کسی نے لوٹ کے آنا تو ہے نہیں

بہ شکریہ
محمد سلیم طاہر ـــــــــــــــــــــــ
جی چاہتا ہے میں تجھے چھو کر بھی دیکھ لوں
میں نے تیرے جمال کو کھانا تو ہے نہیں
یہ دل تیرے سلوک پہ اب روٹھتا نہیں
یہ جانتا ہے تو نے منانا تو ہے نہیں
اور رختِ سفر میں اپنے دعائیں بھی باندھ لو
وہاں سے کسی نے لوٹ کے آنا تو ہے نہیں
ناپیں گے سوتے جاگتے طولِ شبِ فراق
تم نے ہمارے خواب میں آنا تو ہے نہیں
پھرتا ہےاب وہ دؤ میری آنکھوں کے آس پاس
وہ جانتا ہے اِس کا نشانہ تو ہے نہیں
میں بیٹھا رہوں گا چھپ کے اندھیرے کی آنکھ میں
میں نے کوئی چراغ تو جلانا ہے نہیں
کب آئے گی کرئے گی پذائیرئی کس طرح
کاسے میں اِس فقیر کے آنا تو ہے نہیں
حیران ہوکس لئے میری حالت کو دیکھ کر
اس عاشقی کا کوئی زمانہ تو ہے نہیں
سچ بول کر ہی دیکھ لوں شاید وہ مان جائے
اُس نے میرے فریب میں آنا تو ہے نہیں
ہوتے ہیں اشک روزپرانے نوادرات
آنکھوں کے پاس اور خزانہ تو ہے نہیں

______________________