” یہ دادا کا پاکستان نہیں”

12009569_870004266440315_3289382040022683949_n

دادا میاں ہمیشہ کی طرح لائبریری میں بیٹھے کتابوں میں گم .دروازے پر فضلو چائے لایا
دادا میاں اندر آجاؤں؟
چشمے کے اوپر سے جھانکتی آنکھیں
ہاں آجاؤ
چائے ٹیبل پر رکھی..
فضلو؟یہ باہر شور کیسا ہے؟
وہ دادا میاں جشن آزادی قریب ہے نا تو بچے جھنڈیاں لگا رہے ہیں..
دادا میاں مسکرائے تو فضلو زرا فری ہوتے ہوئے
دادا میاں آپ بھی بچپن میں ایسے ہی جشن آزادی مناتے تھے؟(سیدھے سادے دیہاتی فضلو کا اپنی منطق میں یہ بہت ہی اہم سوال تھا)
ایک جاندار قہقہ بلند ہوا اور دادا میاں نے جواب دیا ہاں بلکل ہم نے نوجوانی سے منانا شروع کیا تھا..
فضلو حیران ہوا اور اگلا سوال داغا پہلی دفعہ کب منایا تھا؟
دادا میاں نے گہری سانس لی اور کہا پہلی دفعہ دلی میں منایا تھا جب رات بارہ بجے اعلان ہوا اور صبح چار بجے  ہمارا آدھا محلہ مردہ حالت میں گھروں میں پڑا تھا…
اور ہم اپنے خاندان کے ساتھ ابا کے اک گہرے دوست کی مہربانی سے ریل میں سوار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے…
پھر تو آپ مزے سے پاکستان پہنچ گئے ہونگے
فضلو نے اک اور پھلجڑی چھوڑی
دادا میاں مسکائے ہاں بہت ہی مزے سے مگر مزا جانتے ہو کیا تھا؟
جواب میں فضلو نے صرف منہ کھولنے پر ہی اکتفا فرمایا…
دادا میاں پھر گویا ہوئے…
وہ مزا نہیں تھا اک نشہ تھا اک جنون تھا جو لہو میں دوڑ رہا تھا ایک منزل کی طرف بڑھنے کا جنون جو ہمارے خوابوں کا مرکز تھی امیدوں کا محور تھی
لوگ کٹ رہے تھے مر رہے تھے
ہماری ٹرین چونکہ کے ان ٹرینوں میں تھی جو کے ہندوؤں کے لینے پاکستان کی طرف جارہی تھی اس لیے اس پر بلوائیوں نے شروع میں حملہ نہیں کیا مگر جو ٹرینیں ساتھ ساتھ ہم دیکھ رہے تھے ان میں انسانی لاشوں کے ڈھیر ہی دیکھنے کو مل رہے تھے..جیسے جیسے پتا چلتا کے پاکستان قریب آرہا ہے ایک عجیب سی سرشاری تن میں دوڑھتی تھی
مگر پھر وہ بھیانک لمحہ جب سرحد سے چار میل دور آخری سٹیشن پر بلوائی ہماری ریل میں گھس آئے چند ہی خاندان تھے اس میں جو مختلف بوگیوں میں دبکے بیٹھے تھے جن کو چن چن کے مارنا شروع کیا…میری عمر اس وقت پندرہ سال کے قریب تھی ابا نے کہا جمیل ان کافروں کے ہاتھ ہماری عزتوں کو تب ہی چھو پائیں گے جب ہمارے بدن میں سانس نا ہوگی کچھ چاقو چھریاں جو پاس تھیں ہم نے ہاتھوں میں پکڑ لیں جیسے ہی وہ قریب آئے ابا اور تایا نے زوردار حملہ کیا وہ تعداد میں بہت تھے ٹرین رک چکی تھی ابا نے خواتین کو ٹرین سے کودھ جانے کو کہا پھر مجھے بھی پیچھے کودھنے کو کہا ہم کودھ گئے ہم سرپٹ دوڑ رھے تھے اک نگاہ مڑ کے دیکھا مگر شاید وہاں اب کچھ نا بچا تھا کچھ بلوائی اب اتر کے ہمارے پیچھے تھے ہم بھاگتے رھے بھاگتے رہے پاؤں کے چپل اتر گئے ننگے پیر ہی اس سے قبل کے بلوائیوں کا جتھا ہمیں جا لیتا پاکستانی فوج کے کچھ جوان وہاں نمودار ہوئے جو شاید آنے والے مسافروں کی حفاظت پر ہی معمور تھے انھوں نے اپنی بندقوں سے فائر کیے جس کی وجہ سے بلوائی منتشر ہوگئے پھر ہم تین میل مزید پیدل چل کر کھوکھرا پار موناباؤ کے سرحدی راستے سے اس ملکِ خداداد میں داخل ہوئے
فضلو:ہمارے ابا میاں تایا میاں شہید ہوچکے تھے مسلسل خوف و حراس میں گزرے 56 گھنٹے کا ازیت ناک سفر طے کیا تھا ایک میل مسلسل بھاگے تھے اور تین میل پیدل سفر کی جان لیوا تھکان ایک طرف تھی مگر اس دھرتی پر قدم رکھنے کی خوشی ان سب دکھوں پر بھاری پڑھ گئی تھی ہم کو لگا کے ہم آسمان کی بلندیوں پر ہیں ہم نے جنت پالی ہے یہ ملک ہمارے خوابوں کی معراج تھا…
پھر دادا میاں اک دم اداس ہوگئے ..
پھر گویا ہوئے
مگر فضلو یار یہ وہ ملک تو ہے نہیں
ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ اِس ملک کی بنیاد کلمہ ہے یہ مسلمانوں کی محفوظ ترین پناہ گناہ ہوگی
مگر یہاں تو کوئی سنی بن گیا کوئی شیعہ بن گیا کوئی بریلوی تو کوئی وہابی مگر مسلمان تو کوئی بن نا ہی نہیں چاہتا..
ہمیں کہا گیا تھا کے یہ اک فلاحی مملکت ہوگی مگر یہاں تو سب کچھ دیکھا سوائے فلاح کے..
ہمیں تو کہا گیا تھا کے یہاں انصاف کا بول بالا ہوگا مگر یہاں تو انصاف صرف امیر کے لیے غریب تو جانتا ہی نہیں یہ کس چڑیا کو کہتے ہیں…
اس دیس میں وہ سحر آئی ہی نہیں جس کے خواب میں ہم طویل سیاہ راتیں کاٹ کر آئے تھے..
فضلو سے اب صبر مشکل تھا فورن مضطرب لہجے میں بولا
دادا میاں تو وہ ملک پھر آخر ہمیں کہاں ملے گا؟
دادا میاں مسکرائے
پھر بولے
وہ ملک ہمارے اندر ہی آخری سانسیں لے رہا ہے مردہ نہیں ہے وہ حیات ہے بس اسے اپنے اسی جزبے ایمانی کی دوا سے پھر سے تندرست کرنا ہے جسے ہم فراموش کر چکے ہیں
یہ مٹی بہت زرخیز ہے مگر اس کی آبیاری کرنی ہے سفید انگریزوں کے کالے چاکروں سے اپنی دھرتی کو آزاد کرانا ہوگا اس دیس کے درحقیقت وارث ہم ہیں ۔۔۔۔
اور جن وراثتوں کے وارث خواب غفلت میں پڑ جاتے ہیں ان وراثتوں پر یونہی لٹیرے قابض ہوجایا کرتے ہیں

تحریر: زید ملک