بچانا… فلم ریویو

مووی شووی
“بچا۔ نا”
بگ فلمز، ایور ریڈی پکچرز اور ہم فلمز کے اشتراک سے فلم کے نام پر ”بچگانہ“   (اوہ! اوپس! سوری ”بچا ۔ نا“ دیکھنے کے تو کیا
(تبصرے کے بھی لائق نہیں۔      (مگر چار باتیں سنانے میں کیا جاتا ہے آخر؟
(جی! اِسے تبصرہ نہ سمجھا جائے۔ آخر ٹائٹل جانتے ہوئے بھی ٹریلر سے ”بچا ۔ نا“ سکے خود کو۔ اور ۔ فلم کے بعد آھو)
صنم سعید پروموشنل ایکٹوٹیز میں اکثر یہ بیانات دیتی رہی ہیں کہ ”اِسے فلم سمجھا جائے ڈرامہ نہیں“۔
کہنا یہ ہے کہ صنم بار بار دہرانے یا سمجھانے سے اگر سمجھ بھی لیا جائے کہ ”فلم فلم ہوتی ہے ڈرامہ نہیں“۔
توبھی ہم ابھی تک ہم فلمز کے ”بن روئے آنسو“ کے درد سے باہر نہیں آئے تھے کہ فلم کے نام پر یہ  بچانا۔
(ناصر خان کی بحیثیت ہدایتکار ”بچانا“ پہلی فلم ہے جن کا نام صرف سکرین پر آیا مگر کام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلائمکس پر اگر وہ توجہ دیتے اور اسے انٹی کلائمکس سے بچا لیے  تو “بچانا” خاصی بہتر فلم ثانت ہو سکتی تھی۔
کیونکہ بہت سی جگہوں پر گزرے کل کی کئی شاہکار انگریزی، ہندوستانی اورپاکستانی فلمز کوبلاشبہ خوب دہرایا گیا۔ سعد اظہر ایک عام سی کہانی کو ویسے بھی کتنا زیادہ ڈرامائی بنا کر پیش کرسکتے تھے؟۔ ایک عام ناظر بھی کہانی کا اینڈ بوجھ لیتے ۔
اسکرین پلے ٹھیک ہی تھا۔ کیونکہ مختلف فلمز کے سینز کو بخوبی جوڑ لیا گیاتھا۔ لیکن مناظر اتنے دلکش انداز میں پیش کئے گئے ہیں ٹریٹمنٹ کو ہر ممکن حد تک حقیقی رکھا گیا۔ اوربہت زیادہ ٹوئسٹ اور ٹرنز سے اجتناب برتا گیا۔
دُھلے ہوئے اور ایک رسی پر لٹکے مختلف رنگوں اور ہر سائز کے کپڑوں کو جب سوکھنے کے لئے ڈالا جاتا ہے تو وہاں ایک عجیب سا ماحول نظر آتا ہے۔ رسی کہیں بھاری پن سے جھول جاتی ہے کہیں تن کر اونچی ہو جاتی ہے۔ بس ایسے ہی
“مختلف جگہوں سے لئے گئے سینز کا مکسچر تھا یہ ”بچانا
Film is Larger than Life
تبھی ماریشس کے ہوائی اڈے پر اسکریننگ کے دوران بیگز میں موجود ڈرگز اسکریننگ سے بچ گئے۔کیونکہ یہ صورت حال نہ ہوتی تو کہانی ”بنتی“ کیسے؟
عالیہ (صنم سعید) دھوکے باز مافیا کیساتھ ملے شوہر جہانگیر (عدیل ہاشمی) کیساتھ ماریشس پہنچتی ہے اور ٹیکسی ڈرائیور وکی(محب مرزا) کی ٹیکسی میں ہوٹل۔ پھر شوہر سے جان بچاتی پھر وکی سے جا ملتی ہے جواسے لئے لئے بچاتا پھرتا ہے۔
(اب عالیہ وکی کو بچاتی ہے یا وکی عالیہ کو۔۔۔ اور دونوں ایک دوسرے کو بچاتے ہوئے کس کس کی بجاجاتے ہیں)
پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجود ”ساس بہو“ جیسے حالات اور اُن پر مبنی لطیفوں کو بحیثیت ”پنچ لائنز“ کے استعمال کیا گیا ہے مگر زبان زد عام تو (رئیسانی انداز کا جملہ ہی کلک ہوا) ”لڑکی ہندوستان کی ہو یا پاکستان کی۔ لڑکی لڑکی ہوتی ہے“
محب بھائی لمحے بھر کے لئے ”بجرنگی بھائی جان“ لگے جب یہ جملہ دیتے نظر آئے مگر اگلے لمحے یہ تاثر رہا نہیں۔
بجرنگی بھائی جان“ تو پھر ”منی“ کو چھوڑنے پاکستان آ گیا تھا۔ مگر آپ کو بھی تو ”عالیہ“ کو ہندوستان چھوڑنے جاناچاہیے تھا نا نظروں سے ہی سہی ؟
اگر کچھ وقت کے لئے یہ بھولا جائے کہ عدیل ہاشمی فیض کے نواسے، منیزہ ہاشمی کے بیٹے ، سلیمہ شعیب کے بھانجے ہیں تو وہ جہانگیر کے کردار میں ”ٹینو آنند“ کا بیٹا لگے۔ ایک انڈر ریٹڈ فنکار، جہانگیر کے کردار کیلئے آنکھوں اور چہرے پر جس خاص سرد اور مکروہ قسم کے تاثرات چاہئے تھے وہ عدیل نے بہت عمدگی سے پیش کئے۔ فلم کا اصل ہیرو تو ”ولن“ ہوتا ہے۔
کمزورموسیقی۔ تین گانے وہ بھی اگر فلم میں شامل نہ ہوتے تو بھی فلم پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
اچھی بات یہ ہے کہ فلم میں وہ وبائی مرض شامل نہیں ہے جسے ”آئٹم سانگ“ کہتے ہیں نہ ہی ہیرو اور ہیروئین کو ماریشس کی سرسبز وشاداب اور حسین لوکشنز پر”ناچتے،جھومتے،گاتے“ دکھایا۔
کمرشل فلمز بناتے ہوئے بھی نئے فلمساز و ہدائت کار موسیقی جیسے اہم عنصر پر کوئی توجہ نہیں دیتے، کسی سنگر کے سنگل ٹریک یا کوک اسٹوڈیو میں پیش کئے جانے والے کسی گیت کو فلم کا حصہ بنالینا کوئی دانش مندی یا کری ایٹوٹی نہیں ہے، فلم انڈسٹری کا احیاء ہورہا ہے تو میوزک انڈسٹری کا بھی ہونا چاہئے۔ آج سے دس سال قبل پاکستانی فلمز کی میوزک البم اور سی ڈیز باقاعدہ ریلیز ہوتی تھیں اور باقاعدہ پورا ساؤنڈ ٹریک تیار کیا جاتا تھا۔
پاکستانی سنیما پر تفریحی فلمز کا جو خلا تھا وہ ”بچانا“ جیسی فلمز ہی پورا کرسکتی ہیں، جس میں ”جوانی پھر نہیں آنی“ جیسے ذومعنیٰ مکالمے، ولگر ملبوسات اور بیہودہ الفاظ پر مبنی گانوں سے مکمل پرہیز کیا گیا ہے، جسے ہر عمر کا انسان اپنی پوری فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ایک دفعہ تو انجوائے کرسکتا ہے۔ تاکہ ایسی فلمز بنانے والوں کی حوصلہ افزائی ہو جوایک عام، مڈل آف دی روڈ پاکستانی کی نفسیات اور اندازِ زندگی کی صحیح طور نمائندگی کرنا چاہتے ہیں۔
ماریشس میں ”بچانا“ سے قبل ”جو ڈر گیا و ہ مرگیا“، ”عاشقی کھیل نہیں“، ”دیوانے تیرے پیار کے“، “کمانڈو“،”ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ“ وغیرہ شوٹ ہوچکی ہیں، مگر چونکہ یہ روڈ موویز نہیں تھیں ۔لہذاٰ ماریشس اِس طرح اِن فلمز میں پیش نہیں کیا جاسکا۔  کیمرہ ورک بہت بہتر  کلوز اپز شارپ اور خوبصورت ہیں ، ماریشس کے ہرے بھرے خوبصورت مقامات اور ساحل اس فلم کو ایک مکمل ٹورسٹ گائیڈ فلم بناتے ہیں ۔

ریٹ فار مووی٭٭٭ سٹار