افسانچہ : “کیا میں مائیکل بن گیا؟”۔

تحریر :         بلال حسین  وہ دروازے پر کھڑی ہوئی کسی کو سمجھا رہی تھیں اور وہ بے بس بیچارا بھی سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا اور احسان مندی کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا ۔ میں اسی مزید پڑھیں

افسانچہ : “لاپروائی” از ریما نور رضوان.

“اےمیڈم !پیسے دے دے نا”, وہ اپنی شاندار گاڑی میں بیٹھی تھی تو مانگنے والی معصوم بچی آگے پیچھے پھیرنے لگی تھی, “میڈم!کھانا کھائوں گی, پانچ روپے دے دے”۔ “پانچ سو کا پیٹرول دال دو”, میڈم نے پیٹرول پمپ پر مزید پڑھیں

افسانچہ : “یار کو ہم نے جا بہ جا دیکھا” از شمسہ فیصل۔

تحریر : شمسہ فیصل. “وصل یار” زندگی سے زندگی تک کا سفر اور “فراق یار” فنائی سے موت کے بعد تک کی اذیت،، “کیا ہے یہ محبت؟”،لبوں پہ اُترے تو شیرینی اور اندر تک جائے تو زہر.. “آہ! محبت کو مزید پڑھیں

افسانچہ : “داغ زندگی” از عالیہ چوہدری۔

حقیقت اپنے آئینے کو اٹھائے انسانوں کی خواہشوں کے سامنے پھرتی رہے تب بھی ہر شخص اس میں اپنے عکس کو دیکھنے سے کتراتا ہے۔ فریب کی لذت ہی چاہ کو تسکین دیتی ہے۔ جوگی کا جوگ زندگی کی کئی مزید پڑھیں

افسانچہ “حقیقت اور روشن خیالی”۔

چار دوست اکھٹے سفر کر رہے تھے۔ ابھی تھوڑی دور ہی چلے تھے کہ کھیتوں سے تیتر کے بولنے کی آواز آئی۔ تو ایک دوست نے کہا۔ بہت خوب کس قدر صاف لہجے مین “سبحان تیری قدرت” الاپ رہا ہے۔ مزید پڑھیں