بنتِ ارسلان! آؤ کہانی پکائیں

“مکالمہ خصوصی”

”لو جی!اب ہم کہانی لکھیں گے۔“
”کس پہ لکھیں گے؟“سرسری انداز میں.
”ارے! کاغذ پہ یا پھر ان پیج پہ، ای میل کرنے میں آسانی ہوگی“۔۔
”اب یہ میل کس کوکرنی ہے؟“.
”عبدالغفورنانبائی کو“,اطمینان سے.
”ہیں؟ نانبائی کو؟ وہ کیا کرے گا؟“, حیرت سے.
”نان کاغذ میں لپیٹ کر بیچے گا”,تنک کر “ظاہر ہےڈائجسٹ والوں کو بھیجنی ہے تاکہ وہ چھاپ دیں“۔۔۔
”اچھا! اورکہانی لکھنی کس پہ ہے؟“.
”توبہ ہے، ابھی بتایا نا کاغذ یا ان پیج پہ۔.“
”اُف !”,سر پیٹتے ہوئے” کہانی کا پلاٹ کیا ہو گا؟“.
”بنا بنایا پلاٹ ہوگا۔“, مزے سے.
”اور یہ بنا بنایا پلاٹ کہاں سے آئے گا؟“آنکھوں کو گھماتے ہوئے
”پراپرٹی ڈیلر سے“۔ اطمینان بھرا انداز”
”ہیں؟”.
”اوہ ہو! جین آسٹن،سڈنی شلڈن یا پھر کسی بھی انگلش رائٹر کا پلاٹ اُٹھالیں گے، لفظوں اور جملوں کے ہیر پھیر کے ساتھ کہانی بنا لیں گے، جگہیں اورکریکٹرز کے نام ہمارے ہوں گے اور سب اپنی کار پہ آئیں گے، ایویں غریب کہانی کا موڈ نہیں ہے”,مزید اطمینان بھرا انداز-
”اور جو چوری پکڑی گئی تو؟“
ؒ”ارے واہ، وہ کریں تو ”ن“سے نامور اورہم کریں تو ”چ“سے چور، یہ تو زیادتی ہے بھئی“۔
”کوئی نیا مگر اپناخیال لاو؟“ ہمیں تو”ع” سے”عروج” چاہیے “,فرمائشی پروگرام.
”اپنا خیال ڈال دیانا تولوگ منٹو اور عصمت کو بھول جایئں گے“۔
”توبہ ہے معاشرے میں اِن سب سے ہٹ کر بھی بہت کچھ ہے“۔ جھلاہٹ سے
”ان لوگوں نے بھی ہٹ کر بہت کچھ لکھا ہے،کسی کو نظر آیا؟ نہیں نا؟ جو دکھایا گیا وہ ہی کلک ہوا ، ویسے بھی جو دِکھتا ہے وہ ہی بکتا ہے‘‘۔
”اچھا بھئی!کہانی کی ہیرویئن کیسے آئے گی؟“
”ہیروئین، ٹپیکل، سفیدانگرکھا،چوڑی دار پاجامہ،تین گزکا دوپٹہ دایئں کاندھے پہ ڈالے،ہاتھوں میں کانچ کی رنگی برنگی چوڑیاں پہنے،کانوں میں بڑے بڑے بالے ڈالے،گھینری پلکے اُٹھاتی گراتی،ستواں ناک،گلاب کی پنکھڑی جیسے گلابی ہونٹ،گالوں پہ شرم کی لالی لئے،بالوں کی ڈھیلی ڈھالی چوٹی بایئں کاندھے سے آگے کی طرف لٹکائے دھیمے قدموں سے تیز چلتی ہوئی تو۔۔۔۔ بالکل۔۔۔ بھی۔۔۔نہیں آئی گی“,حتمی انداز.
جھٹکے سے واپسی …. ”اُفوہ کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔۔ دم ہی نکال دیا۔۔۔ اور۔۔یہ دھیمے قدموں سے تیزکیسے چلا جاتا ہے“؟,حیرانی سے.
”ہاں تو ڈائجسٹ کی ہیروئین ہے کچھ بھی کر سکتی ہے، اور ابھی دم کہاں نکلا ہے ابھی تو کہانی پکے گی پھر دم بھی دے لیں گے“.
“اچھا اچھا! ہیرو ہیرویئن کی ملا قات کیسے ہو گی؟”.
“بھئی اُن دنوں کا اتفاقی ان کاونٹر ہوگا۔۔۔”.
”ان کاونٹر کیوں؟ لڑکا پولیس میں ہے کیا؟“.
”لڑکادبنگ ہے. “
”ہیں؟کیا مطلب؟“.
”سب بتا دوُں کہانی مُکا دوُں؟“.
”اتفاقی مُلاقات میں ہو گا کیا؟“.
”بھئی لڑکی کو کچھ غنڈے تنگ کریں گے اور ہیرو دبنگ انداز میں انٹری دے کے غنڈوں کی پٹائی لگائے گا اور جب سب بھاگ جائیں گے تو وہ ہیروئین کی طرف پلٹے گااور۔۔۔۔“.
”اور ہیروئین کو اُس سے محبت ہو جائے گی،ہیں نا؟“
”نہیں نا”.
”پھر ؟“.
” پھُر “.
” پُھر مطلب؟“.
”ہیرویئن ہیرو کو لڑتا چھوڑکر نظر بچا کے رفوچکرہو جائے گی“.
”ہیں؟ وہ کیوں؟“.
”بھئی کہانی بھی تو آگے بڑھانی ہے نا”,آنکھ مارتے ہوئے.
”اچھا پھر کیا ہو گا؟“.
“پھر ایک سولو سونگ ہوگا”.
”ڈائجسٹ کی کہانی میں سونگ؟“.
”خود ہی تو کہا ہے کہ کچھ نیا کچھ اپنا خیال لاؤ، تو یہ وہ ہی نیا ہے،ویسے بھی کیا پتا کسی کونٹنٹ والی خاتون کی نگاہ میں کہانی آگئی تو وارے نیارے. ویسے بھی آجکل پروڈکشن ہاوسز میں کونٹنٹ ہیڈز اور رائٹنگ میں خواتین ڈائجسٹ رائٹرز کا دور ہے“ آنکھ مارتے ہوئے.
” یہ تو ہے پر گانا کون سا ہوگا“ تجسس سے
“محبت بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا“
”یہ گانا پڑوسیوں کا نہیں؟“
”ارے صرف ویڈیو وہاں کا ہے . سنگر، کمپوزر اور شاعرتو ھمارا ہے نا “ آنکھ مارتے ہوئے
”توبہ ہے،شیخ چلی بھی کیا سوچتا ہو گا“.
”شیخ چلی کو سوچنے دو“ سوچتے ہوئے.
”مطلب? “.
”مطلب کہانی بننے دو“.
”کہانی ہے یا سویٹر“.
”سویٹر سے یاد آیا، ہیرویئن کا ابا اس کی شادی اپنے بزنس پارٹنر کے بیٹے سے کرنا چاہتے ہیں جو ساری زندگی امریکہ میں رہا ہے اور شادی پاکستان آکر کرنا چاہتا ہے“.
”پاکستان میں کیوں؟. “
”بھئی ہے وہ امریکن نیشنل مگر دل سے پاکستانی ہے“.
”یہ کیا بات ہوئی ؟“.
”یہ ہی تو بات ہوئی“.
”اچھا پھر؟“.
”پھر پُھر“.
”کیا مطلب؟. “
”مطلب یہ کہ ہیروئین ہے وہ منع کر دے گی “
”مگر کیوں؟“.
”کیونکہ اس کے خیال میں ساری زندگی باہر گذارنے والا قابلِ اعتبار نہیں“.
”اوہ!اچھا“.
”اور منع کرنے کے بعد وہ دوبئی چلی جائے گی“.
”ہیں؟وہ کیوں؟“.
”بھئی! دوبئی میں شاپنگ فیسٹول جو ہورہا گا“.
”تو؟“.
”تو کیا! ہیرویئن امیر کبیر بھی ہے اور برانڈ کونشس بھی، دوبئی آنا جانا اُس کیلئے مشکل نہیں بھئی“
”اور وہاں کیا ہوگا؟“
”ہونا کیا ہے! شاپنگ کے دوران مال میں ہیروئین کا کارڈ کہیں گم ہو جائے گااور۔۔۔۔۔۔۔۔۔”.
”اور ہیرو اچانک آ کے مدد کرے گا، ہیں نا“ بات کاٹتے ہوئے.
”ہاں نا“.
”ایک منٹ! یہ ہیرو وہاں کیا کر رہا ہے؟“.
”ہیرو خفیہ مشن پہ ہے“رازدارانہ انداز.
”خفیہ مشن؟ اب یہ خفیہ مشن کہاں سے آگیا؟“. حیرانی سے
”سب بتا دوں، سسپنس ختم کرا دوں“ منہ بناتے ہوئے
”بھئی قاری کو تو پتہ چلنا چاہیئے نا“.
”اب یہ قاری صاحب کیوں آ گئے پتہ کرنے؟“.
”ارے!قاری، کہانی پڑھنے والا، ریڈر“.
”اوہ اچھا! تو وہ ذرا صبر سے کام لے، کون ساقسط وار ہے جس کے آخر میں ”باقی آئندہ شمارے میں “ لکھا ہوگا,اسی قسط میں پتا چل جائے گا“
”پھر کیا ہو گا? “.
”ہو گا کیا، کہانی ختم ہو جائے گی، سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے اور راوی چین ہی چین لکھے گا“.
“اوہ ہو!کہانی ختم کرنے کی بات نہیں کی“.
”تو پھر کس کی بات کی ہے؟“.
”ہیرو ہیروین کی مُلاقات کی”.
”اوہ اچھا! ہیرو ہیروین کو اُس کی بے وقوفی بتائے گا“
”یہ بے وقوفی کہاں سے آگئی اب؟“.
”اوہ ہو!بات تو پوری کر لینے دو“ چڑتے ہوئے
”اوہ ہو! تو کرو نہ بات پُوری”, جوابا چڑتے ہوئے.
”ہیرو بتائے گا کہ وہ اپنا کارڈ پچھلی شاپ کے کاؤنٹر پہ بھول آئی تھی اور وہ شکر ادا کرے کہ اُس نے کارڈ دیکھ لیا ورنہ کافی نقصان ہوتا اُس کے ابا جی کا“.
“اور ہیرو کو کیسے پتا کہ یہ ہیرویئن کا کارڈ ہے؟ ” سوچتے ہوئے.
” بتایا نہ کہ وہ خفیہ مشن پر ہے”.
”اچھا اچھا!“ ریلکس ہوتے ہوئے.
”اب وہ ہیرو کا با ضابطہ معائنہ کرے گی“.
”کیوں؟ کیاوہ ڈاکٹر ہے? “,حیرانی سے.
”نہیں “ چڑتے ہوئے، ”وہ ہیرویئن ہے “.
”اچھا اچھا! ویسے ہیرو ہے کیسا؟“,بے حد اشتیاق سے.
”یہ اُونچا لمبا 6 فٹ کا گھبرو جوان،گھنے بال،گھنی مونچھیں،بھاری آواز میں ہیرویئن سے مخاطب۔۔۔
”ایسا تو۔۔۔بالکل۔۔۔۔بھی۔۔۔ نہیں ہو گا“بات کا ٹتے اور ہیرویئن کا بیان کردہ نقشے کی آخری بات ذہن میں لاکر فرضی کالر جھاڑتے ہوئے۔۔۔
”ہوگا، ہیرو تو ایسا ہی ہوگا“ اطمینان بھرا انداز
”وہ کیوں؟“ حیرانی سے
”کیوں کہ ہیروزایسے ہی ہوتے ہیں اور ہیروئینزایسے ہی ہیروز پہ فریفتہ ہوتی ہیں“مزید اطمینان بھرا انداز
”تو کیا ہیرویئن بھی واری صدقے گئی ؟“
”واری صدقے تو جائے گی مگر بتائے گی نہیں “
”وہ کیوں بھئی؟“
”کیوں کہ ہیروئین ذرا مشرقی ہے بے شک لباس اُس نے مغربی پہنا ہوا ہوگا مگر اُس کے خیال میں ہیرو کو ہیروئین سے اظہار کرنا چاہئیے“
”تو پھر نا ہی سمجھیں؟“جلتے ہوئے
”کیوں جی؟ وہ ہیرو ہے۔ ہیرویئن کی نگاہ میں پسندیدگی پڑھ لے گا “
”وہ کیسے؟“ حیران ہوتے ہیں۔
”ارے ہیرو خفیہ مشن پہ ہے نا اور اسکی نگاہ کافی تیزبھی ہے، ہر نگاہ پر نگاہ ہے اسکی “ یاد دلاتے ہوئے
” ٹھیک ٹھیک ” سر کجھاتے ہوئے….” پھر کیاہو گا؟“
”بس اسی طرح مختلف جگہوں پر ہیرویئن کی اچانک مدد کرتے کرتے وہ دونوں دوست بن جائیں گے ۔۔۔“
”پھر بات۔۔۔محبت کے اظہار تک پہنچے گی؟“
”نہیں “
”کیوں؟“
”اُس سے پہلے ہی ہیروئین کوپاکستان سے کال آ جائے گی کہ اس کے ابا کی طبعیت خراب ہو گئی ہے“
”خیر ہو جائے. ابھی ہی کال آنی تھی؟“
”اور پاکستان آتے ہوئے پھرایک بار ان کی ملاقات جہازمیں ہو گی“
”پھر اتفاق؟“
“یہ جو چار دنوں کا ساتھ ہے اتفاق کی بات ہے” گنگناتے ہوئے
“یہ کیا ہے؟”
“گا نا ہے” شرارت سے
” جی نہیں…. یہ نہیں گا نا ”
”یہی گا نا! یہ تو ایک اورگانا ہے” بتاتے ہوئے
” ارے! ایک اور گانا…. مطلب؟”
” ہاں بھئی! کم سے کم تین گانے تو ہونے چاہیں. خود ہی تو کہا تھا کہ نیا پن ہونا چاہیے” یاد دلاتے ہوئے
“ویسے یہ گانا کچھ اپنا اپنا نہیں” سر کجھاتے ہوئے
” جی” زور دے کر “حمیرا چنا کونسی غیر ہیں اور فلم بھی اپنی ہی ہے بس شوٹ استبول میں ہوا ہے” آنکھیں مٹکاتے ہوئے
” استبول….. ہوں…. یہ استبول میں ” اتفاقات” کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں مس استبول” معنی خیزی سے کچھ یاد کرتے ہوئے
“ہاں نا! اگر مگر ہماری ہیروئین “اسلام آباد” سےنہیں “معنی خیزی سے,”اِس لئے اِس بار وہ سب اتفاقات دوبئی شفٹ کر دیئے ہیں”.
” اچھا اچھا! جہاز میں ہوگا کیا؟”.
” پہلے تو خیال میں گانا ہوگا پھر جہاز میں ساتھ بیٹھنا ہو گا اور پھر ہوں گی…. ہلکی پھلکی باتیں”….
”ہلکے پھلکے بسکٹ کی طرح؟“
”یہ ہلکا پھلکا بسکٹ کہاں سے آگیا؟“
”وہ اتنی دیر سے تمہارا”پُلاؤ” سنتے سنتے بھوک لگ گئی ہے“
”تو انرجی ڈاون ہو رہی ہے… انرجی چاہیے؟“ کمینگی سے بھر پور انداز میں.
” ہاں پرآئے گی کیسے؟“ حیرانی سے.
”کریمنل کیس سے“.
”توبہ ہے کنجوسی کی“ تپ کر
”آگے تو سنو “
”سنُاو“ غصے سے
”ہلکی پھلکی باتوں میں شادی کی بات ہو گی“
”اوہ! یعنی بات آگے بڑھے گی“ یکدم ایکسائیٹڈ ہو کر
”نہیں!بات ختم ہو گی “
”وہ کیسے؟ کیوں؟“ حیرانی سے
”ہیروئین اپنے خیالات کا اظہار کردے گی کہ وہ کسی ایسے بندے سے شادی نہیں کرے گی جو ساری زندگی ملک سے باہر رہا ہو،ہیرویئن کے خیال میں ایسا شخص قابل اعتبار نہیں، وہ ایک ایسے شخص سے شادی کرنا چاہتی ہے جو محبت سے دو وقت کی روٹی کھلا سکے اور اسے عزت دے سکے“
”واہ جی! دوبئی سے شاپنگ، برانڈڈ چیزیں،ملکوں ملکوں سیر سپاٹے اور شادی کے لئے ”عدنان“ جیسا شوہر “ طنز سے
” عدنان کون؟ سوالیہ نگاہ
” وہ کنکر ڈرامے والا؟ ہاتھ کے اشارے سے یاد کرواتے ہوئے
” نیا شوشا چھوڑ کر مزید حواسوں پر سوار ہونے کا ارادہ ہے کیا؟.
” کیا مطلب؟ حیرانی سے
” یہ تو “ڈائی ہارڈ چمچہ” میرامطلب ہے “پنکھا”ہی بتا سکتا ہے”.
” پنکھا کیسے بتائے گا؟ ” ،حیرت زدہ ہو کر.
” کہانی تو شائع ہونے دو. پنکھا چل کر بلکہ سمجھ آگئی تو گھو و و و و و و وم کر بتائے گا”، کمینگی سے، “جس کی سوچ چھوٹی اور سمجھ محدود ہو تو سمجھو اُس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے”.
” ارے واہ! کیا ڈائیلاگ ہے ….. کس کا ہے؟ “معنی خیز مسکراہٹ
” کس کا مطلب…… ہیں؟، زاتی ہے ” آنکھیں نکال کر چڑھائی والا انداز
” ارے! تعریف کی تھی بھئی”. گھبرا کر. ” اچھا اچھا! پنکھے کو گولی ماروبھئی! “منہ بناتے ہوئے، “بتاؤ ہیرو کیا کہے گا”, تجسس سے.
”ہیرو بھی یہی کہے گا“ تالی بجاتے ہوئے
” کہ پنکھے کوگولی مارو” آنکھلییں پھاڑتے ہوئے
” ارے نہیں بھئی ”
” تو پھر”
” پھر یہ کہ عدنان جیسا شوہر بننے کے لئے عدنان کوچینل پیسے دیتا ہے جبکہ حقیقت اِس کے برعکس ہوتی ہے اور ……. ”
”اُف! ہیرو سےخیالات بھی ملنے لگے یہ ہیرو مل کیوں نہیں جاتا“بات کاٹتے ہوئے حسرت سے ہتھیلی گال پر رکھ کر
”نہیں مل سکتا“
”کیوں جی؟“ تیزی سے گال کو ہتھیلی سے اوپر کر کے حیرانی سے
”کیونکہ وہ کہانی کا ہیرو ہے“ بے نیازی سے
”توبہ ہے ، اور ہیرو کیا کہےگا؟“ منہ بناتے ہوئے
” اور ہیرو کہے گاکہ اُس جیسی نازو نعم میں پلی بڑھی آزاد فضائوں میں رہنے والی لڑکیوں کو اپنے جیسوں میں ہی شادی کر نی چاہیے کیونکہ اُن کا گذارادووقت کی روٹی کے ساتھ مشکل سے ہوتا ہے، اور ضروری نہیں کے ساری زندگی ملک سے باہر رہنے والا عورت کی عزت نہ کرتا ہو اورشادی تو جواء ہے، اور زندگی صرف باتوں اور مفروضوں پہ نہیں گذرتی“
”ایک منٹ ایک منٹ یہ آخری لائن تو کہیں سنی سنی لگ رہی ہے“
”ہاں تو کیا ہوا، بہت سے لوگ بہت سی باتیں ایک جیسی کر دیتے ہیں، یہاں‌تو لوگوں کے ون لائنر اور ڈرامے تک آپس میں مل رہے ہیں . یہ تو ایک لائن ہے . تو کیا اب لکھنا چھو ڑ دوں“
”نہیں نہیں… یہ مطلب تو نہیں مگر اس کا مطلب یہ ہواکہ ہیروین پھر نہ ہی سمجھے“ بات پلٹ کر جھینپتے ہوئے
”ایسا ہی کچھ ہے ، کیونکہ ہیرو اسکو یہ بھی بتائے گا کہ بہت جلد اس کی شادی اسکے ماں باپ کی مرضی سے ہوگی اور وہ اپنی ہونے والی بیوی سے ملنے ہی دوبئی آیا تھا“
”ہیں؟ ہیرو منگنی یافتہ ہے آ آ آ بے چاری ہیرویئن کے ارمان تو آنسئووں میں بہہ گئے، اب کیا ہوگا؟“ اداس ہوتے ہوئے
” گانا ہوگا اور کیا”
یقیناََ ٹریجیک ہی ہوگا؟ ” اُداسی سے
” وہ میرا ہو نہ سکا میں برا کیوں مانوں” لہک لہک کے گاتے ہوئے
” یہاں کیا گانوں کی کمی ہے جو پڑوس سے اُٹھائے جا رہے ہیں ؟ ” غصے سے
” تو یہ اپنا ہی ہے پڑوسیوں نے ری میک کیا ہے بس ” فخریہ تصحیح
” اوہ ہیں… اچھا…. ” سر کجھاتے ہوئے
” پتا الف کا نہیں ہوتا اوراکڑ دوسروں کے کندھے پر رکھ کے ” ہنہہ
” اچھا اچھا! ہوگا کیا اب؟ کھسیاتے ہوئے
” ہوگا کیا…. ائر پورٹ سے آتے ہوئے دوبئی میں‌ہیرو کے ساتھ گزرے لمحات کو یاد کرتے ہوئے بیک گراونڈ میں گانا چلے گا اور اسی دوران ہیروین آنسو پونچھتی ہوئی گھر پہنچ کے ماں باپ کوشادی کے لیے ہاں کر دے گی اور شادی کی تیاریاں شروع ہو جایئں گی “
”یعنی ہیرو ہیروئین کا قصہ ختم“ ہاتھ جھاڑتے ہوئے
”ایسے کیسے ختم، شادی نہ ہونے کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ وہ ہیرو ہیرویئن نہیں ہیں. اور ویسے بھی محبتوں میں شادیاں نہیں ہوتیں پر لوگ بیاہے جاتے ہیں“
“ایک اور ڈائیلاگ؟” طنزیہ انداز
” تو؟ ڈائیلاگ ہوتے ہی کوٹ کرنے کے لئے ہیں” لاپرواء انداز میں
“اچھا جی…… آگے کیا ہوگا ؟”
“ملاقاتیں”
“ہیں! وہ کیسے؟” آنکھیں پھاڑتے ہوئے
”ارے بھئی! شادی کی تیاریوں میں ہیروئین کی کئی باراتفاقی مُلاقاتیں ہوں گی، کبھی شاپنگ مالز میں کبھی ریسٹورانٹس میں“
”یہ ہیروئین کے ساتھ ہیرو کے ملنے کے کچھ ذیادہ ہی اتفاقات نہیں ہو رہے؟“ مشکوک ہوتے ہوئے
“اور ہر بار ہیرو کے ساتھ ایک حسین فارنر لڑکی بھی ہو گی“بات ٹالتے ہوئے
”اُس کی منگتیر؟ “
”اُس کی کزن بھئی۔۔“
”اوہ اچھا!تو کیا ان کی آپس میں بات نہیں ہوگی؟“
”ہوگی اور ہیروین اُسے اپنی شادی میں انوایئٹ بھی کرے گی اداسی کے ساتھ“
”اور یہ اداسی ہیرو محسوس کر لے گا“
”ہاں! ہیں ؟ کیسے پتا؟
”بھئی ہیروکی ہر نگاہ پہ جو نگاہ ہوتی ہے“ ہی ہی ہی
”یہ تو ہے “ ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہوئے
”اچھا تو ہیرو شادی پہ آنے کے لیے مان جائے گا؟“ ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے
” جی ہاں!مان بھی جائے گا اور اپنی کزن کو بھی ساتھ لانے کی اجازت مانگے گا“
”ہیں؟ وہ کیوں؟ “
”بھئی کزن کو پاکستانی شادی دیکھنے کا شوق اور کیا۔۔۔“
” تو وہ اپنے کزن کی شادی دیکھے نہ ؟ ” خوامخواہ جیلسی والا انداز
” وہی تو دیکھنے آئی ہے بھئی .اب اُس سے جلو تو نہیں” کمینگی والی مسکراہٹ
” جلے تو جوتی بھی نہ… ہنہہہہ …. اچھا اچھا! ویسے ہیروئین کا ہونے والا شوہر کیا کرتا ہے“ بات پلٹتے ہوئے
”ارے بھئی بتایا تھا نا کہ وہ ساری زندگی ملک سے باہر رہا ہے اور اب اپنے باپ کے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹا رہا ہے“
”تو کیا وہ ہیروئین سے نہیں ملے گا؟کوئی بات چیت کوئی ایس ایم ایس کوئی وٹس ایپ کوئی انسٹا کوئی لائن وغیرہ؟“
”وہ تو ملنا چاہتا ہے کالز بھی کرے گا اور وٹس ایپ بھی کرے گا  پر ہیرویئن لائن ہی نہیں دے گی “
”کیوں؟“
”ہیروئین کی مرضی“
”ہیروئین کی یا رایئٹر کی؟“
”وہ ہی سمجھ لو“آنکھ دبا کر ہنستے ہوئے
”ہائے یہ اینڈ کب ہو گا؟“ تڑپتے ہوئے
”کیوں بھئی؟“ حیرانگی سے
”اب تو واقعی بہت انرجی ڈاون ہو رہی ہے“
”انرجی چاہیے ؟“
”کریمنل کیس والی“ جلتے ہوئے
”ہاں جی“ کمینگی سے ہنستے ہوئے
”توبہ ہے کمینگی کی“
”اچھا اچھا! کہانی اپنے انجام تک پہنچا ہی چاہتی ہے اُس کے بعد فل انرجی ملے گی پکا“، شاہانہ انداز میں دانہ ڈالتے ہوئے
”ارے واہ! جلدی بتاؤ پھر تو“
”جلدی کیا بھئی۔شادی کے فنکشن سٹارٹ ہو جایں گے، بارات آجائے گی، ہوائی فائرنگ ہو گی اور عین نکاح کے وقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” دولہا کو گولی لگ جائے گی وہ مر جائے گا اور ہیرو کی انٹری ہو جائے گی اور وہ کہے گا کہ وہ ہیروئین سے شادی کرے گا، ہیں نہ“ لمبا خیالی پلاؤ
”نہیں نہ“
”ہیں پھر؟“ آنکھیں پھاڑتے ہوئے
”خود کر لو اینڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ چڑ کر ہاتھ جھاڑ کر اوپر اُٹھاتے ہوئے
”اچھا اچھا بھئی، پھر عین نکاح سے پہلے ہوائی فائرنگ کیوں کروائی شک تو ہو گا نہ ایسا کچھ … ؟“ کھسیاتے ہوئے.
”ارے ! وہ تو بارات کا سواگت ہو گا”
” پان پراگ سے کیوں نہیں؟” بے خیالی میں
” پتا پڑوس کے انیس سو اسی کے اشتہارات کا بھی ہے اوروہاں سے چڑنا ایسے جیسے پتا نہیں کتنے محبِ وطن ہو ؟” کمینگی سے مسکراتے ہوئے
” اچھا اچھا…” خجلات سے ” پھر عین نکاح کے وقت ہو گا کیا؟”. تجسس سے.
“دولہا ہیروئین سے ملنے کی خواہش کرے گا “
” کیا ؟ کیوں کیوں؟“ آنکھیں سیکڑتے ہوئے
”بھئی!دولہا کی مرضی“
”دولہا کی یا رائٹر کی؟”
”وہی وہی“ ہنستے ہوئے“
“ہو گا کیا وہ مان جائیں گے کیا؟”
”ہونا کیا ہے، پڑھے لکھے آزاد خیال لوگ ہیں، یہ بات مان جائیں گے“
”اور ہیروئین؟“
”وہ تو دولہن بنی بیٹھی ہو گی براییڈل روم میں“
”اوہ ہو! دولہا نے بات کیا کرنی ہے ہیرویئن سے؟؟؟“
”دولہا،ہیروئین کے پاس جا کے سلام کرے گا“
”اُٹھ اوئے خیرسے صرف سلام کرنے کے لئے نکاح روکوائے گا دولہا“ اچھلتے ہوئے
”اُس کے سلام کرنے پر دولہن اُچھل کے اِسی طرح کھڑی ہو جائےگی “ اچھلنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
”ہاں تو …..دولہا نے سلام ہی تو کیا تھا کونسی پھلجڑی چھوڑی تھی جو وہ یوں اُچھل گئی“ کھسیانے انداز میں
”بھئی!دولہا کے روپ میں ہیرو جو ہو گا“ اطمینان سے
“کیا؟ کیوں؟ یہ کیسے؟ “ چلاتے ہوئے
”بھئی اب وہ اُسے بتائے گاکہ وہ اسے پسند کرتا ہے ایک دو کے علاوہ سب اتفا قات پلانٹڈ تھے او روہ اُسی سے ملنے ہی دوبئی گیا تھا“
”اوہ! تو یہ خفیہ مشن تھا ہیرو کا“ گہرا اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے
”جی ہاں“ ہنستے ہوئے
”پھر“
”پھُر“
” اِس پھُر کی تو…….. ” دانت بھینچتے ہوئے…. ” ہیروئین کیا کہے گی؟“
”بھئی اُس نے کیا کہنا ہے، تھوڑی سی ناراضی کے بعد وہ مان جائے گی اور پھر۔۔۔۔۔۔۔“
”پھر ایک ہیپی ویڈنگ بھنگڑا سونگ ہو گا اور سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے، ہیں نہ“ تپتے ہوئے
”ہاں نا“ سراہتے ہوئے
”چلو! کہانی ختم ۔۔۔ اب انرجی کا انتظام کرو“ حکم دیتے ہوئے
”انرجی ہاں اچھا! ہاں وہ کرمنل کیس میں فُل انرجی کا لنک آیا ہے، ان باکس کر دیا ہے انر جی بنا لینا “ بھاگتے ہوئے
”کیاااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااا “

 “عُروج بنتِ ارسلان کے قلم سے “

٭————————————————————————————————٭