دُھندلا آئینہ : “مجھے اس Harassment سے بچائو” از عروج بنت ارسلان.

ڈیر فیس بک یوزر،
مجھے فیس بک استعمال کرتے ہوئے اگلے ماہ دس سال ہو جائیں گے،
میں اپنے بارے میں تھوڑا سا بتا دوں کہ میں اپنے گھرانے کی واحد لڑکی ہوں جو میڈیا میں آئی وہ بھی شدید مخالفت کے بعد اپنی ضد پرلیکن سب اعتراضات و تحفظات کے باوجود مجھے اپنے گھرانے کی بیک اپ سپورٹ ہمیشہ حاصل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ میں تین سال سے ایک دوسرے شہر میں اکیلی رہ رہی ہوں اور یہاں، میں ضرورت کے نام پر Harassment کا شکار نہیں ہوتی.
ہاں! تو میں بتا رہی تھی کہ میں نے مختلف چینلز، تھیٹر کے ساتھ تھوڑا تھوڑا کام کیا ہوا ہے اور ابھی بھی کر رہی ہوں۔
میرے پاس ڈی ایس ایل آر بھی ہے تو فوٹوگرافری بھی کر لیتی ہوں,جب لکھنے کا دل کرتا ہے تو فیس بکی رائٹر بن جاتی ہوں، جو دل کرتا ہے کر لیتی ہوں، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ۔
مگر پھر بھی میں “وہ” لبرل نہیں۔
مجھے میری حدود کا اندازہ بخوبی ہے۔
میں اپنے کام کی بنا پر رات کو گھر دیر سے بھی آتی ہوں اور مجھے اندازہ ہے کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے مگر میں بھی وہی سوچوں جو لوگ سوچتے ہیں تو پھر لوگ کیا سوچیں گے؟ اِسی لئے میں لوگوں کو سر پر سوار کرنے کی بجائے اپنی حدود کے دائرے کو “اپنے وسیع تر مفاد میں”کر لیتی ہوں۔
ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ اِن دس سالوں میں میرے پاس 960 لوگ ایڈ ہوئے، جس میں میری اپنی فیملی ، رشتے دار جن کی تعداد 20/25 ہے اورمیرے قریبی دوست جن کی تعداد با مشکل 4/5 ہی ہے اور 10 کے قریب مرحومین ہیں (جن میں سے کچھ کی آئی ڈیز خود بند ہو گئیں تو ٹھیک ۔۔۔۔ورنہ مجھ سے تو نا ہو پائیں).
اِس کے علاوہ فیملی فرینڈز،میرے ٹیچرز، جہنیں میں نے2000ء میں ویلنٹائن پر گوبھی کا پھول بھجوایا تھا، خود 2011 میں فیس بک پر تلاش کر کے فرینڈ ریکوئسٹ سینڈ کی اور اُنہوں نے ان باکس میں مجھ سے سوالات کئے اور پھر یقین ہو جانے کے بعد کہ میں ہی گوبھی کا پھول والی اسٹوڈنٹ ہوں تو خوشی خوشی ایڈ کر لیا
میرے ڈینٹسٹ کی فیملی،
ڈینٹسٹ یعنی دانتوں والا ڈاکٹر، ٭منہ کے قریب ترین٭ جو جب چاہے آپ کا منہ کُھلوا سکتا ہے اور بند بھی کرواسکتا ہے..
ہرمسلک، ہر زات سے دوست
میرا جم ٹرینر،
دوسرے ملکوں سے بننے والے دوست
مختلف گروپس میں بننے والے دوست،
جن میں سے چند سے ہی ملی ہوں گی بالمشافہ،
(اکثر گروپس پبلک ہیں اکثر کلوز گروپس)
اور وہ لوگ بھی جنہیں میں بہت کم جانتی ہوں
اور وہ بھی جہنوں نے بنا کسی غرض کے ہر موڑپر میری مدد کی جبکہ وہ میرے فیس بکی فرینڈز ہیں

اِن سب کے ساتھ ساتھ فیس بک نے ایک کام تو یہ کیا کہ وہ لوگ جن تک پہنچنا ایک خواب لگتا تھا اُن سب کو ایک پلیٹ فارم دے کر نزدیک کر دیا۔
جہاں جہاں کام کیا وہاں کےآفس کولیگز، پرانے باسسز، ایگزیکٹیوز،ایگزیکٹیوز سے یاد آیا کہ ۔
جب اے پلس لانچ ہونے سے پہلے اے ٹی وی میں فیس بک پر زیادہ تر گیمز کھیلنے کی وجہ سے پابندی لگا دی گئی تھی توایک میٹنگ میں جس میں ایم ڈی اے پلس راشد خواجہ صاحب شامل تھے اور میری اُن سے بات اکثر ان باکس کے زریعے ہی ہوئی تھی اُن کو اُس وقت فیس بک کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے فیس بک پر سے پابندی ہٹؤائی تھی کہ ” سر! فیس بک پر گیمز کھیلنے کے علاوہ بہت سے لوگوں سے انٹرایکشن کرکے ہم اُن تک پہنچ سکتے ہیں ورنہ کوئی ایسا پلیٹ فارم دے دیں جہاں سے ہم مشہور لوگوں کی ایکٹیوٹیز دیکھ کر اُن سے رابطہ کر سکیں.” سو پابندی ہٹا دی گئی پھر.
میرے پاس مشہور اداکار، (اکثر اداکار’’فارم ویلی‘‘ کے زمانے میں بنے اور تب سے ایڈ ہیں۔ کچھ کی تو دو دو تین تین آئی ڈیز بھی ایڈ ہیں)
اِس کے علاوہ ہدایتکار،گلوکار، مصنف، شاعر، موسیقار،صحافی، اینکرز، نیوز اینکرز،ادبی لوگ، وکیل، سیاسی لوگ، سوشل ورکرز، ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا جم غفیر ہے.
اکثر اداکاروں/فنکاروں کے فیملی ممبرز بھی ایڈ ہیں ’’ کچھ نے مجھے ایڈ کیا اور کچھ کو میں نے خود ایڈ کیا۔
اِن میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جن سے میری ملاقات ایک بار ہی ہوئی ہوگی اور ابھی بھی بہت سے ایسے ہیں جن سے ملاقات تو کیا بات بھی نہیں ہوئی ہوگی، مگر میرے پاس وہ ایڈ اور اُن کے پاس میں ایڈ ہوں۔

اور اگر میں نے کسی کو فرینڈ ریکوئسٹ سینڈ کی ہو اور وہ ایکسیپٹ ہو جائے تو ایک ’’شکریہ‘‘ کا میسج ضرور کر دیتی ہوں۔
اور جنہیں میں ایڈ نہیں کرنا چاہتی میں ’’کنفرم‘‘ کے ساتھ والا ’’ ریمو‘‘ کا بٹن پش کر کے سکون کرتی ہوں۔ مگر بلاک لسٹ ابھی تک خالی ہے۔
(سوا گیمز ریکوئسٹس کے۔ جو بھی سینڈ کرتا ہے وہ گیم ہی بلاک کر دیتی ہوں. میں بس ” اینگری برڈ “کھیلتی ہوں)

جب کوئی مجھے فرینڈ ریکوئسٹ سینڈ کرتا ہے جسے میں قطعاَ نہیں جانتی اور مجھے اُسے ایڈ بھی نہ کرنا ہو اور اُس بندے/بندی کے میچول فرینڈز کی تعداد کم ہو یا زیادہ ،تو بھی میں اُس کی پروفائل ضرور دیکھتی ہوں۔

(آدرزOther’s)
والے میسجز میں جب کوئی کام والی بات ہوتی ہے تو ’’ ایڈمیسنجر‘‘ کی آپشن استعمال کر لیتی ہوں۔ اور اِس کے لئےیہ ضروری بھی نہیں کہ بعد میں ایڈ بھی کروں فیس بک پر۔

کوئی غلط میسج کرے تو ایک اور آپشن ہے جو موبائل سے استعمال کی جاتی ہے یا لیپ ٹاپ ڈیسک ٹاپ سے بھی، جس کا آج کل بہت زیادہ استعمال ہے جسے ’’اسکرین شاٹس‘‘ کہتے ہیں، لیکر اپنی پروفائل پر لگا کر پرائیویسی پبلک کر دیتی ہوں۔ تاکہ اُسے بھی پتا لگ جائے کہ اُس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔

میں نے اپنے فیس بک کی پرایوئسی سیٹنگ کر رکھی ہے۔ جب بھی اپنی پروفائل تبدیل کرتی ہوں تو اُسے اپنی وال سے ہاییڈ کر دیتی ہوں اور پرانی پر ’’اونلی می یا فرینڈز‘‘ کر دیتی ہوں۔ اپنے البمز پر بھی ایسی ہی سیٹنگ کر رکھی ہے۔
مجھے پوسٹ لگانی ہو تو پوسٹ کی مناسبت سے اُسے پبلک یا فرینڈز کر دیتی ہوں۔
کوئی مجھے اپنی پوسٹ پر ٹیگ کرتا ہے جس میں میرے لئے کوئی ایسی خاص بات نا ہوتو میں ـریمو ٹیگ‘‘ کر دیتی ہوں۔ ٌ اب بھلا
(* Feeling Sleepy with 99 *)
کے ٹیگ میں میرا کیا کام؟ سو خاموشی سے ریمو کر کےپوسٹ کے رائٹ ساییڈ پر (۔۔۔)تین ڈاٹس پر کلک کر کے وہاں سے نوٹیفیکشن آف کر دیتی ہوں۔

کہنا یہ ہے کہ فیس بک کا استعمال اگر آپ نے اپنے فرینڈز اینڈ فیملی کے لئے کیا ہے تو آپ اُس کی مناسبت سے پرایئوئسی سیٹنگز کر لیں. اپنی ’’ایڈ فرینڈ‘‘ والی آپشن کلوز کر دیں۔
اور اگر آپ سلیبریٹی ہیں یا آپ نہیں چاہتے کہ لوگ آپ کو فرینڈ ریکوئسٹ سینڈ کریں لیکن آپ کی پوسٹ لائک اور شئیر کریں تو آپ اپنی “فالونگ” اوپن کر دیں۔
اور اگر پھر بھی کوئی ریکوئسٹ سینڈ کر دیتا ہے تو فیس بک نے “ریمو” کے ساتھ “بلاک” کی بھی آپشن دے رکھی ہے۔ استعمال کیجیے اور اپنی زندگی جئیں۔ لیکن اپنے مزے کے لئے کسی کی زندگی داؤ پر نا لگا دیں۔

اور اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو کسی سے پوچھ لیں کیونکہ پوچھ لینے سے کچھ نہیں جاتا مگر اکثر سمجھ ضرورآجاتی ہے۔
گلوبل ویلج کے نام پر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر رہنا اور خود کو یہاں کا طرم خان سمجھنے سے پہلے یہ جان لیں کہ مارک زکر برگ نے فیس بک اپنی گرل فرینڈ کو تلاش کرنے کے لئے بنائی تھی، مگر پھر یہ اُس کا ذریعہ معاش بن گئی اور ہم جیسوں کے لئے …………….
اور ہاں یہ مضمون اُن لوگوں کے لئے ہے جو سمجھنا چاہتے ہیں اُن کے لئے ہر گز نہیں ہے جو “اپنی زندگیوں کے خدا” ہیں ویسے بھی یہ آج کا معاشرہ، ایک مخلوط معاشرہ ہے جہاں مرد اور عورت ایک ساتھ کام کرتے ہیں ایک دوسرے کی ضرورت بن کر۔ مگر۔۔۔۔۔۔
مگر ضرورت کےنام پر کسی کو بھی ہراساں نہیں کیا جاسکتا۔
فرینڈ ریکوئسٹ ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک اندھے شخص پر یہ الزام لگانا کہ اُس نے ایک عورت کو گھورا ہے.

شکریہ
بنتِ ارسلان