کلمہ سنا کر یقین دلانا پڑا کیونکہ رواداری کو کٹر پن کھا گیا تھا

“بنتِ ارسلان” “میں شاکڈ حالت میں بیٹھی اُسے دیکھ رہی تھی وہ اپنے عقیدے بارے کیا کیا بتاتی رہی مجھے کوئی آوازسنائی نہیں دے رہی تھی بس میرا ذہن یہی سوچ رہاتھا کہ آگاہی عذاب ہوتی ہے” “میں جب اپوا مزید پڑھیں

ناولٹ : “اور دُنیا کا عشق “گھائو” بن کر چمٹ جاتا ہے” نعمان محمد.

“گھاؤ”۔ تحریر : نعمان محمد۔ “انسان کا پیدا ہونا اور پھر مرجانا،یہ اُس کے اپنے اختیار میں نہیں لیکن اس پیدائش اور مرنے کے درمیانی وقفے میں جو کچھ بھی ہوتا ہے یا وہ کرتا ہے یہ سب اُس کے مزید پڑھیں

”ویلنٹائن نامہ”

“بنتِ ارسلان کے قلم سے …. ” “محبت “امر ہونے کا نام ہے اور امر ہونے کے لئے محبت میں محبت پر محبت کے لئے محبت کومرنا ضروری ہوتا ہے”۔ “اور جو محبت میں مر نہیں سکتے وہ شادی شدہ مزید پڑھیں

ناولٹ : “ہوائے صُبح” از ردا کنول.

کھڑکی بند تھی اور اُس کے آگے بھاری پردے پڑے تھے, باہر سے آتی آوازیں جانے کیسے راستہ بناتی ہوئی اندر تک آرہی تھی,گھر میں پہلے کبھی اس قسم کا شور سننے کو نہیں ملا تھااُسے سمجھ نہیں آیا وہ مزید پڑھیں

مقالہ خصوصی : “میرا اسمعٰیل تم ہو” از عروج بنت ارسلان.

“ایک کہتا ہے کہ عید کے دن معصوم جانوروں کی قربانی کی بجائے نفس کی قربانی کرو. دوسرا کہتا ہے کہ اپنے پیارے کی قربانی کرو؟. تیسرا مزاح میں کہہ دیتا ہے کہ اسلام میں قربانی کے نام پرسب سے مزید پڑھیں

افسانہ : “ڈائین” از محمد یاسر.

تحریر : محمد یاسر. “اپنے بارے میں بات کرنا تم انسانوں کیلئے ہمیشہ سے بے حد آسان کام رہا ہے لیکن میرے لئے یہ ایک بے وقوفی کا مگر دلچسپ کھیل کی طرح ہے,اپنا آپ عیاں کرنا کچھ اتنا بھی مزید پڑھیں