ناولٹ : “ہوائے صُبح” از ردا کنول.

کھڑکی بند تھی اور اُس کے آگے بھاری پردے پڑے تھے, باہر سے آتی آوازیں جانے کیسے راستہ بناتی ہوئی اندر تک آرہی تھی,گھر میں پہلے کبھی اس قسم کا شور سننے کو نہیں ملا تھااُسے سمجھ نہیں آیا وہ مزید پڑھیں

مقالہ خصوصی : “میرا اسمعٰیل تم ہو” از عروج بنت ارسلان.

“ایک کہتا ہے کہ عید کے دن معصوم جانوروں کی قربانی کی بجائے نفس کی قربانی کرو. دوسرا کہتا ہے کہ اپنے پیارے کی قربانی کرو؟. تیسرا مزاح میں کہہ دیتا ہے کہ اسلام میں قربانی کے نام پرسب سے مزید پڑھیں

افسانہ : “ڈائین” از محمد یاسر.

تحریر : محمد یاسر. “اپنے بارے میں بات کرنا تم انسانوں کیلئے ہمیشہ سے بے حد آسان کام رہا ہے لیکن میرے لئے یہ ایک بے وقوفی کا مگر دلچسپ کھیل کی طرح ہے,اپنا آپ عیاں کرنا کچھ اتنا بھی مزید پڑھیں

بنتِ ارسلان! آؤ کہانی پکائیں

“مکالمہ خصوصی” ”لو جی!اب ہم کہانی لکھیں گے۔“ ”کس پہ لکھیں گے؟“سرسری انداز میں. ”ارے! کاغذ پہ یا پھر ان پیج پہ، ای میل کرنے میں آسانی ہوگی“۔۔ ”اب یہ میل کس کوکرنی ہے؟“. ”عبدالغفورنانبائی کو“,اطمینان سے. ”ہیں؟ نانبائی کو؟ مزید پڑھیں

افسانہ : “اعتراف”.

تحریر: حمیرا فضاء. “ہمارے گھر کا ماحول انتہائی مذہبی تھا‎‏اور ابا جی جلالی طبیعت والے اصول پرست انسان,اماں بنا چوں و چرا اُن کے ہر حکم کی بجا آوری کرتیں,اور باقی بہن بھائی کی طرح میں بھی اُن کے ہر مزید پڑھیں