میں آکر بشیر نے اُسے پکڑ لیا اور زور سے جھٹکا دیا۔کُتا تکلیف کے باعث چیاؤں چیاؤں کرنے لگا۔
وائر لیس سے فارغ ہوکر صوبیدار ہمت خان نے کُچھ دیرنقشے کا بغور جائزہ لیا اور پھر فیصلہ کُن انداز میں اٹھا اور سگرہٹ کی ڈبیہ کا ڈھنکا کھول کر بشیر کو دے دیا۔’’بشیر ے لکھ اس پر گورمکھی۔۔ان کیڑے مکوڑے میں‘‘
بشیر نے سگریٹ کی ڈبیا کا گتہ لیا اور پوچھا’’کیا لکھوں صوبیدار صاحب؟‘‘
صوبیدار ہمت خان نے مونچھوں کو مروڑے دے کر سوچنا شروع کیا۔’’لکھ دے۔۔۔بس لکھ دے‘‘یہ کہہ کر اُس نے اپنی جیب سے پنسل نکال کر بشیر کو دی’’کیا لکھنا چاہئے؟۔‘‘
بشیر پنسل کے منہ کو لب لگا کر سوچنے لگا۔۔پھر یکدم سوالیہ نظروں سے صوبیدار کو دیکھتے ہوئے بولا’’سپٹر سن سن‘‘۔۔۔لیکن فوراً ہی مطمئن ہوکر اُس نے فیصلہ سنایا’’ٹھیک ہے۔۔چپڑ جھن جھن کا جواب سپٹرسن سن ہی ہوسکتا ہے۔۔کیا یاد رکھوگے اپنی ماں کے سکھڑے‘‘۔
’’سولہ آنے۔۔۔۔۔لکھ۔۔۔سپ۔۔۔سپٹر سن سن‘‘یہ کہہ کر صوبیدار ہمت خان نے زور کا قہقہہ لگایا’’اور آگے لکھ۔۔۔یہ پاکستانی کُتا ہے‘‘۔
صوبیدار ہمت خان نے گتاا بشیر کے ہاتھ سے لیا۔پنسل سے اس میں ایک طرف چھید کیا اور رسی میں پرو کر کُتے کی طرف بڑھا’’لے جا۔۔یہ اپنی ’’اولاد‘‘ کے پاس‘‘۔
یہ سُن کر سب جوان ہنس پڑے۔۔صوبیدار ہمت خان نے کُتے کے گلے میں رسی باندھی ۔وہ اس دوران اپنی دُم ہلاتا رہا۔اُس کے بعد صوبیدار نے اُسے کُچھ کھانے کو دیا۔۔اور بڑے ناصحانہ انداز میں سمجھایا’’دیکھو دوست۔۔غداری مت کرنا۔۔یاد رکھو غداری کی سزا موت ہوتی ہے‘‘۔
کُتا دُم ہلاتا رہا۔۔۔جب وہ اچھی طرح کھا چکا تو صوبیدار ہمت خان نے رسی سے پکڑ کر اُس کا رُخ پہاڑی کی اکلوتی پگڈنڈی کی طرف پھیرا اور کہا ’’جاؤ۔۔۔ہمارا خط دشمنوں تک پہنچادو۔۔۔مگر دیکھو واپس آجانا۔۔یہ تمہارے افسر کا حکم ہے۔‘‘
کُتے نے اپنی دُم ہلائی اور آہستہ آہستہ پگڈنڈی پر جو بل کھاتی ہوئی نیچے پہاڑی کے دامن میں جاتی تھی،چلنے لگا۔صوبیدار ہمت خان نے اپنی بندوق اٹھائی اور ہوا میں ایک فائر کیا۔
فائر اور اُس کی بازگشت دوسری طرف ہندوستانی مورچے میں سنی گئی۔اس کا مطلب اُن کی سمجھ میں نہ آیا۔صوبیدار ہرنام سنگھ نہ جانے کس بات پر چڑا بیٹھا تھا۔۔یہ آواز سُن کر اور بھی چڑ چڑا ہوگیا۔اُس نے جوابی فائرنگ کا حکم دے دیا۔آدھے گنٹے تک دونوں مورچوں سے گولیوں کی بیکار بارش ہوتی رہی۔جب اس شغل سے اُکتا گیا تو صوبیدار ہرنام سنگھ نے فائر بند کروادیا اور داڑھی میں کنگھا کرنا شروع کردیا۔اس سے فارغ ہوا تو اُس نے جالی اندر سارے بال بڑے سلیقے سے جمائے اور بنتا سنگھ سے پوچھا’’اوئے بنتا۔۔چپڑ جھن جھن کہاں گیا؟۔‘‘
بنتا سنگھ نے چیڑ کی خشک لکڑی سے بروزہ اپنے ناخن لیس سے جدا کرتے ہوئے کہا ’’مجھے نہیں معلوم‘‘۔
’’کُتے کو گھی ہضم نہیں ہوا؟‘‘،ہرنام سنگھ نے کہا۔
بنتا سنگھ کو اس محاورے کا مطلب سمجھ نہیں آیا۔’’ہم نے تو اُسے گھی کی کوئی چیز نہیں کھلائی‘‘۔یہ سُن کر ہرنام سنگھ زور سے ہنسا’’اوئے۔۔۔ان پڑھ۔۔۔تیرے ساتھ تو بات کرنا پچانوے کا گھاٹا ہے۔۔‘‘
اتنے میں وہ سپاہی جو پہرے پر تھا اور دور بین لگائے ادِھر اُدھر دیکھ رہا تھا ایک دم چلایا ’’وہ۔۔۔وہ آرہا ہے‘‘۔
سب چونک پڑے۔۔ہرنام سنگھ نے پوچھا۔۔’’کون؟‘‘۔
پہرے کے سپاہی نے کہا’’کیا نام تھا اُس کا۔۔؟۔۔۔چپڑ جھن جھن‘‘۔۔
’’چپڑ جھن جھن‘‘۔۔بڑبڑاتے ہوئے ہرنام سنگھ اٹھا۔۔’’کیا کررہا ہے؟‘‘۔
پہرے کے سپاہی نے جواب دیا۔’’آرہا ہے‘‘۔
ہرنام سنگھ نے دور بین اُس کے ہاتھ سے لی اور دیکھنا شروع کیا’’ادِھر ہی آرہا ہے۔۔۔رسی بندھی ہے گلے میں۔۔لیکن۔۔ ۔یہ تو۔۔۔اُدھر سے آرہا ہے۔۔دُشمن کے مورچے سے۔۔‘‘۔۔یہ کہہ کر اُس نے کُتے کی ماں بڑی موٹی سی گالی دی۔۔اس کے بعد اُس نے بندوق اٹھائی اور شست باندھ کر فائر کیا۔۔نشانہ چوُک گیا۔گولی کُتے سے کُچھ فاصلے پر پتھروں کی کرچیں اڑاتی ہوئی زمین میں دفن ہوگئی۔۔کُتا سہم کر رُک گیا۔
دوسرے مورچے میں صوبیدار ہمت خان نے دور بین سے دیکھا کہ کُتا پگڈنڈی پر کھڑا ہے۔ایک اور فائر ہوا تو وہ دُم دبا کرالٹی طرف بھاگا،صوبیدار ہمت خان کے مورچے کی طرف۔۔۔ہمت خان زور سے پکارا’’بہادر ڈرا نہیں کرتے۔۔چل واپس‘‘۔اور اُس نے ڈرانے کیلئے ساتھ ہی فائر بھی کیا۔کُتا رُک گیا۔۔اُدھر سے صوبیدار ہرنام سنگھ نے بندوق چلائی۔گولی کُتے کے کان سے سنسناتی ہوئی گزری۔اُس نے اچھل کر زور زور سے دونوں کان پھڑپھڑائے۔۔اِدھر سے صوبیدار ہمت خان نے دوسرا فائر کیا جو اُس کے اگلے پنجوں کے پاس پتھروں میں پیوست ہوگیا۔کُتا بوکھلا کر کبھی اِدھر دوڑا،کبھی اُدھر۔اُس کی اس بوکھلاہٹ سے ہمت خان اور ہرنام سنگھ دونوں بہت مسرور ہوئے،خوب قہقہے لگاتے رہے۔کُتے نے ہرنام سنگھ کے مورچے کی طرف بھاگنا شروع کیا،اُس نے یہ دیکھا تو بڑے تاؤ میں آکر موٹی سی گالی دی اور اچھی طرح سے شست باندھ کر فائر کیا۔گولی کُتے کی ٹانگ میں لگی۔ایک فلک شگاف چیخ بلند ہوئی۔اُس نے اپنا رُخ بدلا۔لنگڑا لنگڑا کر صوبیدار ہمت خان کے مورچے کی طرف آنے لگا تو اُدھر سے بھی فائر ہوا،مگر وہ صرف ڈرانے کیلئے کیا گیا تھا۔’’بہادر پرواء نہیں کرتے،زخموں کی۔۔کھیل جا۔۔کھیل جا اپنی جان پر۔۔۔جاؤ جاؤ۔۔۔جاؤ۔۔‘‘
کُتا فائر سے گھبرا کجر مُڑا۔ایک ٹانگ اُس کی بالکل بیکار ہوچکی تھی۔باقی تین ٹانگوں کی مدد سے اُس نے خود کو چند قدم دوسری جانب گھسیٹا کہ ہرنام سنگھ نے نشانہ تاک کر گولی چلائی،جس نے اُسے وہیں ڈھیر کردیا۔
صوبیدار ہمت خان نے افسوس کے ساتھ کہا۔۔’’چچ۔۔۔چچ۔۔۔شہید ہوگیا بے چارہ‘‘۔
صوبیدار ہرنام سنگھ نے بندوق کی گرم گرم نال اپنے ہاتھ میں لی اور بڑبڑایا’’وہی موت مرا جو کُتے کی ہوتی ہے۔‘‘۔

ختم شُد