کلمہ سنا کر یقین دلانا پڑا کیونکہ رواداری کو کٹر پن کھا گیا تھا

“بنتِ ارسلان” “میں شاکڈ حالت میں بیٹھی اُسے دیکھ رہی تھی وہ اپنے عقیدے بارے کیا کیا بتاتی رہی مجھے کوئی آوازسنائی نہیں دے رہی تھی بس میرا ذہن یہی سوچ رہاتھا کہ آگاہی عذاب ہوتی ہے” “میں جب اپوا مزید پڑھیں

اے وطن پاک وطن.

اے اے وطن پیارے وطن. اے وطن پاک وطن. پاک وطن پاک وطن. اے میرے پیارے وطن. تجھ سے ہے میرے تمنائون کی دنیا پُرنور. عزم میرا ہے قوی میرے ارادے ہیں غیور. میری ہستی میں انا ہے میری مستی مزید پڑھیں

” یہ دادا کا پاکستان نہیں”

دادا میاں ہمیشہ کی طرح لائبریری میں بیٹھے کتابوں میں گم .دروازے پر فضلو چائے لایا دادا میاں اندر آجاؤں؟ چشمے کے اوپر سے جھانکتی آنکھیں ہاں آجاؤ چائے ٹیبل پر رکھی.. فضلو؟یہ باہر شور کیسا ہے؟ وہ دادا میاں مزید پڑھیں

افسانہ : “آخری شکست” از محمد انس حنیف.

اور مجھے شکست ہو چکی تھی ۔آخری شکست۔۔آخری مات۔۔ کیونکہ اب میرے اندر کوئی بھی مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔ مجھے لگا شاید میں منہ کے بل گرا تھا‘ شاید نہیں یقینََا میں منہ کے بل ہی گرا مزید پڑھیں

افسانہ : “سودا” از صوفیہ کاشف.

        “آج آپکو دیر تک رکنا پڑے گا میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنا کام ختم کر کے ہی جاییں. ہم کوئی بھی کام ہفتہ کی صبح تک نہیں لٹکا سکتے”               مزید پڑھیں

ہمت کرے کوئی

::بنت ارسلان:: !!!ہمت کرے کوئی کالج اور یونیورسٹیز کی پڑھائی کے بعد ھم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ باہر کی دنیا کو اب ھم سے بہترکوئی نہیں چلا سکتا،نظام بدلنے کی خواہش، معاشرے کی بے حسی اور حکومت کو الزام مزید پڑھیں