کلمہ سنا کر یقین دلانا پڑا کیونکہ رواداری کو کٹر پن کھا گیا تھا

“بنتِ ارسلان” “میں شاکڈ حالت میں بیٹھی اُسے دیکھ رہی تھی وہ اپنے عقیدے بارے کیا کیا بتاتی رہی مجھے کوئی آوازسنائی نہیں دے رہی تھی بس میرا ذہن یہی سوچ رہاتھا کہ آگاہی عذاب ہوتی ہے” “میں جب اپوا مزید پڑھیں

”ویلنٹائن نامہ”

“بنتِ ارسلان کے قلم سے …. ” “محبت “امر ہونے کا نام ہے اور امر ہونے کے لئے محبت میں محبت پر محبت کے لئے محبت کومرنا ضروری ہوتا ہے”۔ “اور جو محبت میں مر نہیں سکتے وہ شادی شدہ مزید پڑھیں

دُھندلا آئینہ : “مجھے اس Harassment سے بچائو” از عروج بنت ارسلان.

ڈیر فیس بک یوزر، مجھے فیس بک استعمال کرتے ہوئے اگلے ماہ دس سال ہو جائیں گے، میں اپنے بارے میں تھوڑا سا بتا دوں کہ میں اپنے گھرانے کی واحد لڑکی ہوں جو میڈیا میں آئی وہ بھی شدید مزید پڑھیں

اے وطن پاک وطن.

اے اے وطن پیارے وطن. اے وطن پاک وطن. پاک وطن پاک وطن. اے میرے پیارے وطن. تجھ سے ہے میرے تمنائون کی دنیا پُرنور. عزم میرا ہے قوی میرے ارادے ہیں غیور. میری ہستی میں انا ہے میری مستی مزید پڑھیں

” یہ دادا کا پاکستان نہیں”

دادا میاں ہمیشہ کی طرح لائبریری میں بیٹھے کتابوں میں گم .دروازے پر فضلو چائے لایا دادا میاں اندر آجاؤں؟ چشمے کے اوپر سے جھانکتی آنکھیں ہاں آجاؤ چائے ٹیبل پر رکھی.. فضلو؟یہ باہر شور کیسا ہے؟ وہ دادا میاں مزید پڑھیں

افسانہ : “سودا” از صوفیہ کاشف.

        “آج آپکو دیر تک رکنا پڑے گا میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنا کام ختم کر کے ہی جاییں. ہم کوئی بھی کام ہفتہ کی صبح تک نہیں لٹکا سکتے”               مزید پڑھیں